Breaking News
Voice of Asia News

ْنفرت کو پالنے پوسنے والا معاشرہ یا ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ہے، سردار مسعود خان

اسلام آباد( وائس آف ایشیا )آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ نفرت کو پالنے پوسنے والا کوئی معاشرہ یا ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ محبت، احترام آدمیت اور اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھنے والی تہذیبیں اور معاشرے ہی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔بھارت کے حکمرانوں نے پاکستان سے دشمنی اور بھارتی مسلمانوں سے نفرت کو اپنی قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کا جو نیا فارمولہ دریافت کیا ہے وہ زیادہ دیر چلنے والا نہیں اور بھارتی معاشرہ جلد یا بدیر اپنی سلگائی ہوئی نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی نئی کتاب ’’ارض موعودہ‘‘ (A Promised Land) میں بھارت کے بارے میں لکھے گے ایک اقتباس پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ براک اوباما نے واضح طور پر تحریر کیا ہے کہ بھارتی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر تشدد نے اپنے لئے وسیع جگہ بنا لی ہے جہاں پاکستان کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار قومی اتحاد و یکجہتی حاصل کرنے کا مختصر ترین راستہ اور تیر بہدف نسخہ سمجھا جاتا ہے۔صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے جو رہنما اور جماعتیں تشدد، پاکستان کے ساتھ دشمنی اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے کر ہندوستان کو ایک مضبوط او رمستحکم ملک بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں انہیں برصغیر کی اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ مسلمانوں نے وہاں ایک ہزار سال تک حکمرانی کی لیکن اُن کی حکمرانی کی بنیاد انسانوں کی تقسیم پر نہیں بلکہ احترام انسانیت پر رکھی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہندتوا یا ہندو بالا دستی کا نظریہ بھارت کے موجودہ حکمرانوں کو وقتی طور پر فائدہ ضرور پہنچا سکتا ہے لیکن اس نظریے کے پھلنے پھولنے سے ہندوستانی معاشرے میں ایسی دراڑ پیدا ہو جائے گی جو شاید کبھی ختم نہ ہو سکے اور اس کی قیمت ہندوستان کی آنے والی کئی نسلیں ادا کرتی رہیں گی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ اور اُن جیسے کئی دیگر لیڈر دور اُفق پر چھائی بھارت کے لئے خطرات کی گھنگھور گھٹائوں کو دیکھ رہے ہیں لیکن وہ شاید کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ ریاست کے عوام کے خلاف بھارتی حکمرانوں کی انتقام کی پیاس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کے محاصرے، کرفیو اور لاک ڈائون کے بعد سے اب تک 256کشمیریوں کو شہید اور سینکڑوں شہریوں کو زخمی اور معذور کیا گیا اور اسی طرح تیرہ ہزار سے زیادہ شہریوں جن میں کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے کو گرفتار کر کے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام تر جبر وتشدد اور ظلم کے باوجود کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کے لئے آواز آج بھی پوری طرح توانا اور بلند ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے