Voice of Asia News

بی جے پی حکومت ہندو لڑکیوں کی مسلمانوں سے شادی پرخوفزدہ، سخت قوانین

لکھنئو(وائس آف ایشیا ) اٴْتر پردیش میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے ہندو لڑکیوں کو تبدیلی مذہب کے حق سے محروم کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ شادی پر قدغن لگانے کے لیے قانون منظور کرلیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کی کابینہ نے بظاہر شادی کیلئے تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے ایک قانون منظور کرلیا ہے جس میں 10 سال تک قید کی سزا رکھی گئی ہے۔حال ہی میں بھارت کی جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں تبدیلی مذہب کے حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں اتر پردیش کے علاوہ ہریانہ اور مدھیہ پردیش بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے ’’لو جہاد‘‘ کے نام سے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا شروع کررکھا ہے جس کے مطابق مسلمان شادی کرنے کی آڑ میں ہندو لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کرواتے ہیں۔قانون کا دفاع کرتے ہوئے یوپی کے ترجمان سدھارت ناتھ سنگھ نے کہا کہ تبدیلی مذہب کی آڑ میں فریب، جھوٹ ، زبردستی اور بددیانتی تکلیف دہ ہے اس لیے اس حوالے سے قانون لانا ضروری ہے۔یوپی حکومت کے ترجمان کے مطابق شادی کے لیے اگر نابالغ یا شیڈیول کاسٹ سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے تبدیلی مذہب کروایا جائے گا تو سزا 3 سے 10 برس اور جرمانہ 25 ہزار روپے ہوگا۔ اسی طرح اجتماعی سطح پر تبدیلی مذہب کروانے پر 10 سال سزا ور 50 ہزار جرمانہ ہوگا۔ترجمان کے مطابق اگر کوئی شادی کے بعد مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم اس صورت میں ضلعی مجسٹریٹ کو دو ماہ پہلے آگاہ کرنا ہوگا اور اجازت ملنے ہی پر مذہب تبدیل کیا جاسکے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے