Voice of Asia News

پیکا آرڈی نینس میڈیا پر قدغن :محمد قیصر چوہان

پاکستان کی صحافتی تنظیموں، سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن ،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اپوزیشن پارٹیوں ہی نہیں بلکہ بعض حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) میں ترامیم کے متنازعہ صدارتی آرڈی نینس کی شدید مخالفت کی ہے ۔لیکن اس کے باوجودپاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترامیم پر نظر ثانی سے انکار کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کے اجلاس میں اظہارِ رائے کی آزادی پر نئی قدغنیں لگانے والے اس کالے قانون پر اعتراضات رد کرتے ہوئے وزیراعظم اور حکومتی شخصیات کی مبینہ کردار کشی میں ملوث عناصر کے خلاف اسی ترمیمی آرڈی ننس کے تحت، جسے خاص اسی مقصد کے لیے ڈھالا گیا ہے، کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متنازعہ آرڈی ننس کے ذریعے صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق سلب کرنے کی اس کھلی کوشش کے خلاف میڈیا اور صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پیر کو وزارتِ اطلاعات کی جانب سے بلائے گئے اجلاس سے واک آؤٹ کیاتھا اور اعلان کیا کہ ڈریکونین ترامیم واپس لینے تک اس معاملے میں حکومت سے مذاکرات معطل رہیں گے۔
پیکا قانون 2016میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بنا تھا۔ اس وقت بھی میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اسے آزادی صحافت اور اظہارِ رائے کے حق کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت اب اس سے بھی بہت آگے چلی گئی اور اس کا دائرہ ریاستی اداروں تک بڑھا کر شہریوں کو ان کے بارے میں آواز اٹھانے کے حق سے بھی محروم کردیا حالانکہ حکومت اور سرکاری اداروں سے عوام کو شکایات پیدا ہوتی رہتی ہیں اور ان کے ازالے کے لیے ان شکایات کو میڈیا کے ذریعے منظر عام پر لانا ان کا آئینی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام میڈیا تنظیمیں آزادی اظہارِ رائے کے تحفظ اور عوام کے اطلاعات تک رسائی کے حق کی حفاظت کے لیے متحد اور سراپا احتجاج ہیں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں میڈیا تنظیموں سے یک جہتی کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں جھوٹی خبر یا فیک نیوز کے تدارک کے لیے پہلے ہی قانون موجود ہے۔ سرکاری ادارے بھی موجود ہیں جو میڈیا پر نظر رکھتے ہیں، پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا کوئی بھی کونٹینٹ انتہائی چھان پھٹک اور ذمے داری سے شایع کرتا ہے، البتہ سوشل میڈیا میں ایڈیٹوریل چیک نہ ہونے کی بنا پر غیر ذمے داری کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا لیکن یہاں بھی سائبر کرائمز ایکٹ موجود ہے۔ویسے بھی دنیا کے جمہوری اور مہذب ملکوں میں حکومت کی پالیسیوں اور حکمرانوں پر تنقید ہوتی رہتی ہے، امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں سوشل میڈیا پر کیا کچھ نہ کہا گیا، موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن پر بھی تنقید ہوتی ہے،انگلینڈ میں شاہی خاندان تک پر تنقید کی جاتی ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید بھی ہوتی ہے اور ان کا مذاق بھی بنایا جاتا ہے لیکن ان ملکوں میں تنقید کرنے والوں کو گرفتار کرکے فوراً جیلوں میں نہیں ڈالا جاتا۔گرفتاری اس وقت ہوتی ہے جب کورٹ ٹرائل میں جرم ثابت ہوجائے لیکن پاکستان میں جیسے ہی کسی پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے ، اسے سب سے پہلے گرفتار کرکے حوالات میں بند کیا جاتا اور پھر جیل بھیجا جاتا ہے ،آخر میں جب مقدمہ اختتام پذیر ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ملزم پر جرم ثابت نہیں ہوا۔اب اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے والے ، اسے گرفتار کرکے جیل بھجوانے والے اورمقدمے کی تفتیش کرکے چالان عدالت میں پیش کرنے والے سرکاری اہلکارکا احتساب کرنے پر قانون خاموش ہوجاتا ہے، یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔اگر کسی نے جھوٹی، غلط خبر دی یا کسی پر بہتان باندھا ، تو اس پر ہتک عزت قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ مہذب ملکوں میں قانون سازی کرتے ہوئے انصاف کی کسوٹی سخت ہوتی ہے۔قانون نقائص اور ابہام سے پاک ہوتا ہے، قانون میں ریاست، حکومت ، ادارے یا کسی بالادست کو یکطرفہ سہولت نہیں دی جاتی لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا، پاکستان میں متعدد ایسے قوانین موجود ہیں اور اب بھی بنائے جارہے ہیں، جن میں جان بوجھ کر ابہام رکھا جاتا ہے، ریاست، حکومت ، اداروں کو یکطرفہ اختیارات اور سہولتیں قانون کے ذریعے فراہم کردی جاتی ہیں۔
جمہوری نظام میں منتخب نمایندوں پر مشتمل پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے۔ آئین کی تشکیل ہو یا روٹین کی قانون سازی‘ پارلیمنٹ میں ہی انجام پذیر ہوتی ہے اور یہی اس کا فرض منصبی ہے۔جنگ یا کسی آسمانی آفت وغیرہ کے نتیجے میں رونما ہونے والی ہنگامی صورت حال میں جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہورہا ہو اور اسے طلب کرنا بھی ممکن نہ ہو تو حکومت آئین میں متعین مدت کے لیے صدارتی فرمان کے ذریعے وقتی طور پر قانون سازی کرسکتی ہے لیکن مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے متعلقہ صدارتی آرڈیننس کا پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا لازمی ہوتا ہے اور پھر یہ عوامی نمایندوں کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ صدارتی فرمان کو بعینہ منظور کرلیں ، مکمل طور پر مسترد کردیں یا اس میں ترامیم کرکے مستقل قانون کی شکل دیں۔لیکن موجودہ دور میں قانون سازی کے لیے جتنے بڑے پیمانے پر اور عموماً بلاجواز طور پر صدارتی فرامین کا سہارا لیا جارہا ہے وہ جمہوری اصولوں اور روایات کی رو سے کسی طور قابل اطمینان نہیں۔ موجودہ حکومت کے ساڑھے تین برسوں میں 63 صدارتی آرڈیننس اور چھ صدارتی آرڈر جاری کیے گئے ہیں جن میں سے بیشتر معاملات میں براہ راست پارلیمنٹ میں قانون سازی ممکن تھی۔اہم قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے صدارتی آرڈی نینس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، جمہوری روایات اور پارلیمنٹ پر عدم اعتماد کرنا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ نہ صرف ملک وقوم بلکہ خود اس کے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے بھی جمہوری روایات کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مستحکم کرنا بہتر ہے۔؂پارلیمنٹ کو آئین کے مطابق حقیقی مقام اور اختیارات دے کر ہی قومی یکجہتی اور اتحاد کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جب کہ غیرجمہوری طور طریقے انتشار اور خلفشار کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں