Voice of Asia News

حجاب کے خلاف بھارتی عدالت کافیصلہ تعصب پر مبنی: سید اقبال احمد ہاشمی

بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسند نوجوانوں کے ہجوم کے اقدام کی تائید کرتے ہوئے کرناٹک کی عدالت نے تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے حجاب لینے پر حکومتی پابندی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ حجاب مسلم لڑکی کی شناخت کا حصہ ہے جس کے خلاف بھارتی عدالت کا فیصلہ واضح مسلم دشمنی کی دلیل ہے۔تعلیمی اداروں میں مسلمان طالبات کے حجاب پر پابندی لگائے کا بھارتی عدالت کا فیصلہ مذہبی ہم آہنگی کے اصولوں کے برعکس اور حقوق انسانی کے منافی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد بھارت میں انتہا پسندی کو اب کھلی چھوٹ مل گئی ہے، انتہا پسندی کی عدالتی چھوٹ ہندو انتہا پسندوں کے حوصلوں کو مزید بڑھا دے گی،اب بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات میں مزید تیزی آئے گی۔بھارت کی حکومت کے ظلم کے خلاف مسلمانوں کو عدلیہ سے بھی انصاف نہیں ملا اور اس نے بھی فرقہ پرست متعصب حکومت، اوباش نوجوانوں کے ہجوم اور فسادی ذہنیت کی تائید کردی ہے۔ اب یہ تحریک کرناٹک سے پورے ہندوستان میں پھیل رہی ہے۔
بھارت کی ریاست کرناٹک میں قائم بی جے پی کی حکومت نے حجاب کے معاملے پر ہونے والے تنازعے کے بعد تعلیمی اداروں میں حجاب لینے والی مسلم طالبات پر پابندی عائد کردی تھی۔ یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی تھی جب انتہا پسند اور اوباش نوجوانوں کے ہجوم نے حجاب لے کر تعلیمی اداروں میں آنے والی مسلم طالبات کا گھیراؤ شروع کردیا تھا۔ ایسے ہی ایک واقعے کی ویڈیو سماجی ذرائع ابلاغ پر وائرل ہوگئی تھی جس میں جرأت مند طالبہ تنہا اوباش دہشت گرد نوجوانوں کے ہجوم کا بہادری سے مقابلہ کررہی تھی۔ انتہا پسند جنونی نوجوانوں کے سامنے اپنے مذہبی حکم پر عمل کرتے ہوئے اس نے اﷲ کی کبریائی کا اعلان کیا تھا۔ اس واقعے نے ریاست کرناٹک کی مسلمان طالبہ مسکان کو جرأت و استقامت کی علامت بنادیا تھا۔ اس موقع پرحکومت نے فساد برپا کرنے والے انتہا پسند نوجوانوں کے ہجوم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے کی ذمے داری ادا کرنے کے بجائے فسادی نوجوانوں کی پشت پناہی کی اور مسلان طالبات کے بنیادی حق کو پامال کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کردی تھی۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کرناٹک کی عدالت میں پانچ طالبات نے انصاف اور حق کے حصول کے لیے درخواست دائر کردی تھی جس کے بارے میں عدالت عالیہ نے 25 فروری کا تحریر کردہ محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فسادی گروہ کی بدمعاشی کی توثیق کردی۔ حجاب کے بارے میں بھارت کی ریاستی عدالت کا فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے۔ بھارت میں مسلم دشمنی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بھارت میں ایک مختصر گروہ ہے جو مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندی پر عمل پیرا ہے لیکن ہندو انتہا پسندی کے اثرات سابقہ متعصب فرقہ پرست تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے حوالے سے ہر ادارے میں پہنچ گئے ہیں اور جو جتنا متعصب اور فسادی ہے وہ اتنا ہی عوام میں مقبول ہے۔ اس حقیقت کا مظاہرہ بھارت کی یوپی کے نتائج ہیں۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت اور آبادی کے 19 فی صد ہیں، جن کے لیے زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔ مسلم کش فسادات کی تاریخ ہے جس کا سلسلہ انگریزوں کے دور حکومت کے آخری دور میں شروع ہوگیا تھا۔ شدھی تحریک سے لے کر گھر واپسی مہم تک ارتداد کی جابرانہ تحریک مسلسل جاری ہے۔ لیکن اس میں کامیابی نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے متعصب ہندوؤں کا غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ اس طبقے کو حکومتی سطح کے بعد عدالتی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ حجاب کا مسئلہ مذہبی آزادی کے حق کا بھی مسئلہ ہے اور خواتین کے بنیادی انسانی حق کا بھی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ جس تناظر میں بھارت کی ریاست کی ایک عدالت میں گیا تھا وہ یہ تھا کہ متعصب اوباشوں کے ہجوم طالبات کو ہراساں کررہے ہیں، اس لیے یہ مقدمہ امن وامان سے بھی متعلق ہے لیکن عدالت نے متوقع طورپر نہ صرف حکومت کے ایک جابرانہ قدم کو جائز قرار دیا ہے بلکہ سماج میں تشددانہ رویے کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ویسے بھی خواتین اور طالبات کی حرمت و عزت اوباشوں سے محفوظ نہیں ہے وہاں مذہبی تعصب کی بنیاد پر فساد کی حوصلہ افزائی کا انجام کتنا خوف ناک ہوگا، اس کا تصور اچھی طرح کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی فسادی ذہنیت کی سرپرستی کے منفی اثرات سے بھارت کا اپنا سماج بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس فیصلے کے خلاف جتنے مذمتی بیانات آئے ہیں وہ سب بھارت کے مسلمان رہنماؤں کی جانب سے ہیں، گویا بھارت کے سماج کو فساد سے بچانے کی مزاحمتی قوت کمزور ہوچکی ہے۔ اس سے قبل بھارت کی عدالت بابری مسجد کے انہدام کو بغیر کسی قانونی دلیل کے جائز قرار دے چکی ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ بھارت کا کوئی بھی ادارہ مسلمانوں کے حوالے سے اپنے مذہب اور آئین کی پاسداری کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ جو قوم اپنے داخلی دائرے میں کروڑوں انسانوں کو شودر قرار دے کر غیر انسانی زندگی بسرکرنے پر مجبور کردینے کی صدیوں کی تاریخ رکھتی ہو اس سے کسی بھی رویے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کرناٹک عدالت عالیہ کے متنازع فیصلے کو ایک اور مسلم طالبہ نے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا ہے۔ کیا بابری مسجد کے فیصلے کے بعد عدالت عظمیٰ سے کوئی توقع کی جاسکتی ہے۔ بھارت میں تو ان مسلمانوں کے لیے بھی حالات ناسازگار ہوگئے ہیں جو تہذیبی و ثقافتی سطح پر ان کے رنگ میں رنگ گئے ہیں، بس ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں، جس کی شہادت اسی دن آئی ہے جس روز یہ فیصلہ آیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق آر ایس ایس کے غنڈوں نے ایک سینما گھر پر دھاوا بول دیا، فلم بینوں کو اس بات پر ڈرایا اور دھمکایا کہ وہ مسلمان نام رکھنے والے اداکاروں بالخصوص شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کی فلمیں نہ دیکھیں۔ بھارت کا سماج فاشزم کی طرف بڑھ رہا ہے ،بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی اور خواتین کی جبری عصمت دری کا اعلان کھلم کھلا کیا جارہا ہے اور بھارت کی مسلم دشمن متعصب انتہا پسند حکومت ایسے پست مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد اور گروہوں کی سررپستی کررہی ہے۔ گائے کا ذبیحہ کرنے کے الزام میں دہشت گرد غنڈوں کے ہجوم مسلمانوں کو سرعام آگ لگا کر جلادیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں حجاب لینے والی مسلم طالبات کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ تعلیم یا اپنے مذہب پرعمل کرنے میں ایک کا انتخاب کرلیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ مسلم دنیا کے حکمران اپنے مفادات کے عوض اسلام دشمن طاقتوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں