Voice of Asia News

سیاست میں’’لوٹوں، نوٹوں اور بوٹو ں کا چرچہ ‘‘:محمد قیصر چوہان

پاکستان میں’’لوٹے‘‘اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاست میں لوٹا وہ ہوتا ہے جو ضرورت پڑنے پر ’’قوم کے وسیع تر مفاد‘‘ میں اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عوام کی ’’خدمت‘‘ کرتا ہے۔ یہ اندرون خانہ ’’مک مکا‘‘ کرکے اپنی پارٹی چھوڑ دیتا ہے اور دوسری پارٹی میں چلا جاتا ہے۔ لوٹا ہمیشہ گھومتا رہتا ہے کبھی اِدھر آتا ہے کبھی اُدھر جاتا ہے۔ بحرِ سیاست کے کئی لوٹے ’’غوطہ خور‘‘ ہوتے ہیں اور اُن کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کِدھر ڈوبے کِدھر نکلے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سیاسی پارٹیوں کے اندر لوٹے ہی لوٹے نظر آتے ہیں۔کیونکہ لوٹا ساز فیکٹریوں نے آج تک صرف ’’لوٹے‘‘ہی بنائے ہیں،اس لیے آج کل ملکی سیاست میں ’’ لوٹوں‘‘ ، ’’نوٹوں ‘‘ اور ’’بوٹوں ‘‘ کا بڑا چرچہ ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آئین کی دفعات 95 اور 54 کے تحت جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد ہر لمحہ منظر بدل رہا ہے اور صورت حال گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ فریقین نے یہ قرار داد پیش کئے جانے کے پہلے روز ہی سے سیاسی کشیدگی کو عروج تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ایک دوسرے کو ایسے ایسے القابات سے نوازا گیا اور ایسی ایسی دھمکیاں سننے میں آئیں کہ جن کا تصور تک کسی جمہوری معاشرے میں نہیں کیا جا سکتا، طرفہ تماشا یہ کہ یہ سب دھماچوکڑی جمہوریت ہی کے نام پر مچائی گئی، خاص طور پر جمعرات کے روز سندھ ہاؤس، اسلام آباد سے تحریک انصاف کے بارہ باغی ارکان قومی اسمبلی کے منظر عام پر آنے کے بعدوزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے حزب اختلاف پر ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت اور سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں تقسیم کرنے کے الزامات عائد کئے گئے،’’ضمیر‘‘ فروشی کی باتیں بھی کی گئیں۔پاکستان کی سیاست میں صرف ضمیرنہیں بلکہ انسانوں کی خرید و فروخت ،جوڑتوڑ،لین دین،جھوٹ،فریب،دھوکہ اورمنافقت یہ کوئی نئی بات نہیں۔کونساموقع اورکونسے انتخابات ایسے ہیں جس میں انسانوں کے ضمیرنہیں بکے۔؟عام انتخابات ہوں،ضمنی الیکشن یاپھرایوان بالاکامعرکہ۔ہرجگہ اورہردورمیں ان سیاست دانوں کی خریداری کے لیے منڈیاں لگیں۔وزیر مملکت فرخ حبیب کا منحرف ارکان اسمبلی کے حوالے سے کہنا ہے کہ ساڑھے تین سال ہمارے ساتھ رہنے والوں کے ضمیر اچانک نوٹوں کی چمک دیکھ کر جاگ گئے؟، انہوں نے جمہوریت کو بازار کی لونڈی سمجھا ہے۔ وزیر اعظم بھی اپنے بیانات میں ضمیر فروشی اور ہارس ٹریڈنگ کرنے کے الزامات عائد کررہے ہیں۔ بد قسمتی سے وطن عزیز کی سیاست اور اس کے سیاستدانوں میں سے کسی میں بھی کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے، سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا روائتی طور پر ماضی میں تھا۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن یہاں بات اتنی سادہ نہیں اس کے پیچھے بھی ایک کھیل ہے جو ہماری سیاست کا مسئلہ ہے۔ اس وقت ایک حقیقت تو یہ ہے اور عمران خان نے اپنے دعوں کے برعکس یہ ثابت بھی کیا ہے کہ وہ بھی نواز اور زرداری کی سیاست کا تسلسل ہیں۔ وہ بار بار اپنی الیکشن مہم کے جلسوں میں کہتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ اقتدار میں آئے تو نئے لوگوں کو موقع دیں گے اور انہیں ذمے داریاں سونپیں گے، لیکن ہم نے عمران خان کی حکمرانی میں انہیں لوگوں کو دیکھا جو ماضی کے کرپٹ تھے۔ وہ اقتدار کے گورکھ دھندے میں ویسے ہی نظر آئے جیسے پہلے والے تھے، انہوں نے ایک بار پارٹی میں انتخابات بھی کرائے۔ انتخابات کے دوران شکایات کے ازالے کے لیے جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ پارٹی کے جنرل سیکرٹر ی جہانگیر ترین اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے پارٹی میں اپنے عہدے بچانے کے لیے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ ووٹ لینے کے لیے پیسوں کا استعمال بھی کیا ہے اس لیے ان سمیت چار افراد کو پارٹی کے عہدوں سے فارغ کردیا جائے تاہم عمران خان نے جسٹس وجیہ کی بات ماننے کے بجائے، جسٹس وجیہ ہی کو پارٹی سے فارغ کردیا۔
’’ لوٹے‘‘ہی سسٹم کا ناسور ہیں اور وہی پرانے لوگ اور خاندان ان کی صفوں میں شامل ہیں جو ہر دور میں درحقیقت اقتدار ہی میں رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو تحریک انصاف میں اہم وزارتیں بھی دی گئیں اور تنظیمی ذمے داریاں بھی دی گئیں یہی وہ 140 افراد ہیں جو 2002 کے انتخاب میں ن لیگ چھوڑ کر مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے، 2008 کے انتخاب میں مسلم لیگ ق کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوگئے، 2013 میں 121 ارکان اسمبلی پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر دوبارہ مسلم لیگ ن میں آئے اور پھرآج یہ تمام تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور اب اپنی نئی منزل کر طرف کچھ چلے گئے ہیں اور کچھ جانے کی تیاری کررہے ہیں دراصل یہی دوسو افراد سسٹم کا ناسور ہیں اور ساری سیاست کھیل اور تماشا ان کے ہاتھوں بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح عمران خان تواتر سے کہتے تھے کہ میں دوسری پارٹیوں کے لوگ شامل نہیں کروں گا اصل کرپٹ یہی ہیں اور کسی سے اتحاد نہیں کروں گا کیونکہ یہ بلیک میل کرتے ہیں لیکن انہوں نے ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد پارٹی اور ق لیگ جس پر وہ سخت الزامات بھی لگائے تھے لیکن عمران خان ان کے مرہون منت ہی اقتدار میں ہیں اور وہ اپنی اگلی منزل کو دیکھ رہے ہیں۔ اور یہی لوٹوں اور مفاد پرستوں کی سیاست ہے جن کا کوئی نظریہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مقصد اور ایجنڈا ہے کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کسی نظریے اور ایجنڈے کے بغیر تھی اور نہ ہی وہ کسی خاص نظریاتی ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھ رہے تھے، آج کی صورت حال اسی کا نتیجہ ہے، اگر ان کے پاس مضبوط اور نظریاتی لوگ ہوتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔
وزیراعظم عمران خان چھوٹے چھوٹے ایم این ایزاورایم پی ایزکارونارورہے ہیں اس ملک میں توبڑے بڑوں کوبھی دنیانے نیلام ہوتے دیکھا۔اس ملک کے وہ کونسے سیاستدان اورکونسے لیڈر ہیں جوسیاست کے بازارحسن میں طوائفوں کی طرح بکے نہیں۔؟ہمیں گلی محلوں،مارکیٹوں اوربازاروں کے ساتھ سیاست کی راہداریوں میں بھی اگربیوپاری نہ ملتے توآج ہماری یہ حالت ہوتی۔؟حق اورسچ یہ ہے کہ ہماراآج تک ہرجگہ پر بیوپاریوں سے ہی واسطہ پڑا۔تاریخ گواہ ہے کہ ہمیں جوحکمران اورسیاستدان ملے وہ سب نہیں تواکثران میں بیوپاریوں سے کبھی کچھ کم نہ تھے۔ آج بھی یہ جوہمارے حکمران،ممبران اورسیاستدان بنے پھرتے ہیں یہ بھی تومویشی منڈیوں کے منشیوں،بیوپاریوں اورٹھیکیداروں سے ہرگزمختلف نہیں۔کیاسیاسی ایوانوں اورمیدانوں میں اس طرح کے سودے ہوتے ہیں۔؟کیاسیاست ضمیروں کی خریداری کانام ہے۔؟کیااقلیت کواکثریت اوراکثریت کواقلیت میں بدلنے کانام جمہوریت ہے۔؟ہم نے تواپنے بڑوں سے سناتھاکہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کااحترام کیاجاتاہے۔ مگر یہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے ،جواقلیت میں ہووہ اکثریت بن کرسینیٹراورسینیٹروں کے چیئرمین بن جاتے ہیں اورجن کے پاس اکثریت ہوتی ہے وہ اقلیت میں چلے جاتے ہیں۔ گزشتہ برس سینیٹ انتخابات میں اپنے وزیرخاص کی شکست پر وزیراعظم عمران خان نے چیخ وپکارکی لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اورپھرتحریک عدم اعتمادکے موقع پراسی وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی میں جب ضمیروں کے اسی طرح کے سودے کئے جارہے تھے اس وقت وزیراعظم صاحب کویہ برائی ،برائی کیوں نہیں لگی۔؟جب ضمیروں کی خریداری کے ذریعے اپوزیشن کی اکثریت کواقلیت میں بدلاجارہاتھااس وقت وزیراعظم صاحب کہاں تھے۔؟ملک کے باشعور لوگوں نے سیاست میں لین دین ،لوٹوں اور ضمیروں کی خریداری کونہ پہلے اچھی نظروں سے دیکھا اور نہ ہی اب اس گھناؤنے عمل اورفعل کی ذرہ بھی کوئی حمایت کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی حکمرانی اورنگرانی میں یہی کام جب پہلے ہو رہا تھاتواس وقت وزیراعظم نے اس فعل کو برا کیوں نہیں کہا؟۔ تحریک انصاف کے دوچارممبران کو ور غلانے ، کوپھسلانے یا چند ٹکوں پران کے ضمیرخریدنے پرآج بادشاہ سلامت الیکشن کمیشن اوراپوزیشن کوآڑے ہاتھوں لیکرآسمان سرپر اُٹھارہے ہیں لیکن ڈھائی تین سال قبل جب اسی بادشاہ سلامت کے ایک کامیاب’’ترین‘‘ بیوپاری جہازبھربھرکرمسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں اورپارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو ورغلا اور پھسلاکرضمیروں کی خریداری کرتے رہے اس وقت یہ بادشاہ سلامت کہاں تھے۔؟
وزیراعظم صاحب اگرایک لمحے کے لیے بھی اپنے آس پاس اور اردگرد نظر دوڑا لیں توفوادچوہدری،عمرایوب،شیخ رشید ،غلام سرور خان، اعظم سواتی،فردوس عاشق اعوان ،حفیظ شیخ اور شوکت ترین جیسے بے شمارروشن چہروں کودیکھتے ہی وزیراعظم کوفوراًمعلوم ہوجائے گاکہ ’’ضمیر فروش اور لوٹا کریسی ‘‘ کیا ہوتی ہے۔اب وہ وقت گزرگیاجب لوگ ایک دوسرے کوبیوقوف بنایاکرتے تھے،اب ہرشخص ایک سے بڑھ کر عقلمند اور با شعور ہے۔ اقتدارکی کرسی تک پہنچنے اوروزیراعظم بننے کے چکرمیں آپ کے ہاں جس طرح ’’لوٹا‘‘بازارسجایا گیا۔انتخابات جیتنے کے لیے اس وقت جس طرح ’’ضمیروں‘‘ کی خریداری ہوئی۔شائدکہ آپ وہ سب کچھ بھول گئے ہوں گے لیکن یہ عوام جس طرح نوازشریف اورآصف علی زرداری کے’’کالے کرتوت ‘‘نہیں بھولے اسی طرح ان کوآپ کاایک ایک گناہ بھی یادہے۔ماناکہ اس ملک میں منافقت اور ضمیر فروشی کی اس سیاست میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور آصف علی زرداری کابھی بڑابہت بڑاہاتھ ہوگالیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اس گناہ میں آپ کاہاتھ اورکرداربھی کسی سے کچھ کم نہیں۔عمران خان صاحب اقتدارتک پہنچنے کے نشے میں اگرآپ ان ’’لوٹوں ‘‘اور ’’بے ضمیروں‘‘کی قیمت لگاکران کوانتخابات کے لیے ٹکٹ نہ دیتے تویہ لوٹے آج اقتدارمیں کبھی نہ ہوتے۔کل جن ’’لوٹوں‘‘کی قیمت لگاکرآپ نے انکے ضمیروں کوخریداتھاآج ان ہی’’لوٹوں‘‘ کی قیمت لگا کر اپوزیشن والوں نے ان کو خریدلیاہے۔ضمیروں کی یہ خریداری اور کاروبار اگرواقعی گناہ اورجرم ہے توپھرنوازشریف اورآصف علی زرداری کے ساتھ آپ بھی بڑے گنہگاراورمجرم ہیں۔پہلے آپ قوم سے معافی مانگیں پھران کومعافی مانگنے کے لئے کٹہرے میں لائیں لیکن اپنے آپ کوفراموش اوراپنے گناہوں کوبھول کردوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے نہ پہلے کچھ ہوانہ آئندہ کچھ ہونے والاہے۔وزیراعظم اگرسیاست سے ضمیرفروشی ختم کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تووہ پھراپنے آس پاس جمع ہونے والے ان ’’لوٹوں ‘‘ کولات ماریں،پھردیکھیں کہ ضمیرفروشی کایہ کاروبارختم ہوتاہے کہ نہیں۔لوٹوں کوبغل میں چھپانے سے لوٹوں کایہ کاروبارکبھی ختم نہیں ہوتابلکہ یہ مزیدبڑھتاہے کیونکہ لوٹا ،لوٹا ہی ہوتاہے۔
پاکستان 1947 میں آزاد ہوا، کافی ممالک ہمارے بعدمیں آزاد ہوئے مگرسب نے ترقی کی لیکن نہ ہی ہمارے ملک میں ترقی ہوئی اور نہ ہی جمہورت آسکی حالانکہ اس ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں، زراعت ، معدنیات، ہنر اور محنت کشوں سے یہ ملک مالا مال ہے اور ہم نے یہ ملک بھی جمہوری طریقے سے ہی حاصل کیا ہے، مگرموقع پرستوں جن میں جاگیرداروں، سرداروں، خانوں، وڈیروں اور سرمایہ دار سیاستدانوں کی اکثریت ہے انہوں نے خود کو اقتدار کی کرسی سے کبھی دور نہ ہونے دیا۔ مسلم لیگ جب اقتدار سے آوٹ ہوئی توسازش کے زریعے ری پبلکن کو لایا گیا اور ان ہی موقع پرستوں نے جنہیں آج کی زبان میں آپ لوٹا بھی کہہ سکتے ہیں ڈاکٹر خان جیسے کانگریسی لیڈر کو جس نے پاکستانی پرچم کو سلامی دینے سے انکار کیا تھا اپنا لیڈر منتخب کیا۔محترمہ فاطمہ جناع کو ایوب خان کے ہاتھوں شکست دلانے والے بھی یہ ہی موقع پرست لوٹے تھے لیکن جب ایوب خان کا سورج غروب ہوا تو 1970 کے الیکشن میں کنویشن مسلم لیگ کے پاس الیکشن لڑنے کے لیے امیدوار نہیں تھے۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر جب بھٹو نے 1970 کا الیکشن لڑا تو بعض مقامات پر انکو امیدوار نہیں مل رہے تھے کیونکہ موقع پرست لوٹے ابھی پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آتا نہیں دیکھ رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی پیپلز پارٹی اقتدارمیں آئی لوٹوں کی یلغار ہوگی اور پھر1977 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں میں اکثریت لوٹوں کی ہی تھی۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم نے کوثر نیازی کے بارئے میں کہا تھا کہ یہ شخص موقعہ پرست ہے جو پہلے جماعت اسلامی میں رہا اوربعد میں کنونشن لیگ میں اور اب پیپلزپارٹی میں وہ بھٹو سے کیا وفا کرے گااور ایسا ہی ہوا جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا تومولانہ کوثر نیازی اور غلام مصطفی جتوئی نے سب سے پہلے اس کے دربار میں حاضری دی۔ ان سیاستدانوں نے فوراً اپنا الگ پارٹی دھڑا بنا لیا یعنی جب مصیبت کا وقت آیا تو اپنی پارٹی سے یوں منہ پھیر لیا، گویا کبھی اس کے ساتھ نہ تھے۔جنرل ضیاء الحق کے بعد اس دربار کے ’’لوٹے‘‘ اپنے اپنے مفاد کی تلاش میں نکلے۔ نواز شریف جو جونیجو کو اپنا عظیم قائد اور خود کو ضیاء الحق کا بیٹا قرار دیتے تھے سب سے پہلے لوٹا بنکر غلام اسحق خان کے ساتھ ملکرجونیجو کا پتہ صاف کیا اور 1990 میں ملک کے وزیر اعظم بنے۔
حکومتیں بدلتی رہیں مگر ’’لوٹوں‘‘نے اپنا کھیل جاری رکھا،جدید دور کے مفاد پرست ’’لوٹا‘‘ منظور وٹو ہیں جنہوں نے غلام اسحاق سے مل کر پنجاب اسمبلی میں لوٹا کریسی کی فیکٹری بنا ڈالی اور راتوں رات مفادپرست عناصر کو قومی خزانے سے اربوں روپے دے کر وفاداریاں تبدیل کروا لیں۔ وہی جو ایک دن قبل نوازشریف کے ساتھ تھے ، وہ منظور وٹو کے حامی بن گئے۔ جنرل مشرف کے دور میں تو ’’لوٹوں‘‘ کے کاروبارمیں ایسی ترقی ہوئی کہ اب نہ صرف مفاد پرست بلکہ سیاسی جماعتوں تک نے لوٹوں کا کردار ادا کیا۔ نواز شریف نے جونیجو سے جو مسلم لیگ چھینی تھی مشرف کے آنے بعد اس میں سے ق لیگ نے جنم لیا اور ری پبلکن پارٹی کی یاد تازہ کر دی اور پوری ق لیگ ’’لوٹا‘‘ بن کرجنرل پرویز مشرف کو اتنی مرتبہ وردی میں صدر بنانا چاہتی
تھی جس کی خود مشرف کو بھی شاید تمنا نہیں تھی۔ دوسری طرف جولائی 2001 میں پاکستان کی چھ مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک نئے اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘کے قیام کی منظوری دی تھی،جس کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے اسلامی نظام کے قیام اور لادینی عناصر کی یلغار کا مقابلہ کرنا تھا مگر کچھ عرصے بعد متحدہ مجلس عمل نے بھرپور لوٹے کا کردار ادا کیا یعنی 19دسمبر 2003 کو حکومت سے ایل ایف او پر تمام معاملات طے کرکے سودے بازی کرلی۔28دسمبر 2003کوقاضی حسین احمد ،مولانا فضل الرحمن و دیگر قائدین کی موجودگی میں متحدہ مجلس عمل نے آئین میں 17ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرکے پرویز مشرف کی حکمرانی کو آئینی و قانونی جواز فراہم کردیا ، اس زمانے میں ایم ایم اے کی جگہ ملاملٹری اتحاد بہت مشہور ہوا تھا۔ 2001 میں بنے والا اتحاد ایم ایم اے بہت پہلے ہی مشرف سے ساز باز کرچکا تھا اس لیے 2002کے الیکشن میں ایم ایم اے نے قومی اسمبلی کی 68 اور سینٹ میں 20 نشستیں حاصل کیں،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی ایم ایم اے کی حمایت یافتہ حکومتیں قائم ہوئیں اوراگرایم ایم اے نے لوٹے کا کردار ادا نہیں کیا تھا تو پھر 2008 میں کیا ہوا۔ آجکل مولانا فضل الرحمن پھر اپنا بھاوْ بڑھانے کیے لیے دوبارہ ایم ایم اے کی دوکان کھول چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے موجودہ دور میں سابق وزیراعظم گیلانی بھی مفاد پرست ’’لوٹا‘‘ ہیں،موصوف ضیاء الحق کی کابینہ میں تھے۔ عمران خان کی تحریک انصاف کے جلسے کامیاب ہوتے دیکھکرنہ صرف مشرف دور کے مفاد پرست لوٹے بلکہ پیپلز پارٹی، ق لیگ اور نواز لیگ کے لوٹے بھی جوق در جوق تحریک انصاف میں جا پہنچے مگر ان لوٹوں کی وجہ سے تحریک انصاف کا گراف نیچے آنے لگا تو اکثر لوٹے واپس اپنی پرانی جماعت میں پہنچ گے۔نواز شریف جب سے جدہ سے واپس آئے تھے تومشرف فوبیا کا شکار تھے، ان سے کوئی بھی سوال کیا جاتا یا وہ کہیں بھی تقریر کرتے بغیر مشرف کو برا بھلا کہے ان کو چین نہیں آتا تھا۔ نواز شریف جو اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں، عمران خان کے حملوں اور آصف زرداری کی چالاکیوں کی زد میں ہیں لہذا الیکشن جیتنے کے لیے اپنے اس انکار سے منکر ہوگے جس میں انہوں نے لوٹوں کو پارٹی میں شامل کرنے سے انکار کیا تھا لیکن الیکشن کے قریب آنے پر نوازشریف نے اپنی پارٹی کادروازہ مفاد پرست لوٹوں کے لیے کھول دیا ہے اور اب لوٹوں کی آمدہر وقت جاری ہے۔ ان مفاد پرست لوٹوں میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب، ان کے بیٹے عمر ایوب ، ماروی میمن، طارق عظیم، زاہد حامدسلیم سیف اﷲ، ہمایوں اختر، حامد ناصر چٹھہ، امیر مقام، کشمالہ طارق اور سمیرا ملک نے بھی مسلم لیگ (ن )میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور نواز شریف اس قدرخوش ہیں کہ جب ماروی میمن نواز شریف سے ملیں اور اپنے مفاد پرست لوٹی ہونے کا اعلان کیا تو ان کی واپسی پرنواز شریف ان کی کار تک ان کو چھوڑنے بھی گے ۔پیپلزپارٹی بھی نواز شریف کی طرح لوٹوں کی آمد پر خوش ہے۔ حال ہی میں مخدوم احمد محمود پنجاب کے گورنر مقررہوئے ہیں جبکہ ان کے تین صابزادے جن میں دو رکن اسمبلی ہیں پیپلزپارٹی میں شامل ہوگے ہیں جبکہ ان سب کا تعلق مسلم لیگ فنکشنل سے تھا، اسکے علاوہ پنجاب کے ضلع جہلم سے مسلم لیگ (ن )کے ٹکٹ پر قومی رکن اسمبلی بننے والے دو بھائیوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ان موقع پرستوں یا لوٹوں کو نہ کسی نظریے سے دلچسپی ہوتی اور نہ ہی انکا کوئی اصول ہوتا ہے۔ انہیں اقتدارتک پہنچ کراپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ چونکہ الیکشن کے موقع پر ہر پارٹی ’’لوٹوں‘‘ کی تلاش میں رہتی ہے لہٰذا ہرمفاد پرست لوٹا یا لوٹی ایسی جماعت کی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں ان کے زیادہ سے زیادہ مفادات پورے ہوسکیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کو انہی ’’لوٹوں‘‘ نے ہر دور میں ہائی جیک کیے رکھا ہے۔ ان لوٹوں کے ذہانت کی داد دینا پڑتی ہے کہ یہ پاکستان کے تاریخ میں ہر آمر اور غیر جمہوری لوگوں کا ساتھ دیتی آئی ہے اور جمہوری حکومتوں میں بھی ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔میاں مٹھو ’’طوطا‘‘ اور ’’لوٹوں‘‘ میں ایک قدر مشترک ہے وہ سب کچھ وہی بولتے ہیں جو ان کو کہا جاتا ہے کہ یہ بولو۔ بالکل ویسے جیسے میاں مٹھو کو جو بولا جاتا ہے وہی دہراتا ہے۔ یہ اپنی تعریف کے لئے بھی کسی کے محتاج نہیں ہوتے یہ اپنی تعریف خود ہی اپنے منہ سے کر لیتے ہیں۔ میڈیا بھی رینکنگ بڑھانے کے لیے ان لوٹوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیتی ہے۔ جیسی ڈیمانڈ ہوگی۔ ویسی دکانیں کھلتی جائیں گی۔ ان کا چورن بکتا ہے۔ کیوں کہ ایک تو یہ ٹی وی سکرین پر چٹکلے چھوڑنے کے ماہر ہوتے ہیں۔دوسرا یہ لوٹے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو ہر اندر کی بات کا پتہ ہوتا۔ سب سے اہم بات ہماری قوم کا مزاج ہے ہمیں تماش بینی پسند ہے۔ اس لیے ان لوٹوں کو ٹی وی سکرین پر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہ لوٹے بھی جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔ اور یہ پارٹیاں بار بار بدلتے ہیں اور بار بار ان کی آنکھیں کھل جاتی ہے۔ نہیں کھلتی تو صرف عوام کی آنکھیں نہیں کھلتی۔پاکستان کو قائم ہوئے 74سال گزر چکے ہیں اس دوران صرف پانچ فیصد مفاد پرست اس ملک کو لوٹ رہے ہیں۔سات دہائیوں سے کرپٹ سسٹم پر عوام کی خاموشی ان مفاد پرستوں کے حوصلے بڑھاتی رہی اور آج پاکستان دہشت گردی، بھتہ خوری، رشوت خوری اورلاقانونیت کا بدترین شکار ہے، تعصب پوری قوم میں سرایت کرچکا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیاست سے ’’ لوٹوں‘‘ اور ’’نوٹوں ‘‘ کا راج جبکہ ’’بوٹوں ‘‘ کی مداخلت ختم کرنے کے لیے عوام اُٹھ کھڑی ہو ، کیونکہ مفاد پرستانہ سیاست میں لوٹوں کو سب سے زیادہ موقع ملا ہے۔ملک کو نظریاتی سیاست اور سیاست دانوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی منظرنامہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا، جسے اب وہ نگل سکتی ہے نہ اُگل سکتی ہے۔ وفاقی وزرا کے بے سروپا بیانات رسوائی اور جگ ہنسائی کے ساتھ ساتھ ملک کو سیاسی بحران کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ سسٹم نہیں چلتا تو فریش الیکشن کرائے جائیں۔ عوام شفاف الیکشن چاہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں تصادم کی راہ نہ اپنائیں۔ سیاست دانوں میں تصادم سے نقصان جمہوریت ہی کا ہوتا ہے، تبدیلی کے دعوے دار بری طرح بے نقاب ہوگئے۔ مدینے کی ریاست کے نام پر قوم کو دھوکا دیا گیا۔ 74برس سے جاگیردار اور وڈیرے نظام پر قابض ہیں۔ سیاست کے موجودہ چہرے آزمائے ہوئے اور ملک کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمے دار ہیں اور تینوں بڑی جماعتیں بری طرح بے نقاب ہو گئیں۔ موجودہ صورت حال میں یہ بات تو طے ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی جس کے بڑے امکانات ہیں، تب بھی پاکستان کی سیاست میں نہ کچھ بدلے گا اور نہ عوام کی معاشی حالت بہتر ہوگی اور نہ ان کی تکلیفیں کم ہوں گی، بس سیاست کے کھیل کے کچھ چہرے نئی شناخت کے ساتھ ایک بار پھر مسلط ہوں گے اور پچھلے پر الزامات لگارہے ہوں گے، یہی ہماری تاریخ ہے کیونکہ بدقسمتی سے ملک خداداد پاکستان کو تاریخی طور عوام کی حقیقی نظریاتی سیاسی قیادت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کو ایماندار اور نظریاتی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کادرد رکھتی ہو اور وہی تما م مسائل کا حل ہے کیونکہ یہ مملکت خداداد نظریے کی بنیاد پر ہی حاصل ہوا تھا اور اس کو صرف اور صرف نظریے کی بنیاد پر ہی آگے درست سمت میں بڑھایا جاسکتا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں