Voice of Asia News

جرمنی میں خواتین کا قتل اور گھریلو تشدد کی شرح بلند

برلن (وائس آف ایشیا)جرمنی میں ہر روز ایک شخص اپنی اہلیہ یا سابقہ پارٹنر کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔تین میں سے ایک کوشش کامیاب ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سارے مجرم انتہائی آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔رواں ہفتے سامنے آنے والے اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ 2019ء میں جرمنی میں خواتین کے قتل اور ان کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافے کا رجحان پایا گیا ہے۔برلن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی کی وزیر خاندانی امور فرانسسکا جیفی نے ”بھیانک اعداد و شمار‘‘ کی طرف نشاندہی کی۔ان کے مطابق جرمنی میں ہر تیسرے دن ایک عورت کا قتل اٴْس کے پارٹنر کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں 2018ء میں جرمنی فیمیسائڈز یا خواتین کے قتل کے اعداد و شمار کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ڑولیا شیفر، جو اب صوبے ہیسے کی وزارت داخلہ میں جرائم سے بچاؤ کے ایک یونٹ کی سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ پارٹنر کا قتل کوئی یونہی اٹھ کر نہیں کر دیتا۔وہ کہتی ہیں،اس کے پیچھے کئی سالوں کے گھریلو تشدد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ عورت کی بے عزتی کرنے، اس کی توہین اور رسوائی کرنے سے شروع ہوتا ہے اور اس میں اکثر معاشی دباؤ کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔جرمنی میں حقوق نسواں کے کارکنوں نے جرمنی کے ٹیبلوآئیڈ میڈیا میں ایسے جرائم کی رپورٹنگ کی سخت مذمت کی ہے کیونکہ ان میں باقاعدگی سے سنسنی خیز اور اس قسم کی ہلاکتوں کو رومانٹک بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر خواتین کے قتل کو اکثر ”جذباتیت کے جرائم، محبت کے المیے اور ’’خاندانی سانحات‘‘ جیسی اصلاحات استعمال کر کے سنسنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی زبان اور الفاظ عام عوام کی سوچ پر نہ صرف اثر انداز ہوتی ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے بہت سے افراد کے لیے عورتوں کا قتل ‘نجی معاملہ‘ ہے۔جرمن مردوں میں بھی گھریلو تشدد کا رجحان واضح طور پر بڑھا ہوا ہے۔جبکہ جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’تیرے ڈے فیم‘‘ سے منسلک حقوق نسواں کی سرگرم کارکن وانیسا بل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں عورتوں کے قتل کو معاشرتی مسئلے کے طور پر اٴْس وقت دیکھا جانے لگتا ہے جب اس کا پس منظر مذہبی یا اقلیتی ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جرمنی میں خواتین کا قتل کرنے والے مردوں میں سے دو تہائی جرمن شہری ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے