Voice of Asia News

چودھری برادران کی چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت

 
لاہور (وائس آف ایشیا) لاہورہائیکورٹ نے چودھری برادران کی چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف دائر درخواستوں پر ڈی جی نیب کوکیس کا ریکارڈ پیش کرنے اور تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی ۔جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چوہدری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ دوران سماعت ڈی جی نیب نے موقف اپنایا کہ میرا تقرر 2017 میں ہوا،درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی اور تفتیش 2000 سے شروع ہے۔ فاضل عدالت نے استفسار کیا آپ بتائیں درخواست گزاروں کے خلاف انکوائری پر کیا پیشرفت ہے۔ جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کہاکہ 20سال سے انکوائری چل رہی ہے اورآپ کو کچھ علم نہیں ۔ہم کیس پر سماعت ملتوی کر دیتے ہیں آپ تیاری کرکے آئیں ۔چوہدری برادران کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنے والا ادارہ ہے،نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں بھی فیصلے دے چکی ہیں،چیئرمین نیب نے 20 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے،نیب نے 20 سال قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا،چیئرمین نیب کو 20 سال پرانی اور بند کی جانے والی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں،ہمارا سیاسی خاندان ہے، ہمیں سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔چودھری پرویز الٰہی کے خلاف بطور وزیر بلدیات کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے مگر کوئی ٹھوس شواہد نہ ملے،چودھری برادران کے خلاف نیب تفتیش نامعلوم افراد کی درخواست پر شروع کی گئی،شواہد کے حصول کے لئے درخواست گزاروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی مگر کچھ بھی نہیں ملا۔استدعا ہے کہ نیب کا20 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے