Voice of Asia News

وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتیں ہونا کوئی غیر منطقی بات نہیں

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتیں ہونا کوئی غیر منطقی بات نہیں،انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے سپہ سالار ہیں تو دوسرے ملک کے سربراہ ہیں، جتنے قومی اور بین الاقوامی معاملات ہیں، ان پر دونوں میں مشاورت ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی، جنرل قمر جاوید باجوہ ادارے کے سربراہ ہیں،ادارہ ملک کے دفاع کے لیے آج بھی جانیں دے رہا ہے، کل بھی شہادتیں ہوئی ہیں۔پاک فوج ہمارے دفاع کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیراعظم عوام کے منتخب نمائندہ ہیں،وزیراعظم اور آرمی چیف کا ملاقاتیں کرنا ایک منطقی سی بات ہے۔۔دوسری جانب حکومت نے جنوبی پنجاب صوبے کا آئینی ترمیمی بل سپیکر کے حوالے کردیا ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز ایجنڈے میں اس بل کو بھی شامل کیا جائے گا انہوں نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں جنوبی پنجاب صوبے کی بات کرتی رہی ہیں وہ آئیں اور اس بل کو ووٹ کریں. انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی اور ان کی جماعت جنوبی پنجاب صوبے کا راگ الاپتی رہی ہے اب پتہ چلے گا کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اس معاملے پر ان کا امتحان ہے کہ ثابت کریں کہ حقیقی طور پر جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بن چکا ہے کئی محکموں کے دفاتر بہاولپور اور دیگر کے ملتان میں قائم ہوئے ہیں اور کچھ کے ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کی جانب سے بہت ساری رکاوٹیں کھڑی کیں گئی انہیں دور کرنے میں وقت لگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کے لیے بلاول بھٹو اور شہبازشریف کو خطوط لکھے مگر دونوں پارٹیوں کے راہنماﺅں نے خط کا جواب تک دینا گورا ہ نہیں کیا

image_pdfimage_print
شیئرکریں