Voice of Asia News

دیر تک اداس رہنا بھی ذہنی و نفسیاتی مسائل میں شامل ہے؟

 

واشنگٹن( وائس آف ایشیا ) ماہرین کے مطابق دیر تک اداس رہنا کسی انسانی کی فطرت یا کوئی معمول کی بات نہیں ہے۔ایسے لوگ جو ہمیں اکثر ہی اداس نظر آتے ہیں اور ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کی عادت ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ماہرین کی ایک تنظیم نے دیر تک اداس رہنے کو سنجیدہ ذہنی و نفسیاتی مسائل میں شامل کرلیا ہے۔امیریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن(APA) کی جانب سے شائع کیے گئے ذہنی امراض و مسائل سے متعلق مینوئل کے پانچویں ایڈیشن (DSM-5-TR) میں دیر تک اداس رہنے کو باقاعدہ نفسیاتی مسائل میں شامل کردیا گیا ہے۔انسان کے لمبے عرصے تک اداس رہنے کی وجوہاتانسان کو کسی اپنے سے بچھڑنے کا غم، کو ئی حادثہ یا واقعہ اداس کرسکتا ہےاور یہ اداسی کچھ عرصے میں ختم بھی ہوجاتی ہے، لیکن کئی بار یہ اداسی کئی مہینوں اور سالوں طویل ہوجاتی ہے۔ایسی صورتحال کو’لمبی اداسی کا عارضہ‘ کہا جاتا ہے، اس عارضے کی درج ذیل علامات ہوسکتی ہیں۔ 

– موت کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت۔

یہ سوچنا کہ فلاں شخص ابھی مرا نہیں ہے بلکہ زندہ ہے۔

 موت سے متعلق شدید جذباتی تکلیف

 سماجی میل جول میں دشواری محسوس کرنا

 زندگی کو بے معنی محسوس کرنا

 اپنے آپ کو بالکل تنہا یا دوسروں سے لاتعلق محسوس کرنا

امیریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق، لمبی اداسی  کے عارضے میں کسی انسان میں احساسِ محرومی متوقع سماجی یا مذہبی معیار سے بڑھ جاتا ہے۔ماہرین نے نفسیاتی ماہرین کےلیے یہ تجویز دی ہے کہ وہ اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتے ہوئے، کسی بھی مریض میں مندرجہ بالا مخصوص علامات کو مدنظر رکھیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں