Voice of Asia News

امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مذہبی آزادی کو خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح مائیک پومپیو

واشنگٹن( وائس آف ایشیا )امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مذہبی آزادی کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح بنایا ہماری کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ہم پیش رفت کر رہے ہیں یہ کوششیں رفتار پکڑ رہی ہیں پولینڈ مذہب یا اعتقاد کی آزادی کو فروغ دینے کے لیے تیسرے وزارتی ڈائیلاگ کی میزبانی یہ امریکی دفتر خارجہ میں انسانی حقوق سے متعلق اب تک ہونے والے سب سے بڑے اجتماعات ہیں اس کے بعد البانیہ، مراکش، تائیوان، متحدہ عرب امارات اور کولمبیا نے ایسے ہی اجتماعات کا انعقاد کیا جارہا ہےواشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوب مشرقی zیشیا‘ فرانس، ترکی، جارجیا، اسرائیل، قطر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دورے انتہائی مفید ثابت ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہر ملک میں میری بات چیت مختلف ہو گی اور اس دوران بہت سے مختلف النوع امور پر گفت و شنید ہونا ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ ان میں بہت سی باتیں پورے مشرق وسطیٰ میں امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے موجودہ انتظامیہ کی تاریخی کوششوں پر مرتکز ہوں گی.انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکہ اور پوری دنیا کی بہتری کے لیے ہم خیال ممالک کے اتحاد ترتیب دینے میں بے پایاں کامیابی حاصل ہوئی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہم نے 32 دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ ”جنیوا موافقتی اعلامیے“ پر دستخط کر کے نامولود بچوں کے تحفظ کے لیے اپنے بے مثال اقدام کو جاری رکھا انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال کے آغاز میں دنیا بھر میں مذہب یا اعتقاد کی آزادی سے متعلق جس اتحاد کا فروری میں آغاز کیا تھا اب اس کے رکن ممالک کی تعداد 31 ہو گئی ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے آئندہ ہفتے مجھے اس اتحاد کے وزرا کے ایک ورچوئل اجلاس میں شرکت کا موقع ملے گا جس کا مقصد مذہبی آزادی کی گنجائش کے حوالے سے مستقبل کے اقدام کے لیے اپنے منصوبوں کو ٹھوس شکل دینا ہے.مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ایسے اتحاد بھی قائم کر رہے ہیں جو معاشی میدان میں ہماری اقدار میں دوسرے ممالک کو حصہ دار بناتے ہیں حالیہ ہفتوں میں انڈر سیکرٹری کیتھ کریچ نے آزادی پسند ممالک اور کمپنیوں کو کلین نیٹ ورک میں اکٹھا کرنے کے لیے درجن سے زیادہ ممالک کا دورہ کیا ممالک کا یہ گروہ اپنے 5جی نیٹ ورکس میں صرف قابل اعتماد فروخت کنندگان سے کام لینے کا عہد کرتا ہے.امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ کم و بیش 50 ممالک کلین نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو دنیا کا قریباً دو تہائی جی ڈی پی پیدا کرتے ہیں ان ممالک کی 170 ٹیلی فون کمپنیوں نے شفاف نیٹ ورک میں کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور دنیا کی بہت سی بڑی کمپنیاں اس معاملے میں ہمارے ساتھ ہیں اس معاملے میں نیٹو کے 30 اتحادیوں میں سے 27 ممالک، او ای سی ڈی کے 37 میں سے 31 ارکان، یورپی یونین کے 27 میں سے 26 ارکان اور 12 میں سے 11 تھری سیز ممالک ہمارے ساتھ ہیں.انہوں نے بتایاکہ انڈر سیکرٹری کیتھ کریچ اس وقت جنوبی امریکہ میں ہیں وہ برازیل میں سرکاری حکام اور نجی شعبے کے راہنماﺅں سے کلین نیٹ ورک پر بات چیت کر رہے ہیں برازیل کی حکومت کلین نیٹ ورک کے اصولوں کی حامی ہے اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ہم مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کریں گے یہ سب کچھ کرنے پر ہم برازیل اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم تحفظ ماحول کے لیے بھی اپنے برازیلی شراکت داروں کے ساتھ ہیں اس سلسلے میں امریکہ اوربرازیل ماحولیاتی فریم ورک ڈائیلاگ کا انعقاد آج عمل میں آیا جب ماحول کے تحفظ اور خالی خولی باتوں کے بجائے معیشت کی ترقی مقصود ہو تو امریکہ اور برازیل حقیقی نتائج چاہتے ہیں. امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ انڈر سیکرٹری کریچ نے پہلے جاپان‘امریکہ اوربرازیل سہ ملکی تبادلے کی قیادت بھی کی جو خودمختار اور آزاد ممالک کے طور پر مشترکہ خوشحالی کے لیے جمہوریتوں کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا انہوں نے کہا کہ انڈر سیکرٹری کریچ تائیوان میں قائم امریکی انسٹیٹیوٹ اور یہاں امریکہ میں تائیوان کے معاشی و ثقافتی نمائندوں کے دفتر کے زیراہتمام معاشی خوشحالی کی شراکت سے متعلق ڈائیلاگ کی قیادت کی ہے‘یہ ڈائیلاگ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایک پرجوش جمہوریت اور قابل اعتبار شراکت دار ہونے کے ناطے تائیوان کے ساتھ ہمارے معاشی تعلقات مضبوط ہیں اور ترقی پا رہے ہیں اس سے اشیا کی پیداوار اور تقسیم کے محفوظ و مامون سلسلوں سے لے کر شفاف اور محفوظ 5جی نیٹ ورکس، تحفظ صحت اور بہت سے دیگر شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے میں مدد ملے گی.انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری فینن کے زیرقیادت توانائی کے وسائل سے متعلق شعبے نے توانائی کے وسائل کے انتظام سے متعلق اقدام کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد کیا گیا اس اجلاس میں20 ممالک نے شرکت کی جو بہتر انتظام کے ذریعے محفوظ، مضبوط، اور متنوع معدنی توانائی کے حصول اور اس کی ترسیل کے لیے کام کر رہے ہیں ہمیں اس ہفتے کے آخر میں اسرائیل کے ساتھ جوائنٹ اکنامک ڈویلپمنٹ گروپ کے 35ویں سالانہ اجلاس میں شرکت پر فخر ہے ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں کثیرملکی اداروں میں بھی امریکہ نے بے مثل انداز میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے.مائیک پومپیو نے کہا کہ جس طرح ہم نے ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن میں ملکیتی حقوق کا احترام کرنے والے شخص کی سربراہی یقینی بنا کر انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کا تحفظ کیا اسی طرح گزشتہ ہفتے امریکہ نے یہ یقینی بنانے میں مدد دی کہ اقوام متحدہ اپنے مالی وسائل ذمہ دارانہ طور سے استعمال کرے انتظام و انصرام اور بجٹ کے شعبے میں 40 سالہ تجربے کا حامل امریکی نمائندہ اقوام متحدہ میں تعینات کیا گیا ہے یہ تعیناتی اقوام متحدہ میں انتظام و انصرام اور بجٹ سے متعلق مشاورتی کمیٹی میں کی جائے گی جس کی ایک نشست امریکہ کے حصے میں آئی ہے بظاہر یہ کوئی بڑی بات نظر نہیں آتی مگر اس کی خاص اہمیت ہے.یہ مشاورتی بورڈ اقوام متحدہ کے معمول کے بجٹ اور قیام امن کے لیے مختص کیے جانے والی مالی وسائل کا تعین کرتا ہے اس سالانہ بجٹ کا حجم قریباً 10 بلین ڈالر ہوتا ہے جس میں دو ارب ڈالر سے زیادہ رقم اکیلے امریکہ کی جانب سے آتی ہے ہمارے سفارت کاروں نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کو بتایا کہ طویل عرصہ کے بعد پہلی مرتبہ اس کمیٹی میں امریکہ کی موجودگی یہ بات یقینی بنانے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اقوام متحدہ کے وسائل ذمہ دارانہ طریقے سے خرچ ہوں.انہوں نے کہا کہ میں ڈونا میری کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دینا چاہتا ہوں انسداد دہشت گردی کے محاذ پر بھی امریکہ کا قائدانہ کردار جاری ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہی امریکہ نے لبنان کی حکومت کے سابق وزیر جبران باصل پر بدعنوانی کی پاداش میں گلوبل میگنیٹسکی اختیارات کے تحت پابندی عائد کی لبنان کے عوام بدعنوان سیاسی طبقے کو برسراقتدار نہیں دیکھنا چاہتے ایسے بیشتر سیاست دان حزب اللہ کے زیراثر ہیں ہمارے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے عوام لبنانی عوام کے ساتھ ہیں جو اپنے سیاسی راہنماﺅں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اصلاحات، شفافیت اور دیانتدارانہ حکمرانی پر مبنی نئی سمت اختیار کریں .انہوں نے کہا کہ ایران کی بات ہو تو ہم امریکہ کے عوام کو تہران کی حکومت سے تحفظ دینے کی کوششیں ترک نہیں کریں گے محکمہ خزانہ نے کمپنیوں اور افراد کے ایک عالمگیر نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کیں جنہوں نے پابندی کے لیے نامزد ہونے والی ایک ایرانی عسکری کمپنی کے لیے الیکٹرانک آلات کی فراہمی ممکن بنائی تھی میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ اور ادارے ایران کی فوج اور ممنوعی اسلحے کے پھیلاﺅ سے متعلق صنعتوں کے ساتھ کاروبار کریں گے وہ اپنے لیے بالکل ایسی ہی سزا کا خطرہ مول لیں گے.یورپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ”پرمانینٹ سٹرکچرڈ کارپوریشن“ کے منصوبوں میں کسی تیسرے ملک کی شرکت کے حوالے سے یورپی یونین کے اختیار کردہ رہنما اصولوں کا خیرمقدم کرتا ہے یورپی یونین کے دفاعی اقدامات میں امریکہ کی شرکت ممکن بنانے سے نیٹو یورپی یونین اتحاد بھی مضبوط ہو گا اور سب سے اہم بات یہ کہ اس طرح فریقین کے باہمی تعامل میں مزید بہتری آئے گی ہم یورپی دفاعی ادارے کے ساتھ ایک انتظامی معاہدے کی تکمیل کے منتظر ہیں جس سے ”پی ای ایس سی او“ میں امریکہ کی وسیع تر شرکت یقینی بنانے میں مدد ملے گی.انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ نے چینی کمیونسٹ پارٹی اور ہانگ کانگ کی پولیس کے چار اعلیٰ سطحی حکام کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہانگ کانگ کو وعدے کے مطابق دی جانے والی خودمختاری کو کمزور کیا اور اس کے عوام کی آزادیوں کو کچلاہم سی سی پی اور ہانگ کانگ میں اس کے آلہ کاروں کے اقدامات کو چیلنج کرنا جاری رکھیں گے جن کے ذریعے جمہوریت اور بنیادی آزادیوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے شام میں بشارالاسد اور اس کی حکومت کے خلاف سیزر ایکٹ کے تحت پانچویں مرتبہ پابندیاں عائد کیں.انہوں نے کہاکہ امریکہ شام میں ہولناک جنگ کو طویل دینے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ایسے ہی اقدامات اٹھانے پر یورپی یونین کی ستائش کرتا ہے ہم شام میں حکومت کے احتساب اور شامی عوام پر ڈھائے گئے مظالم پر جواب طلبی کے لیے یورپی یونین اور اپنے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ رابطہ جاری رکھیں گے انہوں نے بتایا کہ جنیوا میں امریکہ نے اقوام متحدہ کے عالمگیر معیادی جائزے کے موقع پر اندرون ملک انسانی حقوق بارے امریکہ کے عہد سے متعلق اپنی قومی رپورٹ پیش کی.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے