Voice of Asia News

تیگرائی فورسیز کا ایتھوپیائی طیارہ مار گرانے اور شہر واپس لینے کا دعوی

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا )تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے رہنما ڈیبریٹسن گیبر مائیکل کے ان دعوں پر ایتھوپیائی حکومت اور فوج نے فوری طورپر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔فریقین کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کی تصدیق مشکل ہے کیوں کہ 4 نومبر کو تصادم شروع ہونے کے بعد سے ہی تیگرائی میں فون اور انٹرنیٹ کنکشن ختم کردیے گئے ہیں اور وہاں تک رسائی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔وزیر اعظم آبے احمد کی حکومت ٹی پی ایل ایف کے باغیوں کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ سن 2018 میں آبے کے اقتدار میں آنے سے قبل تقریباً تین عشروں تک ٹی پی ایل ایف کا مرکزی حکومت پر غلبہ تھا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ تقریباً 44000 افراد پڑوسی ملک سوڈان ہجرت کر گئے ہیں۔جنگجووں کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی خبریں ہیں۔یہ تصادم آبے احمد کی قیادت کا امتحان بھی ہے جنہوں نے 115 ملین آبادی والے ایتھوپیا میں مختلف نسلی گروپوں کو متحد کرنے کا عہد کیا تھا لیکن انہیں ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نیز ٹی پی ایل ایف کی جانب سے پڑوسی ملک اریٹریا پر راکٹ حملوں نے وسیع تر قرن افریقہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ لاحق کردیا ہے

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے