Voice of Asia News

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 4 دہشت گرد ہلاک

لکی مروت ( وائس آف ایشیا ) لکی مروت کے علاقہ شیری خیل میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ خیبر پختوںخواہ کے ضلع لکی مروت میں تھانہ درہ پیزو کی حدود شیری خیل کے قریب خفیہ اطلاع پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مشترکہ سرچ آپریشن کیا گیا ، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور ایک دہشت گرد سید زمان زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے پولیس ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کی شناخت آفتاب ، فضل الرحمان عرف ارمانی، علیم اللّٰہ اور یاسین عرف لڑم کے نام سے ہوئی ، ان دہشت گردوں کا تعلق جانی خیل وزیر بنوں اور لکی مروت سے ہے جب کہ ہلاک دہشت گرد ایف سی اہکار کے قتل اوردیگر دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھے ، مشترکہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے 4 ایس ایم جیز ، ایک آر پی جی سیون اور آئی ای ڈی برآمد کی گئی۔دوسری طرف حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی نے اسلام آباد کو بڑی تباہی سے بچا لیا ، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا جب کہ ایک فرار ہو گیا ، سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان نے افغانستان سے ٹریننگ حاصل کی تھی ، ملزمان سے 5 کلو دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، ملزمان نے سیاسی جماعتوں کے جلسے میں دہشتگردی کا منصوبہ بنا رکھا تھا، ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 23 مارچ 2022ء کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اپوزیشن کے حکومت مخالف مارچ میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر پنجاب کی پولیس نے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا، پنجاب پولیس کی طرف سے صوبے بھر میں سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کے حوالے سے مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد سیاسی شخصیات یا اُن کے پروگراموں کو نشانہ بناسکتے ہیں ، مارچ کے دوران ڈرون کیمروں کا استعمال نہ کیا جائے اور کسی بھی مشکوک شخص کو مارچ میں شریک ہونے سے روکا جائے ۔پولیس نے مراسلے میں یقین دہانی کرائی کہ اہلکار مارچ کے روٹ پر سکیورٹی کے بھرپور انتظامات کی کوشش کریں گے ، اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت بھی پولیس اہلکاروں سے تعاون کرے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور رضاکار بھی اردگرد اور مشتبہ افراد پر خاص نظر رکھیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں