Voice of Asia News

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس رپورٹ:حافظ محمد صالح

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کے دوروزہ اجلاس کے اختتام پر ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ جاری کیاگیا۔ اس اعلامیے کے اہم نکات میں’’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت‘‘کے مرکزی موضوع کو شامل کیا گیا ہے۔ 70نکاتی اعلانِ اسلام آباد کو بلاشبہ اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت کا ایسا لائحہ عمل قرار دیا جا سکتا ہے جسے بروئے کار لاکر کرہ ٔارض کے بیشتر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اقوامِ متحدہ کے فیصلوں سمیت متعدد امور میں نتیجہ خیز پیش رفتوں کا انحصار ان طاقتوں کے مفاد اور مزاج پر منحصر ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کے نام پر منشور اور اصول وضع کیے مگر عملی میدان میں ان کے حقیقی پیمانوں کا بیان آساں نہیں۔ 57مسلم ممالک پر مشتمل فورم او آئی سی کے 48ویں وزرائے خارجہ اجلاس میں 46 ممالک نے شرکت کی جبکہ دیگر ممالک کی نمائندگی ان کے اعلیٰ حکام نے کی ، پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ اس اجلاس میں آٹھ سو مندوبین شریک ہوئے جبکہ چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ او آئی سی کی تاریخ میں چین کے کسی وزیر خارجہ کی پہلی شرکت کو مبصرین مسلم دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اعلامیہ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کی تجدید کی گئی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حق خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا گیا جبکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی۔اعلامیہ کے مطابق 5 اگست 2019 سے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا گیا جن کا مقصد مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اورمسافر طیاروں کو لاحق خطرات جب کہ 9 مارچ کو سپرسونک میزائل کے لانچ سے جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو لاحق خطرات پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔ بھارت سے عالمی قوانین اور ذمے دار ریاستی رویے کے اصولوں کی پاسداری اور حقائق تک رسائی کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات پر زور دیا گیا ۔جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے پاکستان کاکردار تسلیم اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی علاقائی امن کے فروغ کے لیے اس کے کردار اور کوششوں کو سراہا گیا۔اعلامیہ میں مالی، افغانستان، صومالیہ، سوڈان، کوٹ ڈیوائر ، کوموروس ، جبوتی، بوسنیا اور ہرزیگووینا اور جموں و کشمیر کے عوام اور ترک قبرص کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔ اسلام آباد اعلامیہ غیر او آئی سی ممالک میں مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مسلم دنیا کے اندر اور باہر کی سماجی، اقتصادی، سائنسی و تکنیکی ترقی اور انضمام کے لیے مشترکہ وژن، ہم آہنگی، روداداری، پرامن بقائے باہمی، زندگی کے بہتر معیار، انسانی وقار کے احترام، تمام لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم، موسمیاتی اور ماحولیاتی کیفیات سمیت وسیع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ او آئی سی کا مذکورہ اجلاس جن حالات میں منعقد ہوا وہ کئی اعتبار سے غیر معمولی تھے مگر اجلاس کے وسیع ایجنڈے اور کارروائی کو دیکھتے ہوئے مبصرین اسے ایک کامیاب اجلاس ہی نہیں او آئی سی کو حاصل نئی توانائی کا اظہار بھی قراردے رہے ہیں۔
اعلامیے کے مندرجات، او آئی سی کے چارٹر میں درج عظیم اسلامی اقدار اور نظریات سے ماخوذ ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں اور مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اعلامیہ عالمی سیاسی، سلامتی، انسانی، اقتصادی اور تکنیکی مسائل کے متعلق جائزے اور ان سے نمٹنے کے لیے و ژن اور نظریات کی نمایندگی کرتا ہے۔اعلامیہ او آئی سی کا عزم واضح کرتا ہے جن میں مشترکہ مفادات کو فروغ اور تحفظ فراہم کرنا؛ فلسطین، کشمیر اور دیگرمشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مقاصد کی حمایت ،او آئی سی ممالک میں مسلم اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ، مسلم دنیا کے اندر اور باہر کی سماجی، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی ترقی اور انضمام کے لیے مشترکہ وڑن پر عمل کرنا، ہم آہنگی، رواداری، پرامن بقائے باہمی، زندگی کے بہتر معیار، انسانی وقار اور تمام لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینا شامل ہے جو اجتماعی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ میں اس سال کے آخر یا اگلے سال تنازعات روکنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے وزارتی اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی۔یہ اعلامیہ افغانستان ہیومینیٹیرین ٹرسٹ فنڈ کے فعال ہونے کا خیرمقدم کرتا ہے۔یہ اعلامیہ دہشت گردی کی تمام جہتوں کو مسترد کرتا ہے اوراسے کسی بھی ملک، مذہب، قومیت، نسل یا تہذیب کے خلاف استعمال کرنے کی مذمت کرتا ہے۔ یہ حق خود ارادیت کے لیے لوگوں کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کے خلاف او آئی سی کے مضبوط موقف کا اعادہ کرتا ہے۔ او آئی سی کے منشور اور تمام پچھلی سربراہی کانفرنسوں اور وزرائے خارجہ کی کونسلوں کے اعلامیوں میں موجود تمام وعدوں پر عملدرآمدکے اپنے عزم کا اعادہ اور اپنے لوگوں اور رکن ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کے بندھن کو مضبوط کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ امن، سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کے لیے مشترکہ عالمی وژن کی پیروی کا عزم، مساوات ، انصاف، خود مختاری، علاقائی سالمیت اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے عالمی اصولوں کی وفاداری ،اقوام متحدہ اور او آئی سی چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے لیے رکن ممالک کے عزم کا اعادہ کیا گیاہے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے کوششوں کو مربوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔یورپ سمیت دنیا بھر میں جاری مسلح تنازعات پرتشویش اور دشمنیوں کے خاتمے، جانوں کا ضیاع روکنے، انسانی امداد بڑھانے اور سفارت کاری میں اضافے پر زور دیا گیا۔اعلامیہ میں امت مسلمہ اور انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن، رواداری، اتحاد، ہم آہنگی اور انصاف کے ابدی اسلامی اصولوں کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی میزبانی کر کے ثابت کردیا کہ اگر اسلامی ممالک ساتھ دیں تو پاکستان میں وہ قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل میں ان کی رہنمائی اور انھیں اس بحرانی کیفیت سے نکال سکتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ او آئی سی میں 57 ممبر ممالک شامل ہیں۔پاکستان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کی تاریخی میزبانی1974 میں لاہور میں کی تھی۔ اسلامی تاریخ میں اگر کسی ایک ملک میں پوری مسلم دنیا کے سربراہان ایک وقت میں سب سے زیادہ اکٹھے ہوئے ہیں تو یہ اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہوا۔ اس کانفرنس میں 50 کے قریب اسلامی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے، اس کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ یاسر عرفات کی تنظیم آزادی فلسطین یعنی پی ایل او کو اسلامی سربراہ کانفرنس میں
فلسطینی ریاست کی نمایندہ تنظیم کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد یاسر عرفات کو اقوام متحدہ میں خطاب کی دعوت دی گئی اور فلسطین کی نمایندہ تنظیم کو تسلیم کیا گیا۔ایک بات تو یہ اہم ہوئی کہ اس کانفرنس کے بعد پاکستان اسلامی دنیا میں ایک لیڈر بن کر ابھرا۔پاکستان ہمیشہ سے ہی تنظیم تعاون اسلامی کا فعال رکن رہا ہے ، اس کے علاوہ واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں سب سے بڑی فوجی قوت ہے۔ پاکستان اس تنظیم میں اہم رول ادا کررہا ہے ، خاص طور پر ہماری مسلح افواج کی اعلیٰ کارکردگی سے دنیا متعارف ہے، اس لیے اس کے ممبر ممالک کی فوجی تربیت میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے اور ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ عالمی اسلامی تنظیم تشکیل دینے کا خیال مسلم اسکالرز کا تھا ، طویل غور و خوض کے بعد، اس کی بنیاد رکھی گئی، آج او آئی سی میں 57 ممبر ممالک شامل ہیں۔تاریخ کی ورق گردانی کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اگست 1969 میں یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے اندر خطبے کے لیے رکھے گئے صلاح الدین ایوبی کے دور کے آٹھ سو سال پرانے منبر کو ایک اسرائیلی انتہا پسند نے آگ لگا دی، اس کے نتیجے میں مسجد کی قدیم عمارت کی چھت کو بھی نقصان پہنچا۔اسلامی دنیا نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیا۔ فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی نے اسلامی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ ایک سربراہ اجلاس منعقد کریں اور ایسے واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ فلسطین کے مفتی اعظم کی اپیل کے جواب میں مراکش کے شہر رباط میں 24 مسلم اکثریتی ملکوں کے نمایندے اکٹھے ہوئے جن میں سے زیادہ تر ان ممالک کے سربراہان کی تھی۔25 ستمبر 1969 کو اس اجتماع نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقتصادی، سائنسی، ثقافتی اور روحانی شعبوں میں قریبی تعاون اور مدد کی راہ اختیار کرنے کے لیے مسلم حکومتیں آپس میں صلاح مشورہ کریں گی۔‘‘ یہ قرارداد اسلامی تعاون تنظیم یا اسلامی کانفرنس تنظیم کے قیام کا نقطہ آغاز تھی۔اس کے چھ ماہ بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی اور 1972 میں او آئی سی کا ایک باقاعدہ تنظیم کے طور پر قیام عمل میں لایا گیا جس کا ہر سال وزرائے خارجہ کا اجلاس اور ہر تین سال بعد سربراہ اجلاس منعقد ہونا طے پایا۔پاکستان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کی تاریخی میزبانی 1974 لاہور میں کی۔ اسلامی تاریخ میں اگر کسی ایک ملک میں پوری مسلم دنیا کے سربراہان ایک وقت میں سب سے زیادہ اکٹھے ہوئے ہیں تو یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا۔ اس کانفرنس میں 50 کے قریب اسلامی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے، اس کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ یاسر عرفات کی تنظیم آزادی فلسطین یعنی پی ایل او کو اسلامی سربراہ کانفرنس میں فلسطینی ریاست کی نمایندہ تنظیم کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد یاسر عرفات کو اقوام متحدہ میں خطاب کی دعوت دی گئی اور فلسطین کی نمایندہ تنظیم کو تسلیم کیا گیا۔
ایک بات تو یہ اہم ہوئی کہ اس کانفرنس کے بعد پاکستان اسلامی دنیا میں ایک لیڈر بن کر ابھرا۔ او آئی سی بطور ادارہ اس حد تک موثر ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز پر شاہ فیصل نے مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی پر شرائط عائد کرنا شروع کر دیں اور پھر ایسا بھی کہا جانے لگا کہ ’’ امریکہ میں پٹرول کی عدم دستیابی کے باعث گاڑیاں بند ہونے لگی ہیں۔‘‘ اس کانفرنس میں اہم فیصلے کیے گئے۔اس کانفرنس کے پاکستان میں گہرے اثرات پڑے، پاکستان میں مساجد، شاہراہیں اور اہم مقامات کو مسلم ممالک کے سربراہان کے نام دیے گئے جیسے لاہور میں قذافی اسٹیڈیم، اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد، فیصل آباد اور فیصل ائیر بیس وغیرہ اہم ہیں۔اس کانفرنس کے بعد اسلامی ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب آئے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کانفرنس میں شریک بیشتر لیڈران پراسرار طریقے سے دنیا سے گئے۔ اس کے بعد اس فورم کی افادیت میں کمی ہونا شروع ہوئی لیکن اب لگ رہا ہے کہ شاید یہ اپنا وہ ہی مقام حاصل کرلے گا جو ایک زمانے میں اس کا تھا۔اقوام متحدہ کے بعد او آئی سی دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے، لیکن او آئی سی مسلمان ممالک کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ عراق ، لیبیا، یمن، سوڈان ، افغانستان، لبنان اور صومالیہ کے بحران حل کرنے میں او آئی سی کا کردار کمزور رہا ہے۔عراق، افغانستان،کشمیر ، میانمار ، فلسطین، عراق اور شام میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے مگر مسلمان ملکوں پر مشتمل یہ تنظیم ایفکٹیو رول ادا نہیں کرسکی۔ حالانکہ کانفرنس کے چارٹر میں واضح طور پر درج ہے کہ تما م ارکان اپنے باہمی تنازعات پر امن طریقے سے حل کریں گے اور باہم جنگ سے حتی الامکان گریز کریں گے لیکن عملی طور پر اس کا مظاہرہ آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔مسئلہ کشمیر دو طرفہ ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جس پر بھارت اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں، اگر ہم او آئی سی تنظیم کی گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کارکردگی کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رکن ممالک نے اپنے ہی منظور کردہ اور طے کردہ مقاصد کو پورا کرنے میں اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں اور قراردادوں کے سوا عملی اقدامات نہیں کیے۔ مقاصد کے حصول کے لیے کوئی کامیابیاں حاصل نہیں کیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے سارے دعوے لفظی اور زبانی تھے، عملی طور پر انھوں نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔اس وقت افغانستان میں انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ بھوک اور غربت آخری حدود کو چھو رہی ہیں، ادویات کی قلت سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ امریکا نے افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد کررکھے ہیں۔ اس حوالے سے بھی او آئی سی امریکا اور اقوام متحدہ سے مذاکرات کرے۔ایک اور خوفناک چیلنج یہ ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک میں آزادی اظہار کے نام پر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ اسلام عدم رواداری اور دہشت گردی کا دوسرا نام ہے،جبکہ اسلام امن کا دین ہے، و ہ مغربی طاقتوں یا بین الاقوامی برادری کے کسی بھی حصے کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔مسلمان ممالک تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات رکھنے کے حامی ہیں، لیکن وہ دوسروں کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ دوسروں کے زیر اثر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ او آئی سی کا دہشت گردی کے بارے میں موقف واضح ہے، یہ تنظیم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے۔
حکومت نے ایسے ماحول میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کانفرنس کی میزبانی کی جب پاکستان سیاسی انتشار میں مبتلا ہوچکا ہے۔ذرائع ابلاغ پر او آئی سی کی کانفرنس کے موقع پر بھی پاکستان کا سیاسی بحران غالب رہا ہے۔ شہری مستقل ہیجانی دور سے گزر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی تھی کہ نائن الیون کے بعد سے او آئی سی مفلوج ہوگئی تھی، یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان نے مسلم ممالک کے نئے اتحاد کا تصور بھی پیش کردیا تھا جس کی وجہ سے مسلم ممالک کے انتشار میں اضافہ ہوا۔ اب یہ سوال سامنے موجود ہے کہ کیا او آئی سی کی موجودہ کانفرنس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کوئی پیش قدمی کی ہے تو جواب میں مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ عالم اسلام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کے بارے میں سنجیدہ گفتگو بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلم ممالک کے نمائندوں کی ملاقات بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔ پاکستان کا سیاسی بحران اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی بیٹھک ایسے موقع پر ہوئی ہے جس میں یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔یہ جنگ روس، امریکا یا روس، نیٹو یا روس اور مغربی یورپ کے درمیان تیز ہوتی ہوئی کش مکش کا شاخسانہ ہے۔ بڑی طاقتیں براہ راست تصادم سے گریز کرتی ہیں۔ یہ منظرنامہ ہمیں روس یوکرین جنگ میں بھی نظر آرہا ہے۔ اس لیے پاکستان اور عالم اسلام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ افغانستان کا مسئلہ نئی شکل اختیار کرگیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی موجود ہے۔ جس کی وجہ سے بھارت کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ بھارت کی ریاست کرناٹک میں حجاب پر سرکاری اور عدالتی پابندی نے اسلاموفوبیا کی سنگینی کو بڑھادیا ہے۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر ماضی کی طرح سلگتا اور جلتا موضوع ہے۔ دونوں مسائل پر عالم اسلام کی مزاحمت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ پسپائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایک ساتھ تین عرب ملکوں نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیے ہیں۔ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں عرب ممالک کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرلیا ہے۔ مسلم امہ کے مسائل کی فہرست سے کہیں زیادہ ہے، موجودہ اجلاس میں سو سے زیادہ قرار دادیں منظور کی گئی ہیں لیکن اب بھی اس ادارے کی کوئی آواز نہیں ہے۔ جبکہ کئی اہم مسلمان ممالک او آئی سی کے حوالے سے غیر فعال ہیں، ابھی تو سب سے بڑا ہدف او آئی سی کو فعال کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرح مسلم دنیا کی او آئی سی نے بھی مسئلہ فلسطین کے حل پر فلسطینوں کے حقوق کا دفاع نہیں کرسکی ہے، اس پلیٹ فارم سے کوئی مضبوط فیصلہ نہ ہوسکا اور نہ ہی کوئی ایسی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوسکی جو اقوام عالم میں تھرتھلی مچا دے ، دراصل عالمی طاقتیں یہ چاہتی ہی نہیں ہیں کہ او آئی سی دنیا میں ایک طاقتور مسلم بلاک بن کر ابھرے یا مسلم ممالک اپنے تنازعات کو باہم اس پلیٹ فارم پر حل کرلیں۔ مسلم ممالک کی اشرافیہ بھی مختلف قسم کے تعصبات ، کمزوریوں اور مفادات کے سبب آپس میں تقسیم ہیں، یہ تقسیم بھی او آئی سی کو ایک فعال اور بااثر عالمی اتحاد بننے نہیں دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ایک موثر و مضبوط پلیٹ فارم بنایا جائے تاکہ یہ ایک عظیم طاقت بن سکے۔اس میں نئی روح پھونکنے کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی بھی ضرورت ہے، او آئی سی کے ذریعے سفارت کاری سے یہ رابطہ گروپ ممبر ممالک میں ڈیجیٹل انقلاب برپا کرنے غربت کا خاتمہ ، ٹیکنالوجی ، تعلیمی ، معاشی صنعتی ترقی کو بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔او آئی سی کے ہر اجلاس میں باتیں اچھی ہوتی ہیں لیکن عملاً کچھ نہیں ہوتا۔اسلامی ممالک کی اتحادی تنظیمیں تو موجود ہیں مگر ان میں باہمی تجارت کے فروغ،سائنس وٹیکنالوجی،زرعی اور صنعتی میدان میں ترقی اور تحقیق کے مشترکہ پلیٹ فارم موجود نہیں ہیں۔ اسلامی ملکوں کی لیڈرشپ ‘ دانشوروں اور مفکرین کو اس حوالے سے کام کرنا چاہیے کہ کس طرح اسلامی ملکوں کو ایسے متحد کیا جائے کہ وہ جی ایٹ، جی ٹوئنٹی یا نیٹو طرز کا کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی او آئی سی اجلاس کے لیے اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا جسے سراہا گیا، انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو کئی محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے، ہم مل کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو سماجی عدم مساوات سمیت کئی خطرات کا سامنا ہے، او آئی سی دنیا میں امن، سلامتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کررہی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ڑی نے اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اسلامی ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے، انھوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان سے دوستانہ تعلقات چین کی روایات کی بنیاد ہیں اور چین اقوام متحدہ میں اسلامی دنیا کی حمایت نہیں بھول سکتا۔ چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کے لیے چین کی حمایت ہمیشہ غیرمتزلزل رہی ہے، چین دو ریاستی حل کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، 54 مسلم ممالک نے ایک سڑک ایک راستہ منصوبے پر دستخط کیے ہیں، چین مسلم دنیا میں 600 منصوبوں پر 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ تہذیبوں کے مابین مذاکرات اور تصادم سے بچنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا اور چین تہذیبوں کے مابین تصادم نہیں بلکہ مذاکرات کا حامی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا اور عالم اسلام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا کھل کر احاطہ کیا۔ انھوں نے دہشت گردی کے حوالے سے استدلال پیش کیا کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے، نائن الیون کے بعد بدقسمتی سے ایسا بیانیہ بنایا گیا جس میں اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑا گیا۔مسلم ممالک نے اس بیانیہ کے تدارک کے لیے کچھ نہیں کیا، بدقسمتی سے یہ تاثر بن گیا کہ اسلام میں لبرل، ماڈریٹ اور ریڈیکل مختلف قسمیں ہیں لیکن دین اسلام تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اﷲ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدؐؐکا اسلام ہے۔ خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیا گیا کہ اسلامو فوبیا ایک نفرت انگیز چیز ہے۔ ہمیں اپنے بیانیے کو آگے لے کر جانا چاہیے۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ جو ملک بھی ریاست مدینہ کے ماڈل پرچلے گا، وہ خوش حال ہو گا۔ یہ اسلام ہی تھا جہاں غلام بادشاہ بنتے تھے۔ او آئی سی کا ایک تصور اسلامی اقدار کا تحفظ ہونا چاہیے کیونکہ اسلامی اقدار جتنی اس وقت خطرے میں ہیں پہلے نہیں تھیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر اور فلسطین پر واضح قراردادیں ہونے کے باوجود ہم ان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے ہیں، دنیا ہمیں سنجیدہ نہیں لیتی کیونکہ ہم تقسیم ہیں۔ ڈیڑھ ارب مسلم آبادی ان ناانصافیوں کو روکنے کے لیے آواز اٹھائے۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر دی لیکن عالمی برادری خاموش ہے۔ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی الگ الگ ہے تاہم مرکزی ایشوز پر ہمیں متحد ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ فلسطین میں روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہے تاہم مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم افغانستان اس سرزمین کو عالمی دہشت گردی سے روکنے کے لیے واحد راستہ ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اسلامی ملکوں کو روس یوکرین تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بلاک میں جانے اور جنگ کا حصہ بننے کے بجائے متحد رہ کر امن میں شراکت دار بنیں۔ انھوں نے روس، یوکرین جنگ بندی کے لیے او آئی سی اور چین کی مشترکہ کوششوں کی تجویز دی۔انھوں نے کہا مسلم ممالک نے متحد ہوکر متفقہ موقف اختیار نہ کیا تو کوئی ہمیں نہیں پوچھے گا، فلسطینیوں اور کشمیریوں کو ہم نے مایوس کیا، افسوس ہورہا ہے ہم اس حوالے سے کوئی اثر قائم نہیں کر سکے۔ بنیادی ایشوز پر اوآئی سی کو ایک متحدہ فرنٹ قائم کرنا ہوگا۔ بدقسمتی ہم ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں مگر ہم فلسطین اور کشمیر پر قراردادیں منظور کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ ہم میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جن ایشوز کی نشاندہی کی اور ان ایشوز کوحل کرانے کے حوالے سے مسلم ممالک کی کمزوری کو بیان کیا ہے، یہ نئی باتیں تو نہیں ہیں البتہ درست ضرور ہیں۔ مسلم ممالک کی تمام حکومتوں کو اس کا پتہ ہے اور اپنی کمزوریوں کا بھی پتہ ہے۔
اصل سوال یا حل طلب مدعا تو یہ ہے کہ جن ایشوز کا ذکر ہوا ہے ، کیا تمام مسلم اکثریتی ممالک اسے اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں؟ اگر بیانات اور قراردادوں کو دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ مسلم ممالک کی حکومتیں کشمیریوں اور فلسطینیوں کی تحریک آزادی کو درست سمجھتی ہیں ، اگلا سوال یہ ہے کہ پھر یہ تنازعات حل کیوں نہیں ہورہے ہیں؟ان سوالوں کا ٹھوس اور مدلل جواب او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو ضرور دینا چاہیے کہ بطور تنظیم، وہ ان ایشوز کو حل کرانے میں ناکام کیوں رہتی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں البتہ اس سلسلے میں مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے دوران خطاب افغانستان کے نئے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔انھوں نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں،فیصل بن فرحان نے یمن کے حوثی باغیوں سے اسلحہ اسمگلنگ ختم، حملے بند، بحری سلامتی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یمن کو انسانی ہمدردی کے تحت ہر ممکن امداد کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے اور مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اس موقعے پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں نوآبادیاتی نظام پر مبنی ہیں اور اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے،سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک طویل عرصہ سے حل سے محروم ہے،مسئلہ کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک استصواب رائے میں ہے۔
نائیجر کے وزیر خارجہ حسومی مسعودو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ اور دیگر خطوں میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ دی جائے، کشمیر اور فلسطین پر موثر آواز بلند کی گئی تھی، گروپس کے مختلف اجلاس ہوئے تاہم قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔قازقستان کے نائب وزیراعظم مختار تلبردی نے کہا قازقستان مسئلہ کشمیر کا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل چاہتا، اس کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا بھی منصفانہ حل ہونا چاہیے۔اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے صدر ڈاکٹرمحمدالجسیر نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کی امداد کے لیے اسلامی تعاون تنظیم اور امداد دینے والے ممالک اور اداروں کے علاوہ بین الاقوامی برادری کی مربوط کوششوں کی ضرورت ہے،انھوں نے او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت اور تجارتی راہداریوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں