Voice of Asia News

اتحادی، مفاد ی، فسادی، تحریر رضا ہاشمی

یہ سیاسیات کا کھیل ہے، یہ منافقوں ہی کی جیل ہے
یہا ں بھونکتا کوئی اور ہے، یہاں کاٹتا کوئی اور ہے

یہ شعر میں نے زمانہ طالب علمی میں گجرات میں چوہدریوں کے گھر نت ہاؤس میں منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے میں سنا
ضیاالحق قاسمی جب اپنی یہ نظم پڑھ رہے تھے اس وقت سٹیج پر اس وقت کے وزیر اعلی غلام حیدر وائیں سمیت کئی وزرا اور سیاستدان براجمان تھے۔ چوہدری صاحبان میزبانی فرما رہے تھے سامعین میں اکثریت اسٹوڈنٹس کی تھی۔ جو کے اس شعر پر مقرر مقرر کی تکرار کر رہے تھے۔ جبکہ تمام سیاستدان ایک دوسرے کو دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنس رہے تھے مگر کسی نے مائینڈ نہیں کیا آج اتنے برسوں کے بعد مجھے اس شعر کی تشریح معلوم پڑی ہے حکومت کو گرانے کے چکر میں سب مخالفین ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو گئے ہیں۔

عمران خان کی بابت یہی کہہ سکتا ہوں کہ
زندگی گاوں کی حسین لڑکی۔ گِھرگئی ہے تماش بینوں میں۔
اس وقت تین قسم کے لوگوں کے ساتھ حکومت وقت کا سامنا ہے

اتحادی مفاد ی اور فسادی

ان میں شیخ رشید، فہمیدہ مرزا زبیدہ جلال جیسے اتحادی بھی شامل ہیں جو اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے ہیں جبکہ کچھ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق ، بی اے پی اور شاہ زین بگٹی جیسے مفاد ی بھی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو آکشن پر پیش کر دیا کہ لگاؤ ہمارا ریٹ جو مراعات زیادہ دے گا ان کا ووٹ انہی کو جائیگا پھر سب تماشا قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگوں کو اپنا ضمیر جگانے کے لیے سندھ ہاؤس جانا پڑا سنا ہے وہاں نوٹ سنگھا کر ضمیر کو ہوش میں لایا جاتا ہے ویسے کمال ہیں یہ ضمیر بھائی بھی تین سال تک وزارتوں کے نشے میں مدہوش سوئے رہے۔
ایم لیو ایم اور ق لیگ نے ہر مشکل موقع پر موقع شناسی کی اور زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے۔ جتنے لوگ اتنی وزارتیں ، چوہدریوں کو اور کیا چاہیے تھا سپیکر اسمبلی کا عہدہ بھی پانچ سیٹوں والے اتحادی کے لیے سوپر سے اوپر والی بات تھی مگر انہوں نے شاید یہ ثابت کرنا چاہا کہ ان کی پارٹی میں ق قینچی والا ہی ہے قائداعظم والا نہیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ نام کے ساتھ چوہدری لکھنے سے بندہ چوہدری نہیں بن جاتا چوہدری بندہ اپنی عادتوں ، خصلتوں اور فیصلوں سے بنتا ہے مگر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اینج وی او چوہدری تے اُونج وی او چوہدری۔ اب یہ لوگ اپنے لوگوں میں بیٹھ کر اخلاقیات اور اصولی سیاست کے لیکچر نہیں دے سکتے۔ مفاد پرست سیاستدان یہ بھول گئے ہیں کہ اگلے الیکشن میں دوبارہ عوام میں جانا پڑیگا اور عمران خان نے عوام کو اتنا با شعور اور دلیر ضرور کر دیا ہے کہ اب وہ سوال اور فیصلہ کرتے ہوے کبھی نہیں گھبراتے میرے خیال میں لوٹوں کی سیاست کا آخری دور چل رہا ہے۔
۔
کوئی مال پہ بکا تو کوئی وزارت پر ان کا بس چلے تو ملک کا نام (او ایل ایکس)
رکھ دیں جہاں سب بکتا ہے

ہاں تو تیسری قسم ہے ,,فسادی ,, جن کی ایک ہی آرزو ہے کہ ہر اقتدار میں شریک رہیں انکی اسمبلی میں چاہے کوئی سیٹ ہو یا نہ ہو اگر آپ انہیں حصہ نہیں دیتے تو وہ ملک میں فساد برپا کرتے ہیں اسلام کے نام پر اسلام آباد کی سیاست کرتے ہیں۔ غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنتے ہیں بد امنی اور انتشار پھیلاتے ہیں قانون کے کٹہرے میں بلائے جائیں تو دھمکی دیتے ہیں کرپشن کا پیسہ ملک سے لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں اور ملک میں یہ پیسہ صرف ووٹ کو عزت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں
تحریک عدم اعتماد پیش ہو چکی شاید تین اپریل کو کامیاب بھی ہو جائے مگر میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ عمران خان ایک نڈر، ایماندار اور جرت مند لیڈر ہے اس کے جانے کا نقصان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کو ہوگا۔ اگر قوم نے اس دیدہ ور کی قدر نہ کی تو نرگس کو پھر سے ہزاروں سال رونا پڑے گا۔ پہلی دفعہ ہم ایک آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہوے ہیں جو اس ملک کا حق ہے۔ بہت مدت کے بعد خدا نے ہمیں ایسا لیڈ دیا ہے جو ملک اور قوم کا سوچتا ہے جس نے حرمت رسول کا مقدمہ بڑی جرات اور بہادری سے لڑا۔ قومی لباس پہننے والا پہ رہنما دنیا بھر میں قومی غیرت کا مظاہرہ کر کے قوم کی عزت بڑھاتا ہے نصاب تعلیم کو ایک کر کے ہمیں ایک قوم بنانا چاہتا ہے ریاست مدینہ کی مثالیں دینے والا یہ شخص کسی مذہبی جماعت کا سربراہ تو نہیں مگر قرآنی تعلیم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سکولوں میں رائج کر کے ہماری نسلوں کو سچا مسلمان اور عاشق رسول بنانا چاہتا ہے خدا کے سوا کسی کے آگے نہ جھکنے کا نعرہ اس مرد حر نے اس لیے لگایا کہ ہم ایک خوددار قوم بن سکیں غریب کا درد رکھنے والا ایسا وزیر اعظم جو پناہ بھی دے اور لنگر بھی پھر نہیں ملے گا بھائی۔ قدر کرو اس حساس شخص کی جس نے احساس پروگرام کے ذریعے لاکھوں غریبوں کا احساس کیا۔ اس بندے نے دن رات کام کیا اپنی صحت کا حیال نہ رکھا مگر ہر شحص کی جیب میں دس لاکھ کا صحت کارڈ ڈال دیا تاکہ غریب کم از کم علاج کے لیے مقروض نہ ہو۔ بے گھر افراد کے لیے اپنا گھر سکیم جیسی پالیسیاں بنانے والے عمران خان نے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض اور کامیاب جوان جیسے انقلابی اقدام اٹھانے۔ اسکے کارناموں اور خدمات کی فہرست طویل ہے مگر آزاد خارجہ پالیسی اس کا جرم بن گئی۔ اور ملکی مافیا ملک دشمنوں کے الہ کار۔ یہ شحص اس ملک کے لیے امید کی واحد کرن ہے اسے وقت پورا کرنے کا موقع ملنا چاہیے سازش بے نقاب ہوجانے کے بعد تحریک عدم اعتماد واپس لے کر تحقیقات کروانی چاہیے اور جلد نئے الیکشن کروا دینا چاہیے. یقین کریں یہ بندہ کبھی ملک کا سودا نہیں کرئیگا۔ اگر ہمارے ملک اور وزیرآعظم کے خلاف غیر ملکی سازش کامیاب ہوتی ہے تو ہمارے اداروں پر بڑا سوالیہ نشان ہو گا

rhhashmi@gmail.com(تحریر رضا ہاشمی)

image_pdfimage_print
شیئرکریں