Voice of Asia News

نیکیوں کا موسم بہار شروع :حافظ محمد صالح

مسلمانوں کے لیے خالق کائنات کی انمول نعمت، بے پناہ فضائل و برکات، ان گنت رحمتوں اور عظمتوں کا حامل ماہ مبارک رمضان کریم ہم پر سایہ فگن ہوچکاہے، نیکیوں کا موسم بہارآج سے شروع ہو گیا ہے، اسی ماہ مبارک میں رب رحمن نے انسانوں کے لیے لاریب پیغام ہدایت، قرآن حکیم نازل فرمایا تاکہ بنی نوع انسان اس ہدایت ابدی کی روشنی میں حیات مستعار گزار کر دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابیاں سمیٹ سکے، رمضان المبارک کس قدر عظمت اور برکت والا مہینہ ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول کریم ؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ شعبان معظم کے آخری روز رحمت اللعالمین ؐنے اپنے صحابہ کرام ؐکو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اس مبارک مہینہ کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس مہینے کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے کو نفل عبادت مقرر کیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اﷲ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ملے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے، اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا‘ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘ اپنے اس خطبہ کے اختتام پر مخبر صادقؐ نے اپنی امت کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ:’’ اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے اور جو آدمی اس مہینے، میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی عطا کر دے گا۔‘‘ اسے عالم انسانیت امت مسلمہ اور مسلمانان پاکستان کی بدقسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہ ماہ مبارک اس حال میں ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے وہ جو قرآن حکیم کی سورۃ التین میں ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا‘‘ پوری دنیا آج اسی کیفیت سے دو چار ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں آتی ہے، حرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، غیظ و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں میں جو لوگ غرق ہو جاتے ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں‘‘ دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں وہ تصویر بہت نمایاں دکھائی دیتی ہے جو سطور بالا میں سید مودودی نے دکھائی ہے۔ تہذیب و تمدن کے تمام تر دعوؤں کے باوجود عالمی سطح پر انسان ایک دوسرے کے قتل نا حق میں مصروف ہیں اور اس پر کسی شرمندگی یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں بلکہ اپنے ترقی یافتہ اور مہذب ہونے پر فخر و انبساط کا اظہار عام ہے، امت مسلمہ کی سطح پر دیکھیں تو صورت حال زیادہ ناگفتہ بہ ہے، تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود مسلمان ممالک کی دنیا میں کوئی عزت ہے نہ احترام اور نہ کوئی اجتماعی آواز، بلکہ مسلمان حکمران عالم کفر کی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر باہم دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کے گلے کاٹنے اور اپنے بے پناہ وسائل مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچانے پر صرف کرنے میں مگن ہیں، عوام کی سطح پر بھی انفرادی اور اجتماعی حالت یہ ہے کہ کون سی برائی ہے جو ہم میں سرایت نہیں کر چکی، سابق انبیاء کی امتوں کو جس ایک ایک برائی پر تباہی و بربادی سے دو چار ہونا پڑا وہ تمام کی تمام برائیاں مجموعی طور پر ہم اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہیں۔
کیا رمضان المبارک کا استقبال ہم اس عالم میں نہیں کر رہے کہ ہمارے سیاسی قائدین باہم گتھم گتھا ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور بہتان طرازی میں اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ خدا کی پناہ، اقتدار ان کی پہلی اور آخری خواہش ہے، ہر قیمت پر اقتدار ان کی منزل ہے، جس کی خاطر وہ ہر حربہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں، ضمیر کی آواز، کے نام پر ضمیروں کا سودا سر بازارجاری ہے، پوری قوم بے بسی سے تماشا دیکھنے میں مصروف ہے مگر عبرت پکڑنے اور سبق سیکھنے پر کوئی تیار نہیں۔آج ہی اگر نئے انتخابات کرا دیئے جائیں تو نیک و صالح، امین و دیانتدار اور خدمت گزار افراد کی بجائے یہی لوٹے، لٹیرے اور ضمیر فروش پھر سے عوام کے منتخب نمائندے، رہبر اور رہنما قرار پائیں گے ایسے میں بہتری کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے؟ خود عوام کی حالت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی خاطر منافع کم رکھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کی راحت کا سامان کرنے، غیبت، چغل خوری، بہتان طرازی، جھوٹ اور فریب سے بچتے ہوئے اپنے رب رحیم و کریم سے اجر و ثواب کی امید رکھنے کے بجائے ہم عام دنوں سے زیادہ اس مہینے میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، دھوکا دہی، ظلم، زیادتی، بے کار و گھٹیا مال کی مہنگے داموں فروخت کے ذریعے ناجائز اور حرام ذرائع سے زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے کی روش پر گامزن ہیں اور پھر عجب طرز فکر یہ بھی ہے کہ اسی ناجائز کمائی سے افطار کی دعوتوں کے اہتمام اور خیرات کی نمائش کے ذریعے ’’اجر عظیم‘‘ کی توقع بھی رکھتے ہیں، ہمیں کون سمجھائے کہ اجر و ثواب اور اﷲ تعالیٰ کی رضا صرف اور صرف رزق حلال کو اﷲ کی راہ میں خلوص نیت اور دکھاوے سے بچتے ہوئے خرچ کرنے سے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو، حاصل ہو گی۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء کرام اور صاحبان محراب و منبر بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے، رمضان المبارک کی برکات کے حصول کے لیے حقیقی جذبہ اور قوت کار ہمیں عطا فرمائے، امت مسلمہ، پاکستانی قوم اور ہم سب کو اسلام اور ایمان کی حقیقی روح سے آشنا کرے۔

h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں