Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اختلاف کو کچلنے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے،تاریگامی

کنور( وائس آف ایشیا )کشمیری سیاست دان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت مقبوضہ جموںوکشمیر میںسیاسی مخالفین کو ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد یوسف تاریگامی نے جو کہ پارٹی کنونشن میں شرکت کے لیے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کنور میں ہیں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کا ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔ان کا یہ تبصرہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو طلب کرنے کے بعد سامنے آیا۔فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور کئی دوسرے لیڈیوں کو بھی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے طلب کیا جاچکا ہے۔ انہوںنے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ طریقہ ہے جس سے بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں امن بحال کرنے جا ررہی ہے۔محمد یوسف تاریگامی نے کہ انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ(ای ڈی)، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور این آئی اے کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں چھاپوں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور مخالفین پر کالا قانون یو اے پی اے لاگو کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہا یہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنمائوں کو ڈرانے اور نیچا دکھانے کی کوشش ہے تاہم ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے۔ محمد یوسف تاریگامی نے مزید کہا کہ بھارت کا کشمیر میں ترقی کا دعویٰ قطعی طور ہر بے بنیا د ہے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں