Voice of Asia News

تاریخی فیصلہ اور صدارتی نظام

گذشتہ رات سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا جو مدتوں یاد رکھا جائیگاعدالت نے ایک تاریخی فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا بھی دیا تھا وہ بھی تاریخی تھا پھر ایک ایک تاریخی فیصلہ محترمہ بینظیر بھٹواور میاں نواز شریف کے دور میں بھی ہوا تھا جسے چمک اور کینگرو کورٹس کا نام بھی دیا گیا مگر اس بار تاریخی اور فوری فیصلے پر کسی نے کوئی نام نہیں دیا بلکہ اس تاریخی فیصلے کو تاریخ کے لیے چھوڑ دیا اور آنے والا وقت بتائے گا کچھ بے گناہ لوگوں کے تاریخی تاریک فیصلے جیلوں میں مشقت کاٹتے کاٹتے موت کو گلے لگانے کے بعد بے گناہی کی صورت میں کیوں ہوئے اور کچھ افراد کے فیصلے شب و روز کی محنت کے بعد رات کی تاریکی میں کیوں اتنی جلدی ہوجاتے ہیں گذشتہ رات سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم بھی غیر آئینی قراردیدیاعدالت نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق اجلاس 9 اپریل کو بلانے کا حکم دیا ہے سپریم کورٹ کے 5 ججز نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ 3 اپریل کے بعد سے وزیراعظم کے تمام اقدامات کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے چار روز سماعت کے بعد از خود نوٹس کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کیا عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عدم اعتماد کو جلد از جلد نمٹایا جائے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسمبلی کی کارروائی جاری رہے گی کسی ممبر کو ووٹ دینے سے نہیں روکا جائے گا آرٹیکل 63 اے سے متعلق اس فیصلے کا عمل نہیں ہوگا عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی کابینہ بھی بحال ہوگئی ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے نگراں حکومت کے قیام کیلئے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات بھی کالعدم ہوگئے ہیں چیف جسٹس نے فیصلہ سنانے سے قبل چیف الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ بتائیں انتخابات کب تک ہوسکتے؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہم ہر وقت تیار رہتے ہیں حلقہ بندیوں کا مسئلہ ہے ہم نے حلقہ بندیوں سے متعلق کئی خطوط لکھے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پورے ملک کی حلقہ بندیاں کرنی ہیں کیا؟ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا جی سر پورے ملک میں حلقہ بندیاں ہوتی ہیں جب نئی مردم شماری ہو اورہمیں حلقہ بندیوں کیلئے 4ماہ چاہئیں جبکہفاٹا انضمام کے بعد سیٹیں کم ہوگئی ہیں جس سے پورے ملک میں حلقہ بندیوں میں تبدیلی آئے گی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن ڈیوٹی ادا کرنے کیلئے تیار ہے اورآپس میں مشورہ کرنے کے بعد اپنا متفقہ تاریخی فیصلہ سنادیا ایک اور بات کہ از خود نوٹس میں نظر ثانی اپیل کا حق نہیں ہوتا اس لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر نہیں کی جاسکتی ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اسے کسی فورم پر چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی جانب سے فیصلے کیخلاف اپیل میں جانے کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں ہمارے اس نظام جمہوریت میں بہت سی خرابیاں ہیں سب سے بڑی خرابی بلیک میلنگ کی ہے کہ جس کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے ہیں اسے ہی بعد میں بلیک میل کرتے ہیں کروڑوں کی ڈیلیں ہوتی ہیں اور ایکشن کوئی نہیں ہوتا ہمارے ملک میں صدارتی نظام سب سے بہتر اور پائیدار ہے اسی حوالہ سے ملت پارٹی کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ چوہدری محمد سعید صدیقی کا ایک نظریہ ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں صدارتی نظام بہت ضروری ہے کیونکہ پارلیمانی نظام حکومت میں اراکینِ قومی اسمبلی وزیرِ اعظم کو اپنے ذاتی مفادات اور وزارتوں کے حصول کے لیے بلیک میل کرتے ہیں جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے پارلیمامی نظام حکومت اراکین اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ کا نظام ہے اس نظام حکومت میں اراکین اسمبلی اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر ووٹ حاصل کرتے ہیں پھر اسمبلی میں جا کر پیسے لے کر بک جاتے ہیں اس طرح ووٹر کو عزت نہیں ملتی یہ نظام صرف سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کے حصول کا نظام ہے اس میں عوام کو عزت نہیں ملتی، پاکستان میں پارلیمانی نظام کرپشن کو پروموٹ کرنے کا نظام ہے اور کرپشن کا آغاذ ہمارے سیاستدان کرتے ہیں اس نظام کی وجہ سے ہمارے ممبران کی بھیڑ بکریوں کی طرح خریدوفروخت ہوتی ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اس نظام میں ہمارے اراکین اسمبلی اور سیاستدان جمہوریت کی چھتری کے نیچے اپنے ذاتی کاروبار کو تحفظ دیتے ہیں اور اپنے حلقے میں اپنے ووٹروں کو مایوس کرتے ہیں پارلیمانی نظام میں امیدوار ووٹ خرید کر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور یوں اپنے حلقے کی عوام کے ساتھ ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اس نظام میں ان پڑھ اور نااہل لوگ اسمبلی میں پہنچ کر عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گے پیسوں پر عیاشی کرتے ہیں پاکستان جیسا غریب ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ہمارے سیاستدانوں نے اسمبلیوں میں گالم گلوچ کے کلچر کو پروان چڑھایا ہے اس نظام نے سوائے انتشار اور آپس کی نفرت کے ملک اورقوم کو کچھ نہیں دیا پاکستان میں اس نظام کے تحت نااہل سیاستدانوں نے ملک کے تمام اداروں کو برباد کر کے رکھ دیاہے اس نظام میں ہمارے سیاستدانوں نے پارلیمنٹ میں بجٹ اور دیگر مسودات کی کاپیاں جو عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے تیار کی جاتی ہیں ان کو پھاڑ کر ایک دوسرے کے اور اسپیکر کے منہ پر مارنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا اس پارلیمانی نظام میں ہمارے کرپٹ اور بد زبان سیاست دانوں نے سوائے توڑ پھوڑ،نعرے بازی،ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کے علاوہ اج تک ملک و قوم کو کچھ نہیں دیا اس پارلیمانی نظام کی وجہ سے ملک میں ہمیشہ سے سیاسی عدم استحکام رہا ہے اور ہمارے سیاستدان اس کے ذمہ دار ہیں پارلیمانی نظام میں ہمارے سیاست دان جو کام پارلیمنٹ میں کرنے ہوتے ہیں وہ سڑکوں پر آ کر ملک میں ہنگامہ آراء اور توڑ پھوڑ کر کے کرتے ہیں پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام اس قدر گندہ اور بدبودار ہو گیا ہے کہ اس میں ہر سیاست دان اور ہر سیاسی پارٹی نے اپنے حصہ کا گند ڈالنے میں کوء کسر نہیں چھوڑی اب یہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے. اب حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ اس نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا جائے پاکستان میں پارلیمانی جمہوری سیاست نے ریشہ دیوانی, سیاسی جوڑ توڑ, چال بازی, جائز ناجائز طریقوں سے حصول اقتدار, تحفظِ مفادات, ہوس کی امیری, ہوس کی وزیری، دھوکا، فریب، جھوٹ، سازش اور مکارانہ طور طریقوں کو رواج دیا ہے یہ ہیں وہ وجوہات جن کی وجہ سے میری پارٹی ملّت پارٹی پاکستان ملک میں صدارتی نظام حکومت کا مطالبہ کرتی ہے اس نظام کے نفاذ کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر ملک کے لیے نیا صدارتی آئین تیار کرنا ہو گا. اور ایک مستحکم سیاسی نظام دینا ہو گا صدارتی نظام حکومت نظام خلافت سے بھی ملتا جلتا نظام ہے. اور صدارتی نظام حکومت میں انتظامیہ اور مقننہ دونوں الگ الگ ہوتے ہیں. اس میں پارلیمنٹ کے ممبران کو وزارتیں نہیں دی جاتیں مرکز میں صدر اور صوبوں میں گورنر ہوں گے یہ کم خرچ نظام حکومت ہے پاکستان کی سیاست میں جو آجکل گند ہمارے سیاست دانوں نے ڈالا ہوا ہے اس گند کو صدارتی نظام لا کر صاف کیا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں