Voice of Asia News

حکمرانوں کی نا اہلی سے شعبہ زراعت بحران کا شکار: محمد قیصر چوہان

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کا مجموعی رقبہ 12کروڑ 85لاکھ 78ہزار3سو 8 ہیکٹر ہے۔ جس میں سے 7 کروڑ96 لاکھ 10ہزار ہیکٹر رقبہ زرعی اراضی اور جنگلات پر مشتمل ہے۔ جنگلات کا رقبہ28 لاکھ 90ہزار ہیکٹر ہے۔ 5 کروڑ 94 لاکھ 60ہزار ہیکٹر زرعی اراضی وہ ہے جس پر اس وقت کاشت ہوسکتی ہے لیکن اس میں سے صرف 4 کروڑایک لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت ہو رہی ہے۔ 3 کروڑ48 لاکھ60 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی ایسی ہے جسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی کل آبادی کا 60فیصد دیہی آبادی پر مشتمل ہے۔ اس 60 فیصد آبادی کا تین چوتھائی بے زمین ہاریوں اور کھیت مزدوروں پر مشتمل ہے اور باقی ماندہ ایک چوتھائی چھوٹے کسانوں سے لے کر اوپری درمیانے کسانوں پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی قومی پیداوارمیں زراعت کا حصہ 21فیصد ہے۔ زراعت ملک کے 45فیصد لوگوں کے روزگارکا ذریعہ ہے۔ زراعت کا شعبہ لوگوں کو خوراک اورصنعتوں کو خام مال کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرِ مبادلہ کا 45فیصد زرعی تجارت سے حاصل ہوتا ہے پاکستان کا اہم شعبہ ہونے کے باوجود، یہ بری طرح نظر انداز ہورہا ہے۔ زراعت کے شعبے سے وابستہ آبادی کا 75فیصد بے زمین ہاریوں اور کھیت مزدوروں پر مشتمل ہے اور یہ غربت سے بری طرح متاثر ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ترقی کے لیے زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔گزشتہ 74 برسوں کے دوران سیاسی، سماجی، موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے زراعت ترقی کی بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ ہماری 49%آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے یا وہ غیر معیاری خوراک استعمال کر تی ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق ملک میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث گندم کی پیداوار میں انیس لاکھ ٹن کمی کا امکان ہے ، رواں برس ملک میں گندم کی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 89 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا ، تاہم نئے اعداد و شمار کے مطابق اب گندم کی پیداوار ہدف سے 2.5 فی صد کم ہوکر دو کروڑ 68لاکھ میٹرک ٹن کے آس پاس رہنے کا امکان ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ کاشتکاروں کی کھاد کی رسائی میں مشکلات اور ناموافق موسمی حالات ہیں۔گزرے برس سے اب تک کھادوں کی قیمتوں میں مسلسل فیصد اضافہ زرعی معیشت کا دعویٰ رکھنے والے ملک کے لیے غیر معمولی تشویش کا موجب ہے۔ ایک اور خبر میں مختلف اقسام کی کھادوں کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران ہونے والے اضافے کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جو کہ ایک سو بیس فی صد کے بنتا ہے، جس کے مطابق ڈی اے پی، نائٹرو فاس، امونیم نائٹریٹ اور یوریا کی قیمتوں میں بھی قریب دگنا اضافہ ہوا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ دگنا قیمتوں پر بھی اکثر کھادیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور کاشتکار مسلسل ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دے رہے ہیں۔حکومت نے کھاد کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی مگر اس کا اثر کیا ہوا؟ کاشتکار بدستور کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ صرف دگنا قیمتوں کا مسئلہ ہی نہیں کھادوں کی دستیابی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔ اصولی طور پر صوبائی حکومتوں کو اس صورت حال میں مداخلت کرنی چاہیے مگر صوبائی حکومتیں اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔عرصہ دراز سے ہم سب یہ پڑھتے آرہے تھے کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے کیونکہ پاکستان کی جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 30 فیصد اور لیبر فورس میں 40 سے 45 فصد حصہ تھا۔پاکستان کی کل برآمدات کا 50 فیصد سے زائد حصہ اسی زرعی شعبے کا مرہون منت تھا اور ہم زرعی شعبے کی برآمدات سے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے تھے لیکن ہماری ناقص منصوبہ بندی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا سب سے اہم شعبہ زراعت بحران کا شکار ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زراعت جسے ہم اپنی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے تھے۔ وہ ہڈی جگہ جگہ سے ٹوٹ بھی چکی ہے اور شکستہ بھی ہو چکی ہے۔افسوس اس بات کا ہے ہر آنے والی حکومت نے عوام کو سرسبز انقلاب اور خود کفالت کے سہانے خواب دکھائے لیکن عملاً زراعت کی ترقی کے لیے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا‘ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے آج زراعت اور کاشتکار بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے دیہی عوام 16 ویں صدی جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ہمارے صاحبان اقتدار یہ بات اپنے پلے باندھ لیں کہ جب تک دیہات اور کسان کے مسائل حل نہیں ہوں گے زرعی خود کفالت ایک ڈراؤنے خواب سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی تقریباً 65 فیصد آبادی جو زراعت اور لائیوا سٹاک سے وابستہ ہے اس کے مسائل حل کیے بغیر زرعی ترقی ممکن ہی نہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق اب زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ کم ہو کر 19.2 فیصد اور لیبر فورس بھی کم ہو کر 38.5 فیصد ہو چکی ہے۔اسی سروے کے مطابق ہماری زراعت نے مقرر کردہ ہدف 2.8 کے مقابلے میں 2.77 فیصد حاصل کیا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے گندم‘ دھان‘ گنے‘ مکئی کی پہلے سے زیادہ پیداوار حاصل کی اور خاص طور پر کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے عوام آٹا چینی گندم اور کپاس کے سابقہ بحرانوں اور قلت کے تناظر میں نتائج خود ہی اخذ کر سکتے ہیں۔ہمارا زرعی شعبہ نہ صرف خوراک اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کے لیے خام مال کی پیداواری کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ خوراک کی پیداوار، برآمدی صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی اور روزگار کی سب سے بڑی مارکیٹ، یہ تین بنیادی اسباب زرعی شعبے کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر زرعی شعبہ کبھی اس قدر حکومتی ترجیح حاصل نہیں کر پایا جس کا یہ حق دار ہے۔اس کے نتائج خوراک کے بحران، ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے کپاس کی درآمد اور افرادی قوت کی گاؤں اور قصبوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کی صورت میں واضح ہیں۔ان نتائج میں ہر ایک کی بھاری قیمت اد اکی جاتی ہے مگر زرعی شعبے کی حقیقی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کے ذریعے اس کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت اس معاملے میں ماضی سے بڑی مثالیں فراہم کررہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اربوں ڈالر صرف اناج کی درآمد پر خرچ کیے گئے، چینی کی درآمد پر جو اخراجات ہوئے وہ اس سے الگ ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ مالی سال کے دوران اشیائے خوراک کی دآمد پر آٹھ ارب 34 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔یہ اخراجات ایک برس پہلے کے مقابلے 54 فیصد زیادہ تھے۔ چینی، گندم، پام آئل اور دالیں خوراک کے شعبے کی بنیادی درآمدات تھیں اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں پیداواری بحران تھا۔ کیا ہم خوراک کی ضروریات اسی طرح درآمدات سے پوری کریں یا ملکی زراعت کو ترقی دے کر خوراک کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کریں گے؟ درآمدات سے خوراک کی مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور عوام میں تشویش بڑھے گی۔گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران لاکھوں ایکڑ زرخیز زرعی رقبے پر جو بے ہنگم رہائشی اسکیمیں بنی ہیں اور مسلسل بن رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زرخیز زرعی اراضی پر ان رہائشی اسکیموں کے بننے کی وجہ سے ہی پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار میں کمی ہو رہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے 17.60 ملین ہیکٹر رقبے کو جسے مختلف وجوہ کی بناء پر خالی چھوڑا ہوا ہے اس پر کاشتکاری کے لیے عملاً کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ہمارے زرعی تعلیم و تحقیق کے اداروں اور محکمہ زراعت کے عملہ نے جدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں کوتاہی کی ہے۔دوسری طرف ہمارے زرعی سائنسدان زیادہ پیداوار دینے والے بیج جو بیماریوں کے خلاف زبردست قوتِ مدافعت رکھتے ہوں، تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہماری زراعت پر اس سے بھی بڑھ کر ایک ظلم یہ ہوا کہ کسانوں کو مہنگے داموں، ناقص اور ملاوٹ شدہ بیج ،کھاد ، زرعی ادویات ڈیزل مل رہا ہے، بجلی، آبپاشی کے لیے پانی اور زرعی آلات مہنگے دستیاب ہیں۔ نہری نظام بشمول چھوٹی نہریں اور کھالے بھل اور گھاس پھوس سے اٹے پڑے ہیں۔ ہماری زیادہ تر زرعی اراضی ناہموار ہے ان مندرجہ بالا مسائل کی وجہ سے زراعت کو مناسب پانی نہیں ملتا۔ ہمارے کاشتکاروں کو کسی نے نہیں بتایا کہ آبپاشی کے لیے پانی کی کمی کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ زمین اور پانی کا تجزیہ کیوں ضروری ہے؟ فصلوں کی کٹائی کے وقت پیداوار کو ضایع ہونے سے کس طرح بچانا ہے؟ زرعی پیداوار کو اسٹوریج کیسے کرنا ہے؟کاشتکار کی پیداوار کم ہو جائے تو بھی عذاب، پیداوار زیادہ ہو جائے تو پھر بھی وہ اس کی فروخت کے لیے آڑھتیوں کے مکمل رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ہمارے محنتی کسانوں کے ساتھ یہ ظلم، زیادتی اور ناانصافی صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ زراعت اب ہماری ترجیح ہی نہیں رہی۔رواں سال کھاد کی ہوش ربا قیمتوں، بجلی اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے اور گندم کی امدادی قیمت نہ بڑھنے کی وجہ سے گندم کی بوائی کا ہدف پورا نہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ گندم اور کپاس سے آگے دالوں اور تیل دار فصلوں کی کاشتکاری کی جانب دیکھیں تو حالیہ چند برس کے دوران کوئی قابل ذکر حکومتی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ حکومت کی یہ ناکامی کھانے کے تیل اور دالوں کی درآمدات میں اضافے کی صورت میں واضح ہے۔اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی کوئی بڑا کام نظر نہیں آتا۔ زمینی حقیقتوں میں تو نہ کوئی ایسا جامع منصوبہ نظر آتا ہے اور نہ ہی ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے حال ہی میں زرعی قرضوں میں اضافے کا ہدف ضرور مقرر کیا گیا ہے مگر سود کی شرح جس قدر بڑھائی جاچکی ہے۔اس کے ساتھ یہ قرض زرعی شعبے کے لیے کتنے فائدہ مند رہ گئے ہیں، اسے بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں زراعت کو سرمایے کی کمی کا سامنا ہے مگر صرف سرمایہ کچھ نہیں کرسکتا جب تک کہ حکومت کی جانب سے اس شعبے کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی اور منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔آبپاشی کی سہولتیں ناکافی ہیں اس جدید دور میں بھی پاکستان کا کسان فرسودہ اور پرانے طریقوں سے کاشتکاری کرنے پر مجبور ہے۔ زرعی آلات اتنے مہنگے ہیں کہ کسان کی استطاعت سے باہر ہیں۔ مہنگی ہونے کے ساتھ جعلی زرعی ادویات بھی، پاکستانی کسان کا ایک بنیادی مسئلہ ہیں۔ سودی زرعی قرضے اور وہ بھی زیادہ شرحِ سود پر، غریب کسان کیلیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ کسانوں کو ان کی اجناس کی معقول قیمت نہیں ملتی۔ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی بڑی بیوروکریسی بھی کسانوں کو لوٹنے پر لگی ہو ئی ہے۔ملک وقو م کیلئے اناج اگا نے والا کسان محکمہ خوراک کے دفتر کے باہر جانوروں کی طرح سارا سارا دن لائن میں کھڑا رہنے کے بعد خالی گھر کو لوٹ جاتا ہے مگر اس کو اپنی فصل بیچنے کیلئے باردانہ نہیں ملتا۔ آخر مجبور ہوکر کوڑیوں کے بھاؤ مافیا کو بیچتا ہے۔ ساری دنیا کیلئے اناج اگا نے والے کسان کے گھر میں روٹی تک نہیں اس نے کیا اپنی اور اپنے خاندان اور باقی ضروریات پوری کرنی ہیں۔ آج حالا ت یہ ہو گئے ہیں کہ مسلسل نقصانات کے باعث اناسی لاکھ خاندان دیہات چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کی تلاش میں چلے گئے ہیں۔
پاکستان میں ٹریکٹر کی صنعت بے رحم اجارہ داری کی گرفت میں ہے۔ کل ملا کے غالباً دو کمپنیاں ہیں جو نہ مسابقت کا ماحول پیدا ہونے دیتی ہیں اور نہ ہی معیار پر توجہ دیتی ہیں۔ البتہ ملی بھگت سے ہرسال ٹریکٹروں کی قیمتوں میں خاصا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے ہر سال لاکھوں کسان اور محنت کش غربت کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں۔گذشتہ چند سالوں سے کسان تحریکیں اٹھ رہی ہیں مگر اس میں چھوٹے کسان کی شرکت نسبتاً کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ ان تنظیموں کی قیادت اوپری درمیانے کسانوں کے پاس ہے اور اسی لیے ان تنظیموں کے مطالبات بھی کسانوں کی اسی پرت کے مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کسان تنظیموں کے پروگرام میں بے زمین ہاریوں اورکھیت مزدوروں کے لیے کچھ بھی موجود نہیں جو کہ دیہی آبادی کا قریباً تین چوتھائی حصہ بناتے ہیں۔ اس وجہ سے دیہی آبادی کی اکثریت شدید معاشی جبر اور سلگتے ہوئے غصے کے باوجود ان تحریکوں میں شامل نہیں ہو رہی۔ اس ملک میں جہاں ہر روز سینکڑوں بچے غربت، غذائی قلت اور قابل علاج بیماریوں سے مرتے ہیں وہاں ادویات، علاج اور مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے بزرگوں کی اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ادویات مہنگی ہوتی جارہی ہیں جبکہ علاج نجکاری کی بھینٹ چڑھ کر عوام کی پہنچ سے دور ہورہا ہے۔ ہمیں جاگیرداری و قبائلی نظام کی باقیات کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی، تعلیم عام کرنی ہوگی۔ یہاں حقیقی انقلابی طبقہ مزدور ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں۔ اگر ہم اعدادوشمار کے حوالے سے بھی دیکھیں تو پاکستان میں45فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔18فیصد مزدورہیں جب کہ باقی ماندہ 28فیصد سروس سیکٹر سے وابستہ ہیں اس طرح 46فیصد آبادی مزدوروں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں زرعی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے اور یہ 80فیصد سے کم ہو کر آج 60فیصد کے قریب رہ گئی ہے اور اندازہ ہے کہ چند سالوں تک دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نصف آبادی شہری ہو گی۔ کسان سماج کا مکمل انحصار سرمایہ داری پر ہے۔ کسان مارکیٹ کے لیے پیدا کرتے ہیں اورعالمی معاشی بحران، جنگوں اور دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کا کسانوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ریاست سرمایہ داری کے تحت اقدامات اٹھاتی ہے۔پاکستان میں مرکزی، صوبائی، ضلعی اور بلدیاتی مشینری کو مزدور چلاتے ہیں اس کے ساتھ صنعت کا پورا شعبہ بھی مزدور طبقے کی بدولت ہے۔ پاکستان کی ریاست اور اس کا پورا ڈھانچہ سرمایہ داررانہ بنیادوں پر قائم ہے۔
ہماری حکومت نے زرعی ٹیکس اور دیگر کئی صورتوں میں زرعی اشیاء کو شدید مہنگا کر دیا ہے۔ غریب پہلے مہنگائی کی وجہ سے سبزی کھانے پر ترجیح دیتا تھا مگر اب وہ بھی مہنگائی کے باعث غریبوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کی بجائے اپنی زرعی زمینیں فروخت کرکے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورتحال مکمل طور پر ٹھپ ہو جائے گی۔ فصل کی کاشت کے دنوں میں کیمیائی کھادیں ہر علاقے میں مختلف نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں۔ملاوٹ کے سبب زمین کی زرخیزی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زہریلی زرعی ادویات کے نرخوں میں بھی بے تحاشا اضافہ کسانوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ نا مناسب کھادوں، زہریلی زرعی ادویات کا استعمال ہونے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہونے لگی ہے ۔ہمارے کاشتکار اور کسانوں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے اور انہیں جدید طریقوں سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔ انھیں جراثیم کش ادویات کے استعمال، معیاری بیجوں کے انتخاب اورمصنوعی کھاد کے مناسب استعمال کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار ملک کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ وہ کاشتکاری کے صرف ان روایتی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو انھوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھے ہیں۔ نئی اور جدید ٹیکنولوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسان بہتر پیداوار حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کے لییکسانوں اور کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کسان اور کاشتکار آج بھی لکڑی کے ہل، گوبر کی کھاد، غیر تصدیق شدہ مقامی بیج اور کاشتکاری کے قدیم طریقے استعمال کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہورہا ہے باوجوداس کے کہ ہمارے کسان انتہائی محنتی اور جفاکش ہیں۔ ٹریکڑ، ٹیوب ویل، کھاد، تصدیق شدہ معیاری بیج اور بیجوں کی ایک منظم اور ترتیب، مشینی کاشتکاری کے اہم اور لازمی اجزاء ہیں جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کسان ان تمام سہولیات کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ہم اس حقیقت کو کب اپنے پلے با ندھیں گے کہ زراعت کوترقی دیئے بغیر اور اس ملک کے کسان کی حالت زار میں بہتری لائے بغیر ہم خود کو زراعت میں خود کفیل نہیں بنا سکتے ہیں۔ دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک نے سب سے پہلے زرعی نظام میں اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کو لاگو کرکے ہی زراعت میں خود کفالت حاصل کی ہے، کیونکہ زراعت کے بغیر نہ تو صنعت کا پہیہ چل سکتا ہے اور نہ مقررہ شرح نمو اور ترقی و خوشحالی کے پیرا میٹرز پر عملدر آمد کو یقینی بنا یا جاسکتا ہے۔ہمارا ملک زراعت کے شعبے میں جب ہی ترقی کر سکتا ہے جب حکومت خود نیک نیتی سے زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے اور زرعی ترقی کے لئے اقدامات کرے۔ سیاستدان عوام کو سیاسی بیان کے ذریعے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں، ان بیانا ت سے کسی بھی ملک کا بھلا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کے بجائے ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہے۔
شعبہ زراعت کے مسائل:
(1)۔زراعت کے شعبے سے وابستہ آبادی کا 50فیصد بے زمین ہاریوں پر مشتمل ہے اور یہ غربت سے بری طرح متاثر ہیں۔ جاگیر دارانہ نظام ،ایک ظالمانہ نظام بن گیا ہے۔
(2)۔ کسانوں کو پانی کی کمی کا بھی سامنا رہتا ہے ہے۔ آبپاشی کی سہولتیں ناکافی ہیں۔بھارت کی طرف سے آبی دہشت گردی بھی ہوتی رہتی ہے۔دریاؤں کے پانی پر اس کا کنٹرول ہے۔یہ جب چاہتا ہے ،پاکستان میں سیلاب اور قحط لے آتا ہے۔
(3)۔ اس جدید دور میں بھی پاکستان کا کسان فرسودہ اور پرانے طریقوں سے کاشتکاری کرنے پر مجبور ہے۔زرعی آلات اتنے مہنگے ہیں کہ کسان کی استطاعت سے باہر ہیں۔
(4)۔ مہنگی ہونے کے ساتھ ،جعلی زرعی ادویات بھی،پاکستانی کسان کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔
(5)۔ سودی زرعی قرضے اور وہ بھی زیادہ شرح سود پر،غریب کسان کاایک سنگین مسئلہ ہے۔
(6)۔ کسانوں کو ان کی اجناس کی معقول قیمت نہیں ملتی۔ یہ اپنی آمدن سے اپنے روزمرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتے۔
(7)۔ حکومت کے پاس ضروری غذائی اشیاء ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔اس طرح تقسیم کا نظام بھی ناقص ہے۔
(8)۔کسانوں کی ناخواندگی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ زراعت میں جدت لانے میں ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
(9)۔ فی ایکڑ پیداوار کم ہے۔اس سے مجموعی ملکی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے۔
(10)۔ زرعی شعبہ خصوصی فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔
(11)۔آبپاشی کے ناقص نظام کی وجہ سے بہت سا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔
(12)۔ پانی کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔اس کا سبب نمکیات کی کمی بیشی ہے۔
زراعت کے مسائل کے اسباب:
(1)۔زمین کی ملکیت کی حد طے نہیں۔بڑی بڑی جاگیریں بے آباد اور بے کارپڑی ہیں۔
(2)۔چھوٹے چھوٹے کھیتوں کی تعداد زیادہ ہے۔لہٰذا ان میں جدیدطریقوں سے کاشتکاری ممکن نہیں ہوتی۔
(3)۔حکومت نے اپنے فیصلوں میں زراعت کو کبھی ترجیحی طور پر نہیں لیا۔اس لئے یہ شعبہ حکومتی عدم دلچسپی کا شکار ہے۔
(4)۔ کھیتوں کا ناہموار ہونا بھی ایک سبب ہے۔
(5)۔ کھادوں کا غیر متناسب استعمال بھی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
(6)۔غیر معیار بیجوں کا استعمال بھی پیداوار پر اثر ڈالتا ہے۔
(7)۔ ناقص زرعی ادویات، دوہرا نقصان پہنچاتی ہیں۔ایک تو پیداوار ضائع ہوتی ہے دوسرے زمین بھی ناکارہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
(8)۔پاکستان واحد ملک ہے جہاں زرعی آلات پر ٹیکس عائد ہے۔
(9)۔منڈیوں تک رسائی میں بھی دشواریاں حائل ہوتی ہیں۔
(10)۔ موسموں اور سیلابوں کی غیریقینی صورتِ حال سے بھی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
(11)۔ سیم اور تھور سے بھی زمین ناکارہ ہوجاتی ہے اور پیداوار دینے کے قابل نہیں رہتی۔
زراعت کے مسائل کا حل:
(1)۔حکومتی سطح پر زرعی شعبہ کے لئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے اور خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے۔
(2)۔کسانوں کو پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے اور آبپاشی کے متبادل ذرائع تلاش کئے جائیں۔
(3)۔زراعت کے جدید طریقوں سے استفادہ کیا جائے۔
(4)۔حکومت کسانوں سے مشاورت کے بعد ،ہر فصل کے پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتیں متعین کرے۔
(5)۔بڑی بڑی جاگیروں کو مناسب مقدار کے کھیتوں میں تقسیم کیا جائے اور پھر ان کی کاشت کا بندوبست کیا جائے۔
(6)۔ڈیموں کی تعمیر بلا تاخیر کی جائے ،تاکہ پانی ذخیرہ کیا جاسکے اور اس سے توانائی بھی پیداکی جائے۔
(7)۔کسانوں میں زمینوں کی تقسیم منصفانہ بنیادوں پر اور طے شدہ معیار کے مطابق شفاف انداز میں ہونی چاہئے۔
(8)۔حکومت کو زراعت کی ترقی کے لئے انفراسٹرکچر پر توجہ دینی چاہئے۔
(9)۔کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں اور چھوٹے کاشتکاروں کو مالی اامداد دی جائے۔
(10)۔دوسرے ملکو ں کی طرح پاکستان میں بھی زرعی آلات پر ٹیکس ختم کیا جائے۔
(11)۔غیر معیاری بیجوں اور زرعی ادویات کی سپلائی کو کنٹرول کیا جائے۔
اگر حکومت زراعت کے شعبہ کی اہمیت کے پیشِ نظر ،اس کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلے اور اس کے گوناں گوں مسائل پر توجہ دے تو یہ بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔ اس سے زراعت کا شعبہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔ یوں پاکستا ن خوشحال ہوگا اور اس کے عوام آسودہ ہوں گے۔پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس کو اﷲ تعالیٰ نے وافر افرادی قوت سے بھی نوازا ہے جو باصلاحیت اور ہنر مند ہے۔کمی، صرف باہمت اور پُر عزم قیادت کی ہے۔جو دیانتدارہو اور پاکستان سے مخلص بھی ہو۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں