Voice of Asia News

رمضان المبارک میں مہنگائی عروج پر:حافظ محمد صالح

پوری دنیا میں جب بھی مذہبی تہوار آتے ہیں تو اشیاء ضروریہ سے لے کر پرتعیش اشیاء تک سستی کر دی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کو منافع خوری کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمت سن کر ہی اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔امراء کا طبقہ رمضان المبارک کو نمود و نمائش کے لیے بھی خوب پیش کرتا ہے۔ مہنگے ترین ریسٹورینٹس اور ہوٹلز میں سحری اور افطار کا اہتمام ایسے کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی تقریب ہو۔ یورپ میں نیوائیر ، ایسٹر اور کرسمس کے تہواروں کی آمد سے پہلے ہی دکانوں میں سیلز شروع ہو جاتی ہے جو 25 سے 75 فیصد تک ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نیوائیر،کرسمس اور ایسٹر کے موقعوں پر یورپ میں بسنے والے مسلمان عید کے لیے پیشگی خریداری کر لیتے ہیں ۔
وطن عزیز میں رمضان المبارک میں اشیاء خورو نوش کے نرخوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،یوٹیلٹی اسٹورز اور سستے بازار بھی مارکیٹ کی قوتوں کا توڑ نہیں کر پا رہے ہیں۔ آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کے باہم گٹھ جوڑ نے ناجائز منافع خوری کا دروازہ کھول دیا ہے۔ملک بھرمیں یوٹیلٹی اسٹورز اور رمضان بازاروں میں حکومت کی طرف سے آٹا، گھی اور آئل کی کم فراہمی پر عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق مارچ کے دوران ملک میں بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی اوسط قیمت 1167.44روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔رمضان المبارک میں پھلوں، سبزیوں، برائلر اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہر سال کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے کا آغاز رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی ہوجاتا ہے اور چاند رات تک جاری رہتا ہے۔ تاجر طبقہ بھی اپنے منافع کی شرح بڑھا لیتا ہے، یوں مینوفیکچررز اور آڑھتیوں سے ہوتی ہوئی اشیاء اسٹورز اور دکانوں تک پہنچتی ہے اوراس کا اختتام گاہک پر ہوتا ہے اور اسے ہی سب کا منافع ادا کرنا پڑتا ہے، عوام لٹتے رہتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا۔ حکومت ہر سال گراں فروشوں کے خلاف کارروائی اور صارفین کو ریلیف دینے کے اعلانات کرتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔اس بار بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ماہ رمضان ناجائز منافع خوروں کے لیے موزوں ترین بن جاتا ہے۔ مشروبات اورکھانے پینے کی اشیاء نایاب اور اتنی مہنگی ہو جاتی ہیں کہ عام آدمی خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جیسے ہی آمد رمضان ہوتی ہے ہر چیز کے دام بڑھ جاتے ہیں۔مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس کو جان بوجھ کر اس مہینے میں پیدا کیا جاتا ہے اور عام آدمی کی زندگی کو مقدس مہینے میں اجیرن بنا دیا جاتا ہے۔ یہ سب حکومت کی نااہلی کے باعث بلکہ ایسے لگتا ہے حکومت تو ہے ہی نہیں۔ مہنگی اور جعلی اشیا فروخت ہوتی ہیں اور اس مہینے میں سب اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے کام کے دام بڑھاتے ہیں۔بقول تاجر حضرات ’’یہی تو کمائی کا مہینہ ہے۔‘‘
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی خاطر منافع کم رکھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کی راحت کا سامان کرنے، غیبت، چغل خوری، بہتان طرازی، جھوٹ اور فریب سے بچتے ہوئے اپنے رب رحیم و کریم سے اجر و ثواب کی اُمید رکھنے کے بجائے ہم عام دنوں سے زیادہ اس مہینے میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، دھوکا دہی، ظلم، زیادتی، بے کار و گھٹیا مال کی مہنگے داموں فروخت کے ذریعے ناجائز اور حرام ذرائع سے زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے کی روش پر گامزن ہیں اور پھر عجب طرز فکر یہ بھی ہے کہ اسی ناجائز کمائی سے افطار کی دعوتوں کے اہتمام اور خیرات کی نمائش کے ذریعے ’’اجر عظیم‘‘ کی توقع بھی رکھتے ہیں، ہمیں کون سمجھائے کہ اجر و ثواب اور اﷲ تعالیٰ کی رضا صرف اور صرف رزق حلال کو اﷲ کی راہ میں خلوص نیت اور دکھاوے سے بچتے ہوئے خرچ کرنے سے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو، حاصل ہو گی۔
پاکستان کے پاس لاکھوں، کروڑوں ایکڑ زرعی اراضی ہے، پانی بھی ہے، موسم بھی ہیں، محنتی کسان بھی ہیں، لیکن اپنے بچوں کو پھر بھی ملاوٹ شدہ دودھ پلاتے ہیں۔اشیائے خور و نوش کی کمی پوری کرنے کے لیے ہر طرح کی ملاوٹ بھی کرتے ہیں۔ ہماری اجتماعی سوچ یہ ہے کہ ہم سب کچھ ٹھیک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا انفرادی طرز عمل یہ ہے کہ جس کا جہاں داؤلگتا ہے وہ ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتا۔ یہ طرزِ عمل حکمرانوں سے لے کر بیوروکریسی اور مزدور طبقے تک دیکھنے میں آتا ہے۔ اس طرزِ عمل کے بعد کسی دشمن کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ معاشرے یا ملک کو تباہ کر ے ، ایک نہ ایک روز معاشرہ خود اپنے بوجھ سے گر جاتا ہے۔ ہمیں جھوٹ بولنے سے منع کیا گیا، لیکن ہم جھوٹ بولتے ہیں۔ ناجائز منافع خوری سے منع کیا گیا،ہم کرتے ہیں۔ذخیرہ اندوزی سے منع کیا گیا، لیکن راتوں رات امیر ہونے کے لیے ہم ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور پھر مارکیٹ میں اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کر کے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج کل ملاوٹ اور دھوکہ دہی ایک آرٹ بن چکا ہے۔ لوگ کس کس طرح سے دھوکہ دیتے اور لوٹتے ہیں‘ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہاں تو ملاوٹ کے لیے مضرِ صحت اشیا کے استعمال کو بھی غلط نہیں سمجھا جاتا۔ ملاوٹ کے لیے استعمال ہونے والی یہ اشیا لوگوں کو کن کن بیماریوں میں مبتلا کرتی ہوں گی‘ اس کا اندازہ زیادہ مشکل نہیں ہے‘ حتیٰ کہ رمضان کے مہینے میں بھی ملاوٹ والی اور دو نمبر اشیا کی فروخت میں کمی نہیں آتی۔ یہاں تو بندہ بیمار ہو جائے تو خالص اور ایک نمبر ادویات ہی نہیں ملتیں۔ مریض دو نمبر ادویات استعمال کرتا اور مزید بیمار ہو جاتا ہے۔اس وقت مہنگائی زوروں پر ہے اور مصنوعی مہنگائی کر کے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔ہمیں دنیا میں عدل،انصاف اور سچ کا بول بالا کرنا ہو گا اورخاص کر ماہ رمضان المبارک میں تاجر برادری کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مہنگائی،منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ترک کر دیں کیونکہ عبادات اسی وقت قبول ہوں گی جب اس مقدس مہینے میں سچ بولیں گے ،ناپ تول پورا رکھیں گے اور اپنے مسلمان بھائی کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنیں گے۔رمضان رحمت،مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے تاہم مصنوعی مہنگائی ،منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی اﷲ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اسلام ہمیں مساوات کا سبق دیتا ہے۔ اسلام کہتا ہے آپ کا پڑوسی بھوکا نہ سوئے لیکن رمضان شروع ہوتے ہی مسلمان ناجائز منافع کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ دس روپے کی چیز50 روپے کی ہو جاتی ہے۔ متوسط اور غریب طبقات کے دستر خوان پر جو کبھی ماضی میں پھل دکھائی دیتے تھے اب مہنگائی کی وجہ سے غائب ہو چکے ہیں۔رمضان کا سب سے زیادہ اثر اس طبقہ پر پڑتا ہے جن کے لیے زندگی پہلے ہی بہت مشکل اور ضروریات زندگی شجر ممنوعہ ہوتی ہیں۔ امراء کا طبقہ رمضان میں سحری اور افطار پارٹیاں کرتے ہیں اور اس میں نمائش کے چکر میں ایک دن میں لاکھوں خر چ کر دیے جاتے ہیں۔اس سے ہزاروں غریبوں کی مہینہ بھر کی افطاری کا انتظام ہو سکتا ہے۔دنیا کے ہر ملک میں ان کے تہوار کے دنوں میں، جیسے کرسمس ہے، خصوصی سیل لگائی جاتی ہے۔ ہر آدمی اپنی بساط کے مطابق چیزیں سستے داموں خرید سکتا ہے۔مسلم دنیا میں بھی ترکی، یو اے ای اور ملائیشیا میں رمضان المبارک میں چیزوں کے دام بڑھانا قانوناً جرم ہے، بلکہ ملائیشیا میں تو رمضان میں قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جس میں مسلمان آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے تو شاید ہم ساری دنیا میں کرپشن اور بددیانتی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اقوام عالم میں لوگ ہم پر ہنستے ہیں کہ یہ کیسا ملک ہے جو نیو کلیئر پاور ہوتے ہوئے بھی الیکٹرک پاور سے محروم ہے۔اس وقت ملک میں سنگین سیاسی بحران کی وجہ سے بیوروکریسی اور ادارے کام چھوڑ کر بیٹھے ہیں ، حالانکہ مجسٹریٹ، ضلع انتظامیہ ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اگر اپنا فعال کردارادا کریں تو ناجائز منافع خوری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مہنگائی پر قابو کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔اس کے علاوہ ہمارے ملک میں موجود مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنے کا ایک بہت اچھا حل مہنگی اشیا کا بائیکاٹ ہے۔ صارفین کے حقوق کی تنظیمیں، آگاہی مہم چلائیں تو ناجائز منافع خوری کے رجحان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔گزرے برسوں میں فروٹ کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا سے شروع ہو کر بہت کامیاب ہوچکی ہے۔اسی طرح بطور قوم ہم اتحاد کر کے ہی ان ناجائز منافع خوروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت بھی اگر ہم صرف چکن کا تین دن کے لیے بائیکاٹ کر دیں تو اس کی قیمت خود بخود نیچے آسکتی ہے۔ اس طرح کے بائیکاٹ کی دنیا میں مثالیں موجود ہیں۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں