Voice of Asia News

عدالت نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 ء کو کالعدم قرار :سید اقبال احمدہاشمی

 

اظہار رائے کے منافی پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس 2022 ء اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔اس آرڈیننس کے تحت کی گئیں کارروائیاں بھی ختم کردی گئی۔ساتھ ہی عدالت نے پیکا کی سیکشن 20 کے تحت درج مقدمات بھی خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے حکام کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کی ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ان کے خلاف لیے گئے ایکشن کی رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔واضح رہے کہ رواں سال18 فروری کو صدرمملکت نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا۔ پاکستان براڈ کاسٹرایسوسی ایشن(پی بی اے)،آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس )،کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(سی پی این ای)،ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز( ایمینڈ) پی ایف یو جے نے مشترکہ طور پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس کوسینئر قانون دان منیر اے ملک کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جس پراسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 ء کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
وطن عزیز میں نہ سیاست آزاد ہے اور نہ ہی صحافت آزاد ہے، کیونکہ دونوں کسی نہ کسی حد تک ’’کنٹرولڈ‘‘ ہیں لیکن اب سوشل میڈیا نے کسی حد تک چیزوں کو تبدیل کیا اور ہر اچھے برے پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، اور اب تو ٹی وی اور دیگر مین اسٹریم میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباوؤکے سبب کئی صحافیوں نے انٹرینٹ کو ایک متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہوا ہے۔ جو حکمران کسی طور برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ اس میں تو یہ وہ سب کچھ کہہ دیتے ہیں جو مین اسٹریم میڈیا میں نہیں کہہ سکتے۔ ظاہر ہے یہ ترامیم عام لوگوں کیواز کو دبانے غیر جمہوری عمل اور عام شہری کے حقوق کی خلاف ورزی تھیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست و صحافت تاریخی طور ہمیشہ قابو میں رکھنے کی کوشش رہی ہے، یہ فوجی اور جمہوری دونوں حکمرانوں میں کوئی حکومت آزادی رائے پسند نہیں کرتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے پریس پر کالے قوانین مسلط کیے، ذوالفقار علی بھٹو صحافیوں کو بدترین نشانہ بنایا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی یہی کیا۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار میں صحافیوں پر بغاوت کے مقدمے قائم ہوئے اور ایک دن میں چھے چھے اخبارات بند ہوئے۔ جنرل پرویز کا صحافت پر جبر کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں۔ اور اس پیکا آرڈی ننس کے روح رواں تو یہی نواز حکومت تھی جس نے اگست 2016 میں قومی اسمبلی سے ایک بل پریوینشن آف الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2016 پاس کروایا تھا۔ عمران خان کی حکومت نے اس میں ترامیم متعارف کروا کر اس میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ اہم بات یہ ہے جب( ن )لیگ یہ قانون منظور کرنے جا رہی تھی تب حزب اختلاف میں پی ٹی آئی بھی اس کی مخالف تھی اور پھر پی ٹی آئی نے بھی آزادی رائے کے خلاف قانون میں تبدیلی کر کے وہی غلطی دہرائی، جنہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈی ننس کے ذریعے جاری کیا گیا تھا اور اس کے تحت شخص کی تعریف کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
نئی ترامیم کے مطابق ’شخص‘ میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی کو شامل کیا گیا جبکہ ترمیمی آرڈی ننس میں کسی بھی فرد کے تشخص پر حملے پر قید تین سے بڑھا کر پانچ سال تک کر دی گئی تھی۔ اس آرڈی ننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارجین ہو گا، جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا تھا جو ناقابل ضمانت تھا۔ بحرحال اس کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے مشترکہ جدو جہد کی تھی۔ اور آرڈی ننس جاری ہونے کے شروع دن ہی سے اس کے خلاف پی ایف یو جے سمیت صحافی تنظیموں، وکلا، سوشل میڈیا کارکنان، میڈیا مالکان اور اپوزیشن کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آیا تھا اور پھر جب حکومت نے احتجاج اور ردعمل کو اہمیت نہ دی تواسلام آباد ہائی کورٹ سمیت عدالتوں میں بھی اس اقدام کو آئین کے خلاف قرار دے کر چیلنج کیا گیا تھا۔ اس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آرڈی ننس کو عدالت نے کالعدم قرار دیا ہے لیکن اس کے ساتھ چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں بنیادی باتیں کی ہیں وہ بھی بہت اہم ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کے حقوق معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہیں جنہیں دبانا غیرآئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے ،پیکا ترمیمی آرڈیننس کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 9،14،19 اور 19اے کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے ہتک عزت کو قابل دست اندازی جرم بنانے والی پیکا کی سیکشن 20 بھی کالعدم قرار دے دی ہے اور اس سیکشن کے تحت جو مقدمات درج ہوئے وہ بھی خارج ہوں گے۔ کیونکہ اس آرڈی ننس کی بنیاد پر کچھ لوگ نشانہ بن چکے ہیں اور عدالتی فیصلے میں بھی کہا گیا ہے کہ اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہوا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں ہیں۔ اسی طرح فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ شکایت کنندگان داد رسی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت سے توقع ہے وہ ہتک عزت کے قوانین کا جائزہ لے کر ہتک عزت آرڈی ننس 2002 کو موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کی تجویز دے گی۔ عدالت کا فیصلہ آزادی رائے کے حق میں اہم فیصلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ آنے والی حکومتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور عدالت کے فیصلے کا اس کی روح کے مطابق احترام کرتے ہوئے ایسے قوانین بنائیں جس کا کھلا اور چھپا مقصد آزادی اظہار پر قدغن لگانا نہ ہو کیونکہ ملک آمرانہ طرز عمل سے زندہ نہیں رہ سکتا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں