Voice of Asia News

صحافتی تنظیموںکی کشمیری صحافی آصف سلطان کی دوبارہ گرفتاری کی مذ مت

بر سلز( وائس آف ایشیا ) برسلز میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس(آئی ائف جے )نے کشمیری صحافی آصف سلطان کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں اورگرفتارکرنے کے لئے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آصف سلطان کو جھوٹے الزامات پر اگست 2018میں گرفتار کرنے کے بعد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ’’یو اے پی اے‘‘کے تحت تقریبا چار سال تک نظر بند رکھا گیا۔انہیں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 5اپریل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جب بھارتی حکومت ان پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔تاہم بھارتی پولیس نے آصف سلطان کو چند دن بعد ہی 10اپریل کو دوبارہ گرفتار کر لیا اور انہیں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا۔پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس ای) کے تحت آصف سلطان کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے دو سال تک نظربند رکھا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے )نے ایک بیان میں کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند افراد کو ضمانت کے لئے درخواست دینے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی نمائندگی کے لیے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔صحافیوں کی تنظیم نے کہاکہ آصف سلطان 2022 میں پی ایس اے کے تحت گرفتار ہونے والے تیسرے کشمیری صحافی ہیں۔’’ دی کشمیر والا‘‘ کے ایڈیٹر فہد شاہ کو 14فروری کو پی ایس اے کے تحت گرفتارکیاگیا تھا۔ صحافی سجاد گل کو بھی 16جنوری 2022کواسی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔آصف سلطان اپنی گرفتاری سے قبل ایک میگزین’’ کشمیر نریٹر‘‘ کے لیے کام کر رہے تھے اور انہوں نے’’دی رائز آف برہان‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں ممتاز نوجوان رہنما برہان وانی کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔آصف سلطان کو 2019میں امریکن نیشنل پریس کلب سے پریس فریڈم کا ایوارڈ ملا۔ 2020 میںان کی نظربندی کو’’ ٹائم میگزین‘‘ نے آزادی صحافت کو لاحق خطرات کے 10سب سے اہم کیسز میں شامل کیا تھا۔آئی ایف جے سے منسلک بھارتی تنظیم انڈین جرنلسٹس یونین کے صدر گیتارتھا پاٹھک نے آصف سلطان کی دوبارہ گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ تنظیم نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے حکام پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے خلاف پی ایس اے جیسے کالے قوانین کا استعمال نہ کریں اور انہیں بغیر کسی مداخلت کے اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت دیں۔آئی ایف جے نے کہا کہ آصف سلطان کی طویل نظربندی اور دوبارہ گرفتاری بھارتی آئین میں درج آزادی صحافت اور اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے کہاکہ جبری گرفتاری اورپی ایس اے کے تحت نئے الزامات جموں و کشمیر میں تنقیدی آوازوں اور آزاد رپورٹنگ کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ آئی ایف جے نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے حکام پر زوردیا کہ وہ آصف سلطان کوفوری طور پر رہا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحافی ظلم و ستم کے خوف کے بغیرآزادانہ طور پر کام کر سکیں۔دریں اثناء امریکہ میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم’’ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی پولیس پر زوردیا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرے جس کے مطابق آصف سلطان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ واشنگٹن ڈی سی میں سی پی جے کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر نے کہا کہ آصف سلطان کو رہا کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ پہلے ہی ساڑھے تین سال سے زائد عرصے تک بغیر کسی جرم کے جیل میں گزار چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکام کو صحافیوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نظربندی اورانسداد دہشت گردی کے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بند کرنا چاہیے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں