Voice of Asia News

ریاست جموں وکشمیر پر چین ہمیشہ غیرجانبدار رہا،تحریر :زاہد شفیق طیب

تنازع ریاست جموں وکشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس دسمبر1951ء میں ڈاکٹرفرنیگ گراہم کی رپورٹ پر بحث کیلئے طلب کیا گیاجس پر بحث کرتے ہوئے روسی نمائندے جیکب ملک نے امریکہ اور برطانیہ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے مفاد ات کیلئے ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے میں مداخلت کر رہے ہیں۔روسی نمائندے نے سوال کیا کہ تنازع کشمیر کا حل کیوں نہیں ہو رہا،امریکہ اور برطانیہ کی تجاویز کیوں نتیجہ خیز نہیں۔وجہ یہ ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کوحل کرنا نہیں بلکہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اور جموں و کشمیر کو اینگلو امریکن نو آبادی بنا دینا چاہتے ہیں۔جیکب ملک نے کہا کہ روسی حکومت چاہتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو موقع دیا جائے کہ وہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کا فیصلہ بغیر کسی مداخلت کے اپنی رائے سے خود کریں۔
1948ء میں پاکستان نے سوویت یونین سے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تو سٹالن نے نیک شگون قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دورہ ماسکو کی دعوت دی۔1949ء میں وزیر اعظم لیاقت علی خان یو ٹرن لیتے ہوئے ماسکو کا دورہ منسوخ کر کے اچانک امریکہ جا پہنچے۔پاکستان نے پہلے بغدادپیکٹ پھر سیٹو معاہدے میں شمولیت کر لی،روس نے اس کی سخت مخالفت کی۔روس نے تنازع جموں و کشمیرمیں عنوان کی تبدیلی سے لے کر ابتداء میں ہر سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے مشروط کرنے پر زور دیا۔لیکن لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ سے روس نے ناراض ہو کر جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا،یہی نہیں بلکہ روس کے صدر اور وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے ریاست کو بھارت کا آئینی حصہ قرار دے دیا۔روس کی طرف سے ہنگری اور چکوسلواکیہ کی عوامی تحریکوں کوفوجی طاقت سے دبانے پر بھارت کی خاموشی کے بدلے روس نے1957ء اور1962ء میں سلامتی کونسل میں تنازع جموں وکشمیر پرپیش ہونے والی قرار دادوں کو ویٹو کر دیا۔1962ء میں چین بھارت جنگ کے دوران چین نے پاکستان سے بار بار اصرار کیا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کو آزاد کروائے لیکن امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے بھارت کے کہنے پر ایوب خان کو مجبور کیا کہ وہ ایسا نہ کرے،وقت آنے پر وہ تنازع کشمیر حل کروا دیں گے۔ ایوب خان نے امریکہ ،برطانیہ کے جھوٹے وعدے میں آ کر جموں کشمیر کو آزاد کرنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا۔پاکستانی وزیر خارجہ ذو الفقار علی بھٹو سے ایک ملاقات میں چیئر مین ماؤ زے تنگ نے کہاـ’’مجھے افسوس ہے کہ جب اکتوبر1962ء میں چینی افواج بھارت کے اندر دباؤ ڈال رہی تھیں،پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کا سنہری موقع ضائع کر دیا کیونکہ وہ امریکہ کی طرف دیکھتا رہا‘‘۔
جنوری 1964ء میں صدر ایوب خان نے سوویت یونین روس کی حکومت کو خط لکھا جس میں ان سے مسئلہ کشمیرکو سلامتی کونسل میں لانے کیلئے ان کی مدد کی درخواست کی۔روسی صدر نے ایوب خان کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا سوویت روس کی کشمیر پالیسی واضح ہے کہ کشمیر بھارت کا نا قابل تقسیم حصہ ہے۔روسی صدر نے ایوب خان کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے مسائل کا پر امن حل پرانے دوست امریکہ اور نئے دوست چین کی مداخلت کے بغیر نکالے۔سوویت روس جو کارل مارکس،فریڈرک اینگلر کے انقلابی نظریات،وی آئی لینن کی جدوجہد کے نتیجے میں آمریت،جاگیرداروں اور سرمایہ دارں کو شکست دے کر ایک عظیم طاقت بن گئی ہے۔روسی حکمر ان انقلابی قائدین کو جاننے کے باوجود پسی ہوئی محکوم قوموں کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم سامراجی ممالک کا ساتھ دے رہے ہیں۔
کال مارکس کا قول ہے کہ’’جو قوم دوسری قوموں پر جبر کرتی ہے آزاد قوم نہیں کہلا سکتی‘‘۔
وی آئی لینن کے بقول’’زبردستی الحاق قوم کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے،اس کا مطلب ہے کہ آبادی کی مرضی کے خلاف ایک ریاست کی سرحدیں قائم کی جائیں‘‘ کامریڈ سٹالن کا نقطہ نظرہے کہ’’قوموں کا آپس میں اتحاد یا ادغام تب تک دیر پا نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنیاد مکمل طور پر رضاکارانہ نہ ہو،جب تک کہ متعلقہ قومیں ازخود متحد ہونے کی خواہش نہ کریں‘‘۔
19ویں صدی میں جہاں روس توسیع پسندانہ نظریات کے پس منظر میں وسط ایشیا کی ریاستوں پر قبضہ کر رہا تھا وہاں برطانوی سامراج بھی دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔روس نے 1824ء میں قازقستان،1831ء میں آزر بائیجان۔ 1861ء میں تاشقند،1882ء میں بخارا،اور 1873ء میں خیوا کو تسخیر کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔روس نے 1882ء میں چینی ترکستان(سنکیانگ) پر قبضہ کر کے روس میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا تو روسی حکومت نے والی جموں و کشمیر رنبیر سنگھ سے سنکیانگ کے خلاف مہم میں مدد مانگی تو رنبیر سنگھ نے صاف انکار کر دیا۔جموں وکشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کو روسی یا برطانوی سامراج کے توسیع پسندانہ عزائم سے کوئی سرو کار نہیں تھالیکن گلاب سنگھ کی حکومت کشمیر اور لداخ کے راستے انگریزوں کے وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوششوں کو پسند نہیں کرتی تھی۔اس کے برعکس وہ وسط ایشیا کی ریاستوں سے براہ راست تجارتی و سیاسی تعلقات قائم کرنا چاہتی تھی۔پاکستان کی عسکری و سولین قیادت کی شخصیات کے تابع خارجہ پالیسیوں نے تنازع ریاست و جموں وکشمیر کا حلیہ بگاڑ دیا۔وہ پاکستان کی نہیں ان شخصیات کے مفادات کے گرد گھومتی رہیں جن کا اثر براہ راست جموں و کشمیر پر ہوا۔ریاست جموں و کشمیر جب تک آزاد و خود مختار حیثیت سے قائم تھی،کئی ممالک سے بہترین سیاسی وسفارتی تعلقات قائم تھے اور ان ممالک میں باقا عدہ جموں و کشمیر حکومت کے سفارت کار بھی مو جود تھے۔ جب سے اسلام آباد میں پاک چین دوستی زندہ باد نئی دہلی میں ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے لگ رہے ہیں۔چین تنازع جموں و کشمیر پر ہمیشہ غیر جانبدار رہا،کبھی بھی بھارت کی حمایت نہیں کی۔1951ء میں چین کاثقافتی وفد بھارت کے دورے پر گیا لیکن سری نگر کا دورہ منسوخ کر دیا۔1955ء میں عوامی جمہوریہ چین نے تنازع جموں و کشمیر پر بھارت کی حمایت کرنے پر سوویت یونین سے اظہار ناراضگی بھی کیا۔1956ء میں چواین لائی نے پاکستان کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی سے ملاقات میں کہا کہ چین کشمیر کو ایک متنازع مسئلہ سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں غیر جانبدار رہے گا۔9دسمبر1956ء میں وزیر اعظم چواین لائی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ چین جموں و کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع مسئلہ سمجھتا ہے۔پانچفروری 1957ء کو سری لنکا کے وزیر اعظم بندر نائیکے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں چواین لائی نے پاکستان اور بھارت دونوں سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر پرامن بات چیت کیذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔11اپریل 1957ء کو چینی وزیر اعظم چواین لائی نے پولینڈ کے ہم منصب سائی ران کی وزکے ساتھ مشترکہ اعلامیہ میں واضح کیا کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کا مسئلہ پر امن سے حل کریں اور کسی بیرونی طاقت کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ اس میں مداخلت کر کے نیا تناؤ پیدا کرے۔20جون 1957ء کو چیئر مین ماؤزے تنگ نے بر ملا طور پر یہ اعلان کیا کہ چین کشمیر کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ماؤ زے تنگ نے سوویت یونین اور دوسرے کمیونسٹ ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھی اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔پاکستانی وزیر خارجہ فیروز خان نون نے چیئر مین ماؤ زے تنگ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہ روس بھی چین کی طرح غیر جانبداری کا رویہ اپنائے اور بھارت کی حمایت میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو نہ کرے تو مسئلہ کشمیر کسی تاخیر کے بغیر حل ہو سکتا ہے ۔1959ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی اپروچ اپنا کر بھارتی لیڈر شپ کو سبق سکھایا جائے،اس طرح تنازع جموں وکشمیر کواسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہو گئی۔1959ء میں لداخ میں بھارتی فوجیوں اور چین کے سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں9بھا رتی فوجی مارے گئے 10گرفتا ر ہوئے،روس غیر جانبدار رہا۔بھارتی اخبارات نے چینی مؤقف کی کھل کر حمایت کی۔
23 اکتوبر 1959ء کو صدر ایوب خان نے اعلان کیا کہ پاکستان عنقریب چین کے ساتھ سرحدی معاملات پر بات چیت کا آغاز کرے گا ،ایک ماہ کے اندر اندر یہ تجویز باقاعدہ حکومت چین کو روانہ کر دی گئی۔اسی دوران حکومت پاکستان کو چین کی طرف سے ایک نقشہ موصول ہوا جس میں ہنزہ کو چین کا حصہ دکھایا گیا تھا۔بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر مذاکرات کے دوران چین نے پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد جموں و کشمیر کی سر حدوں کے بارے میں تنازع کے حل ہونے تک کوئی بھی بات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔15 جنوری 1961ء کو پاکستان کے وزیر خارجہ منظور قادر نے اعلان کیا کہ پاکستان اور چین نے سرحدوں کی نشاندہی پر اصولی اتفاق کر لیا ہے،جس پر بھارت نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کوئی سرحد چین سے نہیں ملتی جس کی نشاندہی کی جائے۔ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔صدر ایوب خان بھارت کا احتجاج مسترد کر دیا۔دسمبر1961ء میں چین کے سفیر ڈنگ گولو نے ایوب خان کے ساتھ سرحدوں کے تعین پر بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے سرکاری طور پر کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔جولائی 1962ء میں بیجنگ اور راولپنڈی، اسلام آباد کے درمیان نقشوں کا تبادلہ ہوا۔13 اکتوبر1962ء کو مذاکرات کا آغاز ہوا۔26اکتوبر1962ء کو چینی حکومت نے اعلان کیا کہ چین اور پاکستان کے درمیان اتفاق رائے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔2مارچ1963ء کو پاک چین سرحدی معاہدے پر دستخط ہوئے۔چینی وزیر خارجہ چن ژی نے بیجنگ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ریاست جموں و کشمیر کے سوال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،جموں وکشمیر کا مستقبل ابھی تک حل طلب ہے ۔چینی حکومت نے سنکیانگ کو تبت سے ملانے کیلئے اقصائے چین(13ہزار مربع میل خالصتاً ریاست جموں و کشمیر کا علاقہ)سے 1954ء سے 1957ء کے مابین3سال کے دوران ایک شاہراہ تعمیر کی ،بھارت نے احتجاج کیا توچواین لائی نے جواب دیا سنکیانگ تبت روڈچینی علاقے سے گزرتی ہے،بھارت نے چین کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔بھارت نے اقصائے چین میں تیزی سے عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا43نئی فوجی چوکیاں قائم کی گئی۔1947ء سے لیکر آج تک تنازع جموں و کشمیر کے حوالے سے چین کی پالیسی واضح ہے،چین نے بار بار اپنے مؤقف کو دہرایا کہ جموں و کشمیر کا تنازع کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے گا۔چین نے کبھی بھی جموں و کشمیر پر بھارت کے استحقاق کو تسلیم نہیں کیا۔

shafiqjarral2698@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے