Voice of Asia News

اوور سیز پاکستان تحریر۔امبرین راحیل

جب سے متحدہ اپوزیشن برسراقتدار آئی ہے تب سے وہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے وہ اس حق کو ہر صورت ختم کرنا چاہتی ہے میں خود چونکہ باہر رہ کر آئی ہوں اور میرا خاوند ابھی بھی پاکستان سے باہر ملک کے لیے زرمبادلہ کما رہا ہے اور ان پاکستانیوں سے زیادہ محب وطن بھی کوئی نہیں ہے باہر رہ کر پاکستان کی محبت انسان اپنے انگ انگ میں محسوس کرتا ہے سابق وزیر اعظم عمران خان انہیں ووٹ کا جو حق دیا تھا موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف ،بلاول بھٹو زرداری اور مستقبل کے بہت سے ترجمان اس بات پر متفق ہیں کہ عمران خان دور کی انتخابی اصلاحات کو فلفور ختم کیا جائے جب پاکستان تحریک انصاف نے 2018 میں اپنا انتخابی منشور پیش کیاتھا تو جس میں کہا گیا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کو حق دیا جائے گا یہ ایک ایسا وعدہ تھا جو بظاہر تو شاندار نظر آرہا تھا لیکن اس کی تکمیل کے سلسلے میں کئی مشکلات موجود تھیں کیونکہ نہ تو دوسری سیاسی جماعتیں بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتی تھیں اور نہ ہی بقیہ سٹیک ہولڈرز ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے تھے۔ ایسے میں اس قانون میں ترمیم لانا مشکل لگ رہا تھا جب کہ اس وعدہ سے پہلے ایک بڑی مشکل موجود تھی کہ 1970 کے انتخابات کے علاوہ ایسا کوئی الیکشن نہیں گزرا جو متنازع نہ ہوا ہو۔ انتخابات میں بد نظمی، بے ضابطگی اور دھاندلی معمول کا حصہ بن چکی تھی طاقتور لوگ الیکشن کو مینیج کر لیتے تھے اور ہارنے والی پارٹیاں الیکشن نتائج ماننے سے انکار کر دیتی تھیں۔ 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس کی ناکامی یا اپوزیشن کا دھاندلی کا راگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے خود تحریک انصاف نے 2013 میں جس صورتحال کا سامنا کیا اس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے ایسے میں پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ ضروری تھا کہ حکومت میں ہوتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر کام کرے اور انتخابات کو شفاف بنانے کے طریق کار پر عمل کیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد فوری طور پر انتخابی اصلاحات پر کام شروع کیا اور الیکشن میں مینول ووٹنگ کی بجائے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی تجویز دی جسے دوسری سیاسی جماعتوں نے سرے سی ہی مسترد کر دیا اور بجائے اس کے کہ کوئی قابل قبول اعتراض سامنے لایا جاتا، اپوزیشن نے دھاندلی دھاندلی کی رٹ لگانا شروع کر دی۔ حکومت نے اپوزیشن کو اس معماملے پر اعتماد میں لینے کی بھر پور کوشش بھی کی لیکن اپوزیشن کا اصل مسئلہ کچھ اور ہے کیونکہ نہ تو اپوزیشن شفاف انتخابات چاہتی ہے اور نہ ہی بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتی ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست کہا تھاہے کہ اپوزیشن کو بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ تو قبول ہے مگر ووٹ نہیں یہی وجہ تھی کہ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں ان تمام مشکلات کے باوجود بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور انتخابات کو شفاف بنانے کا وعدہ پورا کیا ہے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے باوجود انتخابی ترمیمی بل سمیت 33 بل منظور کروالئے ہیں اس بل کے تحت دو ترامیم کی گئی ہیں ایک تو بیرون ملک پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے اور دوسرا انتخابات میں رائے شماری کے لئے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال شامل ہے بلاشبہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی اب تک سب سے بڑی کامیابی تھی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اس بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 221 ووٹ جبکہ اس کی مخالفت میں اپوزیشن کے 203 اراکین نے ووٹ دیا ہے جس کے بعد اس بل کو منظور کر لیا گیا اس بل کے منظور ہونے سے بیرون ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ کا حق حاصل ہوگا بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنے ملک سے جوڑنے کے لئے انھیں ووٹ کا حق دیا گیا تھا عمران خان نے دوسرے وعدوں کی طرح اپنا یہ وعدہ بھی پورا کر دیا تھا عمران خان پاکستان کو اس راستہ پر لے جانے کے لئے گامزن ہیں جہاں پاکستانیوں کو شفاف رائے شماری کا حق حاصل ہو دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ جو عمران خان نے لگایا تھا اس کی بنیادبھی رکھی دی گئی اب کوئی چور، مافیہ الیکشن نہ تو مینج کر سکے گا اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق انتخابی نتائج کو بدل سکے گا دنیا ٹیکنالوجی کے اوج کمال کو چھو رہی ایسے میں یہی ممکن حل تھا کہ پاکستان میں انتخابات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن بنایا جا سکے ور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اسے ممکن بنا کر دکھادیا اب موجودہ حکومت ان انتخابی اصلاحات کو ختم کرنا چاہتی ہے جسے کوئی بھی محب وطن پاکستانی قبول نہیں کریگا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں