Voice of Asia News

خادم اعلی سے خادم پاکستان تک

 

مبارک ہو کہ خادم اعلی اب خادم پاکستان بن چکے ہیں اور انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہفتہ کی چھٹی ختم کردی تاکہ پاکستان کو ترقی کی شاہرہ پر تیزی سے چلایا جا سکے جنکا کہنا ہے کہ 2 چھٹیاں خوشحال قومیں کرتی ہیں ہمیں تو اتوار کو بھی کام کرنا پڑے گاجبکہ عمران خان سرکار اکثریت کھوکر اقلیت میں چلی گئی حکومت کے ارکان نے اکثریت ثابت کردی، عمران خان کا دورِ اقتدار سیاسی، پارلیمانی، اقتصادی، داخلہ و خارجہ پالیسی اور قومی وحدت و یکجہتی کے اعتبار سے ناکام دور تھا، تبدیلی، سونامی احتساب اور کسی کو نہیں چھوڑوں گا کے نعرے بے کار، کھوکھلے ثابت ہوگئے اب نئے بیانیہ کا چورن تیار کیا جارہا ہے امریکہ، یورپ، اسرائیل اور بھارت کے ریلیف کے لیے عمران خان دورِ اقتدار سہولت کار بنارہا اور چین، سعودی عرب، ایران، ترکی، ملائیشیا جیسے باعتماد دوستوں سے دوری پیدا کی گئی سابقہ حکومت کی ناکامیاں نوشتہ دیوار ہیں ازسرِ نو جذباتی ماحول پیدا کرنا اب ممکن نہ رہے گا تلخ اور شدت پسند بیانیہ حالات کے بگاڑ کا باعث ہی بنے گا صدرِ پاکستان نے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی طرح غیرجمہوری اور غیراخلاقی راستہ اختیار کیا سابق حکومت نے ملک کے وسائل کا ناجائز استعمال کیا اور ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا یہ سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے ایسے عناصر کے خلاف قانون کو سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے عمران خان ساڑھے تین سال حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اب فارغ ہوتے ہی الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں مسلم لیگ (ن) ضروری انتخابی اصلاحات کے بعد جلد عام انتخابات کرانا چاہتی ہے حکومت ڈیڑھ سال پورا کریگی یا نہیں اس کا فیصلہ اتحادی کرینگے ایک بات طے ہے کہ ہماری حکومت تحریک انصاف کو استعفوں سے روکنے کیلئے رابطہ نہیں کریگی استعفوں کی صورت میں ضمنی انتخاب کا قانون موجود ہے عمران خان نے دوست ممالک کو ناراض کیا اورجو ممالک دوست بننا چاہتے تھے ان سے بھی تعلقات خراب ہو گئے میں سمجھتا ہوں کہ فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم ناقابل برداشت ہے اسکے ساتھ ساتھ میاں نوازشریف اور اسحاق پاکستانی ہیں اور پاسپورٹ ان کا حق ہے بہت جلد ان کو پاسپورٹ جاری ہورہا ہے مسلم لیگ ن کے وزرا کا فیصلہ نوازشریف کریں گے گورنر سٹیٹ بینک کے حوالے سے بھی مشورہ کریں گے انتقام ہماری پالیسی نہیں کشمیر،افغانستان پر بریفنگ پارلیمان میں ہوئی تو لیٹر گیٹ پر کیوں نہیں ہو سکتی،تارکین وطن ہمارے سفیر ہیں ان کو ووٹنگ کا پورا حق ہے تحریک انصاف کی حکومت پہلے کی طرح اس معاملے پر بھی جھرلو چلانا چاہتی تھی ایسا نہیں ہوسکتا تحریک انصاف والے خزانہ خالی کر گئے ہیں سب سے بڑا چیلنج تباہ حال معیشت اور مہنگائی پر قابو پانا ہے مہنگائی کم کرنے کیلئے شارٹ اور میڈیم ٹرم پلان بنا رہے ہیں وزیر اعظم نے اپنے پہلے دن ہی واضح کردیا تھا کہ سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگرانتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے وزیراعظم ہاؤس کو پاکستان ہاؤس میں تبدیل کرینگے جہاں پورے پاکستان سے بیوروکریسی لائیں گے خادم پاکستان نے بیوروکریسی پر واضح کر دیا ہے کہ میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام کہوں تو منع کر دیں اسی دن وزیر اعظم ہاؤس میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیب کو کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کرینگے کسی کو پکڑنا ہماری پالیسی نہیں اگر کسی نے غلط کام کیا ہے تو قانون اپنا راستہ لے گا سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے،ایسے عناصر کے خلاف قانون سخت کارروائی کرے گا وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وفاقی کابینہ ایک دو روز میں تشکیل پا جائے گی پارلیمنٹ کا ڈیڑھ سال رہتا ہے اورحکومت ڈیڑھ سال پورا کریگی یا نہیں اس کا فیصلہ اتحادی کرینگے مگر ہم ضروری انتخابی اصلاحات کے بعد جلد الیکشن کرانا چاہتے ہیں اسمبلیوں کی مدت ڈیڑھ سال ہے کب الیکشن کرانے ہیں مشاورت سے فیصلہ کریں گے پیپلزپارٹی کی جانب سے ممکنا طور پر کوئی وزارت نہ لینے سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کابینہ میں آناچاہیے حکومت میں شامل سب اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلوں گا انتقام ہماری پالیسی نہیں بدلے کی سیاست نہیں کریں گے اگر صدر عارف علوی بیمار ہیں تو اﷲ انہیں صحت یاب کرے جبکہ ایم کیوایم کی قیادت نے ملاقات میں کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا چاروں صوبوں کے مسائل حل کریں گے اگر کوئی ریاستی اداروں کے خلاف بے جا الزام تراشی کرتا ہے تو اسے قانون کی گرفت میں آنا چاہیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرکے پائدار امن کی طرف بڑھیں وزیراعظم نے پشاور موڑ سے اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو کو شروع کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں شہباز شریف نے کہا کہ آٹھ بجے دفتر اس لیے چلا گیا کہ میں عادت سے مجبور ہوں اور اب پنجاب اسپیڈ نہیں پاکستان اسپیڈ ہوگی جاتے جاتے تحریک انصاف والے خزانہ خالی کر گئے ہیں،سب سے بڑا چیلنج تباہ حال معیشت اور مہنگائی پر قابو پانا ہے مہنگائی کم کرنے کیلئے شارٹ اور میڈیم ٹرم پلان بنا رہے ہیں اچکن کا طعنہ دینے والوں کوپیغام دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دیکھ لیں اﷲ نے پہنا ہی دی اچکن۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں