Voice of Asia News

وطن کی ماں محترمہ بلقیس ایدھی

 
 
 عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جو درد کے صحرا ؤں میں بیٹھ کر لوگوں کو گلستان کی خبر دیتے ہیں اپنا دکھ بھول کر لوگوں کے سکھ کے لیے نکل پڑتے ہیں ایسے لوگ  ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں مگر ہم لوگ انکی قدر نہیں کرتے جب وہ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو پھر ہم انہیں یاد بھی کرتے ہیں اور ان جیسے افراد کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ایسے افراد دنیا جہاں سے بے فکر ہوکر انسانیت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں بہت عرصہ قبل  لاہور کے دل مال روڈ پر ریگل چوک میں فٹ پاتھ پر ایک شخص کپڑا بچھائے چندہ اکٹھا کررہا تھا اور لوگ گذرتے ہوئے اسکی جھولی میں پیسے ڈال رہے تھے میں بھی گذرتے گذرتے رک گیا دیکھا تو جناب عبدالستار ایدھی صاحب کسی مستحق طالبعلم کے علاج کے لیے پیسے جمع کررہے تھے وہیں پر ان سے ڈھیروں باتیں کی وہ اس صدی کے عظیم اور خوبصورت انسان تھے جنہوں نے بے پناہ مشکلات اور پریشانیوں کو شکست دیکر پاکستان کی دکھی اور مجبور عوام کی خدمت کا بیڑہ اٹھارکھا تھاکہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے وہ ماں،بہن اور بیوی کے ساتھ ساتھ بیٹی بھی ہو سکتی ہے ہمارے معاشرے میں اس قسم کی زندہ مثال ممتاز سماجی رہنما و ایدھی فاونڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی ہیں جنہوں نے اپنی شریک حیات کے ساتھ ملکر دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا کر لاتعداد افراد کی زندگیاں بچائیں اگر عبدالستار ایدھی کے ساتھ انکی اہلیہ محترمہ بلقیس بانو ایدھی صاحبہ نہ ہوتی تو شائد آج ہم انکی خدمات سے محروم رہتے بے سہارا بچوں کو سہارا دینی والی عظیم خاتون محترمہ بلقیس ایدھی صاحبہ 74 برس کی عمر میں گذشتہ روز انتقال کرگئیں انکا جنم بھی پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہواتھا 14 اگست 1947 کو بھارتی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیداہوئیں اور پھر فیملی کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی آبسیں عبدالستار ایدھی سے ان کی شادی 1966 میں ہوئی اور 50 سالہ رفاقت 2016 میں ایدھی صاحب کے انتقال تک جاری رہی محترمہ بلیس ایدھی صاحبہ عبد الستار ایدھی کی بیوہ  ایک نرس اور پاکستان میں سب سے زیادہ فعال مخیر حضرات میں سے ایک تھیں جو   عبد الستار ایدھی کے شانہ بشانہ ہمیشہ کھڑی رہیں  دکھی انسانیت کے غم دور کرنے کے لیے دونوں زندگی بھر کوشش کرتے رہے جسکی کہیں نظیر نہیں ملتی محترمہ بلقیس بانو ایدھی صاحبہ کے جانے سے انسانی خدمت کے جذبے کا ایک اہم ترین باب بند ہوگیا جس کی تلافی ممکن نہیں ہے  پوری پاکستانی قوم ہمیشہ مرحوم عبد الستار ایدھی اور انکی اہلیہ بلقیس بانو ایدھی کی شکر گزار اور احسان مند رہے گی محترمہ بلقیس بانو ایدھی صاحبہ جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر کے یتیموں،مساکینوں اور غریبوں کی ماں تھیں جب اپنے جنم دینے والے ہی اپنے لغت جگر کو کوڑا دان میں مرنے کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو اس وقت یہی خاتون انہیں گلے لگا کر ماں کا پیار دیا کرتی تھیں وہ ہمارے  معاشرے میں اسلام کا حقیقی چہرہ تھا جسکا درس ہمارے نبی کریم نے آج سے 14سو سال پہلے دیا تھا بے سہارا یتیم بچوں کی پرورش سے لے کر بے گھر لڑکیوں کی شادیوں تک بلقیس ایدھی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں  بلقیس ایدھی نے جھولا پراجیکٹ کے ذریعے ہزاروں انسانی زندگیوں کو بچایا نصف صدی سے انسانیت کی خدمت کے مشن پر گامزن بلقیس ایدھی کا کردار ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے ان کی انسانیت کے لیے خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گامحترمہ بلقیس بانو ایدھی صاحبہ نے مرحوم عبدالستار ایدھی  کے مشن کو احسن طریقے سے آگے بڑھایا۔محترمہ بلقیس بانو ایدھی صاحبہ کی عرفیت مادر پاکستان ہے وہ بلقیس ایدھی فانڈیشن کی سربراہ اور  پاکستان کے سب سے بڑی سماجی تنظیم  ایدھی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بھی تھیں   اپنے شوہر کے ساتھ انہوں نے خدمات عامہ کے لیے 1986 رومن میگسیسی اعزار (Ramon Magsaysay Award) حاصل کیا حکومت پاکستان نے انہیں ان کی خدمات پر ہلال امتیاز سے نوازا جبکہ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں 2015 میں مدر ٹریسا ایوارڈ سے نوازا تھا روسی حکومت کی طرف سے بھی لینن پیس پرائز بھی ملا  محترمہ بلیس ایدھی صاحبہ۔  مرحومہ نے دولہا پروجیکٹ کے ذریعے ہزاروں انسانی زندگیوں کو بچایا۔ نصف صدی سے انسانیت کی خدمات کے مشن پر گامزن بلقیس ایدھی پاکستان کی پہچان تھیں اور خواتین کے لیے ایک مشعل راہ ہے جنہوں نے اپنے شوہر عبدالستار ایدھی کے ساتھ تمام عمر دکھی انسانیت کی خدمت کی  محترمہ بلقیس ایدھی صلہ رحمی اور انسانیت کا غیر معمولی استعارہ تھیں ملک و قوم کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت کو مقصدِ حیات بنانے والی شخصیت کے انتقال پر قوم سوگوار ہے ایدھی خاندان نے انسانیت کی خدمت کاحق اداکردیا یہ خاندان پاکستان کاطرہّ امتیاز جبکہ پاکستانیوں کیلئے سرمایہ افتخار ہے ان کی جہدمسلسل اور قربانیوں کوفراموش نہیں کیا جاسکتاانکے انتقال کے بعد نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھرمیں دعائیہ تقریبات ہوئیں لاہور میں بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام انکی یاد میں زونل مینجر یونس بھٹی نے خوبصورت یادوں پر مشتمل انمٹ پروگرام ترتیب دیا دعا ہے اللہ رب العزت عبدالستارایدھی اور بلقیس بانو ایدھی کی مغفرت،بخشش، ا ن کے درجات کی بلندی اورانہیں جنت الفرودس میں ا علیٰ مقام عطا  فرمائے آمین انہوں نے سوگواروں میں فیصل ایدھی، کبریٰ ایدھی، کتب ایدھی اور الماس ایدھی کو چھوڑا ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)
image_pdfimage_print
شیئرکریں