Voice of Asia News

جرنیلی سڑک اور سوری


مینار پاکستان کے جلسہ میں قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی ولولہ انگیز تقریر سنی تو مجھے انکی قومی اسمبلی میں دی گئی وہ تاریخی رولنگ بھی یاد آگئی جو سنہری حروف میں لکھ جائیگی آنے والے وقتوں کے لیے ایک مثال قرار دی جائیگی لاہور میں جس جگہ پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا وہ کئی حوالوں سے تاریخی مقام ہے قرار داد پاکستان اسی جگہ منظور ہوئی قائد اعظم نے اسی جگہ اپنی ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور سب سے تاریخی مقام اس حوالہ سے بھی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے نامور سپہ سالار اور حکمران صرف پانچ سال میں انقلاب برپا کرنے والے شیر شاہ سوری کی عظیم نشانی جرنیلی سڑک بھی یہی سے گذرتی ہے اور کبھی کبھی کچھ واقعات ،کچھ حادثات،کچھ حالات اور کچھ قصے ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے لیے مثال،ہمارے لیے یادگار اور نسلوں تک سبق ہوتے ہیں کبھی کوئی ایک واقعہ تاریخ بن جاتا ہے تو کبھی کوئی انسان تاریخ دھرا بھی دیتا ہے ہمارے لوگ تاریخ بھی بناتے ہیں اور ہمارا ملک بھی تاریخ کے آئینے میں جگمگاتا ہے اس جلسہ پر پھر لکھوں گا ابھی چونکہ ذکر آیا ہے اس تاریخی سڑک کا جسے ہم آجکل جی ٹی روڈ کہتے ہیں اور میں بہت زیادہ مشکور ہوں سینئر صحافی جناب عابد خان صاحب کا جو وٹس ایپ پر بکس اینڈ جرنلسٹ کے نام سے ایک گروپ چلا رہے ہیں اس گروپ میں بہت ہی نادر اور نایاب کتابیں پڑھنے کو ملتی ہیں پچھلے دنوں رضا علی عابدی کی لکھی ہوئی جرنیلی سڑک کے نام سے ایک کتاب پڑھنے کا موقعہ ملا شیرشاہ سوری کی تعمیر کردہ جرنیلی سڑک جسے بعد میں انگریز حکمرانوں نے وہ شکل دی جس میں آج یہ موجود ہے یہ جی ٹی روڈ تاریخ کے آئینے اور برصغیر کی ہتھیلی پر کھینچی ہوئی وہ انمٹ لکیر ہے جو ہماری شہہ رگ بن گئی ساڑھے چار سو سال گذرنے کے بعد بھی اس پر زندگی رواں دواں ہے اس گرینڈ ٹرنک روڈ پرماضی کے ایسے ایسے قصے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر آنکھ آج بھی سراپہ حیرت بنی ہوئی ہے کیسے کیسے کاروان،لشکر،قافلے اور مسافر اسی راستہ سے آئے یا تو خود اسکے رنگ میں رنگ گئے یا پھر اس کا رنگ و روپ بدل ڈالا پشاور سے شروع ہوکربنگال اور کلکتے تک جانے والی اس 15سو میل کی سڑک پر کچھ خالی ہاتھ آئے اور آکر مالا مال ہوگئے اور کچھ بڑے بڑے عزائم سے لدھے پھندے آئے اور اس راہ میں لٹ گئے یہ سڑک تاریخ کی ایک بہت بڑی داستان ہے جس پر اب بھی تاریخ رقم کی جارہی ہے ہمارے سیاستدانوں کا لانگ مارچ اور ہر احتجاج بھی اسی سڑک پر شروع ہوتا ہے یہ روڈ جہاں ہمارے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے وہیں پر ہمیں اپنی منزل کا راستہ بھی دکھاتی ہے یہ سڑک ان دماغوں،ان ہاتھوں اور اس خون پسینے کو ایک خراج ہے جنہوں نے راہ گیروں کو جو ہمارے آباؤ اجداد تھے ایک راہ گزر عطا کی جو اب ہماری خوشحالی کا نشان بن گئی جس میں صدیوں بعد آج بھی زندگی رواں دواں ہے اس سڑک کی ٹوٹتی،بکھرتی اور پھر آپس میں جڑتی ہوئی لکیریں ہمیں ہمارا عظیم الشان ماضی یاد دلاتی ہیں اور روشن مستقبل کا نشان بھی دکھاتی ہیں اس وقت کی سواریاں مختلف ہوتی تھیں لوگ ہاتھی پر،گھوڑوں پراور بے شمار لوگ پیدل سفر کرتے تھے انکے لیے ضروری تھا کہ راستے میں کھانے پینے اور ٹھہرنے کا انتظام ہو چنانچہ کنویں،باولیاں،مسجدیں اور سرائیں بنوائی جاتی تھیں سرائے دو کام آتی تھی ایک ٹھہرنے کے دوسرے کاروبار اور لین دین کے ان سراوں میں بڑے بڑے سودے ہوتے تھے اور اسی جی ٹی روڈ سے فوجیں بھی آتی جاتی تھی انہی سراؤں میں بادشاہوں کے مخبر بھی ہوتے تھے جو ہر آنے اور جانے والے کی خبر رکھا کرتے تھے پشاور ڈاک بنگلہ سے شروع ہونے والی یہ سڑک دریائے قابل کے ساتھ چلتی ہوئی دریائے سندھ پار کرکے حسن ابدال پہنچتی ہے جو کسی زمانے میں دہلی اور قابل کے درمیان سب سے دل کش پڑاؤ ہوا کرتا تھا پھر یہ سڑک ٹیکسلا کے سنسان اور ویران کھنڈروں پر نگاہ عبرت ڈالتے ہوئے مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتی ہوئی راولپنڈی کو چھو کر شیر شاہ سوری کے قلعہ روہتاس کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جہلم اور گجرات پہنچ جاتی ہے راستے میں سرائے عالمگیرکے مقام پر ان فاتح قدموں کے چاپ بھی سنائی دیتے ہیں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند پر اپنی بہادری کے پرچم سر بلند رکھے جیسے ہی یہ سڑک پہلوانوں کے شہر گجرانوالہ پہنچتی ہے تو پھر آگے زندہ دلوں کے شہر لاہور سے آکر گلے ملتی ہے اسی شہر سے یہ جرنیلی سڑک پاکستان کو خیر آبد کہتے ہوئے امرتسر میں داخل ہوجاتی ہے پھرجالندھر اور لدھیانہ جیسے شہروں سے چلتی ہوئی ہرے کھیتوں اور نیلے پانی کے دریاؤں کو پار کرتی ہوئی سر ہند کے آستانے پر جبین عقیدت دھرتی ہوئی یہ سڑک انبالہ پہنچتی ہے اس سے آگے کروکشیتر،کرنال اور پانی پت اور پھر دہلی آکر انگریزوں کی جی ٹی روڈ علی گڑھ،ایٹا اور گنگا سے ملنے کے اشتیاق میں قنوج کی طرف نکل جاتی ہے لیکن شیر شاہی سڑک جمنا سے اپنا رشتہ نہیں توڑتی اور سیدھی آگرہ پہنچ کر دم لیتی ہے اس کے بعد کان پور آتا ہے اور پھر الہ آباد جس کے بیچ سے گذرتی ہوئی باغی شہزادوں کی قبروں اور عظیم بادشاہوں کے قلعوں کا نظارہ کرتی ہوئی یہ سڑک بنارس جا نکلتی ہے یہ سے بہار میں داخل ہو کر سہسرام پہنچتی ہے جہاں اس شاہراہ کا معمار،انسانیت کا خدمتگاراور خاندان سوری کا وہ شیر جس نے قیامت تک آنے والی نسلوں کی راہ متعین کردی اپنی جاگیر کی مٹی اوڑھے ابدی نیند سورہا ہے اپنے خالق پر عقیدت،محبت اور پیار کے پھول برساتی ہوئی یہ سڑک دھنباد سے ہوتی ہوئی آسنسول کو خیر آبد کہتی ہوئی بنگال کی بارشوں میں بھیگ کر اپنی تھکن اتارتی ہوئی اپنے آخری مقام کلکتے پہنچ جاتی ہے سوری خاندان کا یہ کارنامہ قیامت تک ہمیں اپنی منزل تک پہنچاتا رہے گا۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

image_pdfimage_print
شیئرکریں