Voice of Asia News

سلیم ملک دہائیوں بعد وسیم اکرم اور وقاریونس کیخلاف گلے شکوے زبان پر لے آئے

لاہور (وائس آ ف ایشیا) پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی کے خلاف غیر معمولی دعوے کیے ہیں۔ 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے کے فوراً بعد پاکستان کو ایک نئے لیڈر کی ضرورت تھی اور سلیم ملک کو 1993ء سے 1995ء تک ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ سلیم ملک کا دعویٰ ہے کہ وسیم اکرم اور وقار یونس دونوں ہی اس فیصلے پر غصے میں تھے اور دونوں کھلاڑیوں سے سرد مہری سے ان کا استقبال کیا۔سلیم ملک نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وسیم اور وقار میری سپورٹ تھے لیکن ایک پروفیشنل ہونے کے ناطے انہیں اپنی پرفارمنس پر توجہ دینی چاہیئے تھی ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ دونوں مجھ سے اس لیے بات نہیں کرتے تھے کیوں کہ مجھے کپتان بنایا گیا تھا؟، میں نے ان سے اس بارے میں بات بھی کی تھی۔ایک دو بار۔ جب میں انہیں باؤلنگ کرنے کو کہتا تو وہ مجھ سے گیند چھین لیتے۔میں کپتان بن گیا تھا جبکہ وسیم اور وقار یہ پوزیشن چاہتے تھے۔ سلیم ملک نے 34 ون ڈے اور 12 ٹیسٹ میں پاکستان کی کپتانی کی اور بالترتیب 21 اور سات میچوں میں کامیابی حاصل کی تاہم ان کی کپتانی کا دور تقریباً ایک سال بعد تک رہا جس کی وجوہات سلیم ملک کے دعوے کے مطابق باہر کی سیاست کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس مجھ سے بات نہیں کر رہے تھے اور پھر بھی، ہم نے سیریز جیت لی۔میں ان سے کہتا تھا کہ آپ دنیا کے نمبر 1 باؤلر ہیں، وکٹیں لیں نہ لیں اس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ آپ کی اپنی ساکھ پر اثر ڈالے گا، وقار یونس نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا مگر یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے انھیں سنبھالا، اسی چیز کو میں مینجمنٹ کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ہم نے 6 میں سے 5 میچز جیتے، چونکہ یہ میچ اور سیریز میں نے جیتی تھی اس لیے کچھ لوگوں کو اس سے بھی مسئلہ ہوگیا، میں نہیں جانتا کہ مجھے قیادت سے کیوں ہٹایا گیا جبکہ میں تو کسی سیاست کا حصہ بھی نہیں تھا۔سلیم ملک کو میچ فکسنگ کا مجرم پایا گیا تھا اور 2000ء میں کھیل کے سب سے بڑے کرپشن کیس میں عدالتی انکوائری کے بعد ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سابق آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن، مارک وا اور ٹم مے نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 1994-95ء میں پاکستان کے دورے کے دوران کم کارکردگی دکھانے کے لیے انہیں رشوت کی پیشکش کی تھی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں