Voice of Asia News

پنجاب اسمبلی اور سودی نظام  

 

جمعرات 28اپریل کو پنجاب اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس ہونا تھا مگر سیکرٹری کوآرڈینیشن اسمبلی عنایت اللہ لک کو لاہور ہائیکورٹ میں پیشی پر جاتے ہوئے پولیس نے گرفتار کرلیا وہ دستاویزات لے کر لاہور ہائیکورٹ جار ہے تھے اس گرفتاری کے تھوڑی دیر بعد سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا جس کے بعد سپیکر چوہدری پرویز الہی نے اجلاس 16مئی تک ملتوی کردیا اس وقت پنجاب میں بڑی دلچسپ صورتحال بنی ہوئی ہے قانونی اور آئینی طور پر سردار عثمان بزدار ہی وزیر اعلی ہیں مگر عملی طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے انتظامیہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پہلے تسلیم کرتی تھی نہ اب کررہی ہے بلکہ اب تو آئی جی پولیس سمیت تمام متعلقہ افسران بھی کھل کر سامنے آچکے ہیں جو پی ٹی آئی کے کسی وزیر کا حکم نہیں مانتے بلکہ حمزہ شہباز شریف سے وہ ہدایات لے رہے ہیں اسمبلی سیکریٹری کی گرفتاری کے بعد اسپیکر پرویز الہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی میں نے کروانی ہے اور اجلاس کو ملتوی کرنا میرے اختیار میں ہے اللہ تعالی نے شریفوں کا چہرہ دکھایا ہے اور ساری قوم شریفوں کا چہرہ دیکھ لیا ہے پولیس کو استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ آئی جی چیف سیکریٹری شریفوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اس بحث کو پھر کسی دن کے لیے رکھ چھوڑتا ہوں کیونکہ آج وفاقی شرعی عدالت نے بھی ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے 19 سال بعد سود کے خلاف دائرکیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے سود کے لئے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اورشقوں کوغیرشرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو سودی نظام کے مکمل خاتمے کیلئے 5 سال کی مہلت دے دی عدالت نے فیصلے میں 31 دسمبر2027 تک تمام قوانین کو اسلامی اور سود سے پاک اصولوں میں ڈھالنے کا حکم دیا شرعی عدالت نے انٹرسٹ ایکٹ 1839 اور یکم جون 2022 سے سود سے متعلق تمام شقوں کوغیرشرعی قراردے دیا عدالت نے فیصلے میں کہا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اورقانونی ذمہ داری ہے ملک سے ربا کا ہرصورت میں خاتمہ کرنا ہوگا ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے شرعی عدالت کے جسٹس سید محمد انورنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول کرنا ربا کے زمرے میں آتا ہے اس موقعہ پرعدالت کا کہنا تھا کہ 2 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی سود سے پاک معاشی نظام کیلئے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے سود کے خلاف درخواستیں جماعت اسلامی اوردیگرنے دائر کی تھیں یقیناً یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور وہ سب لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جو اس کے خلاف عدالت میں گئے خصوصاً جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی جو روز اول سے اس کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اس سے پہلے بھی 1991 میں وفاقی شرعی عدالت اسی طرح کا فیصلہ دے چکی ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت کی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی اور پھر 2002 میں سپریم کورٹ نے اس کیس کو واپس وفاقی شرعی عدالت میں بھیج دیا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس پر عمل درآمد کروائے گی؟یہ حکومت کی ذمہ داری ہے صرف عدالتی فیصلہ کی روشنی میں ہی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 38F کی صورت میں بھی ہذا حکومت جلد از جلد اس پر عمل درآمد کروائے اور پاکستان میں اسلام کے اصولوں پر مبنی معاشی نظام کو نافذ کیا جائے جس کا فریم ورک پہلے ہی 1980 میں علماء اور معاشی ماہرین نے بنا کر دے دیا تھا اب عمل کی طرف پیش رفت ممکن بنائی جائے اس تاریخی فیصلے کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے سود کے خلاف فیصلہ کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے 22مرتبہ غلامی کا طوق قوم کے گلے میں ڈالا پوری قوم سے درخواست ہے کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر یوم تشکر منائیں۔ اس تاریخی فیصلہ کے بعداب حکومت کا فرض ہے کہ وہ لیت و لعل سے کام نہ لے اور پانچ سال کا انتظار نہ کرے بلکہ جلد از جلد سودی نظام کے خاتمے کے لئے اقدام اٹھائے ماضی کی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں سود کے خلاف فیصلے کو چیلنج کیا تھا جو اسلامی مملکت ہونے کے دعویدار ملک میں قابل افسوس ہے سود کے خاتمے کے خلاف ماضی کی حکومتیں رکاوٹ بنی رہیں نواز حکومت نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جو افسوسناک امر ہے اب حکومت عالمی مالیاتی سودی اداروں سے اس فیصلے کی روشنی میں اقدام اٹھائے گی کیونکہہم صرف ایک سال میں اربوں ڈالر سود ادا کرنے پر مجبور ہیں اب اس کے خاتمے کے لئے وہ ان اداروں سے رجوع کریں اور سود کے خاتمے کے لئے سٹیٹ بنک کو بھی اپنا کام مزید تیز کرنا ہوگا سٹیٹ بنک پہلے ہی اس مد میں بیس فیصد کام کرچکا ہے اور بنکنگ سیکٹر میں سود فری شاخوں میں کام ہورہا ہے سود فری بنکنگ ساری دنیا میں تیزی سے نمو پارہی ہے امید ہے کہ پاکستان میں اس کام کو تیز کیا جائے گا۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

image_pdfimage_print
شیئرکریں