Voice of Asia News

پی سی بی کو سیاسی پنجوں سے آزاد کرانے کی صدائیں بلند

لاہور (وائس آ ف ایشیا)پی سی بی کو سیاسی پنجوں سے آزاد کرانے کی صدائیں بلند ہونے لگیں. سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹینٹ جنرل(ر)توقیر ضیانے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں نامزدگیوں کا طریقہ کار ہے،بس اتنی تبدیلی ہوئی کہ اب حکومت کے نامزد کردہ 2ارکان ہوتے ہیں، ان میں سے ایک چیئرمین منتخب ہوجاتا ہے،اس میں خرابیاں بھی ہیں، یہ سسٹم تبدیل نہ ہوا تو سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا،اگر تبدیلی کی جائے تو بورڈ آف گورنرز کی تشکیل اور ایسوسی ایشنز کے ووٹس وغیرہ کے معاملات کو دیکھنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ کرکٹ میں سیاست کا کردار ختم ہونا چاہیے،رمیز راجہ کو چیئرمین بنایا ہے تو 3سال کام کرنے کا موقع دیا جائے، ہوسکتا ہے کہ معاملات میں بہتری آجائے، اگر 5،6ماہ بعد ہی ان کو تبدیل کردیں تو بورڈ کا نیا سربراہ نئی سوچ لے کر آئے گا،وہ سب کچھ بدلنے کی کوشش کرے گا تو ہماری کرکٹ آگے جانے کے بجائے پیچھے چلی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ جو بھی چیئرمین آئے اپنی عزت کیلیے اچھا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ کسی سابق کرکٹرز کو بورڈ کا سربراہ ہونا چاہیے، اب اگر رمیز راجہ آگئے ہیں تو ان کو کام کرنے دیا جائے،نئی حکومت ابھی مستحکم نہیں ہوئی،معلوم نہیں کہ اگل3،6 ماہ یا سال میں اونٹ کس کروٹ بیٹھ گا، حکومت کی توجہ کرکٹ یا چیئرمین کو تبدیل کرنے پر نہیں دیگر اہم معاملات میں سدھار لانے پر ہونی چاہیے۔ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کیے جانے کے سوال پر توقیر ضیانے کہا کہ نیا ڈومیسٹک سسٹم 4سال سے چل رہا ہیاس کو چلنے دیا جائے، اگر مسئلہ ملازمتوں کا ہے تو اس کا حل تلاش کرنے کیلیے زیادہ گراؤنڈز بنائیں،کرکٹرزکی تربیت کا اہتمام کرکے ان کو کوچنگ کی ذمہ داریاں دی جائیں،ان کو ایڈمنسٹریشن اور دیگر اسٹاف میں شامل کیا جائے،یوں روٹی روزی کا بندوبست ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اب ڈپارٹمنٹس بھی ٹیمیں بنانے کیلیے تیار ہوں گے یا نہیں،موجودہ حالات میں ان کی اپنی مالی حیثیت بھی دیکھنا ہوگی، اگر تبدیلی لانا بھی چاہتے ہیں تو موجودہ ایسوسی ایشنز کو چلنے دیا جائے،ساتھ ایک متوازی سسٹم بھی لانے کیلیے اداروں کو ٹیمیں بنانے کا کہہ دیں تاکہ انھیں اس کیلیے تیار ہونے کا موقع ملے۔سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے،معاملہ حکومتوں کی سطح پر ہے،بی سی سی آئی اور پی سی بی کے سربراہ ساروگنگولی اور رمیزراجہ سابق کرکٹرز ہیں، دونوں چاہیں گے کہ باہمی مقابلوں سے کھیل کو فروغ حاصل ہو،اس سے خطیر سرمایہ بھی آئے گا،بھارت کو شاید اس کی اتنی ضرورت نہ ہوجتنی ہمیں ہے مگر ہمیں کسی کی منت سماجت نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگئی مگر کراچی میں دہشت گردی جیسے واقعات رونما ہونے سے مشکل ہو سکتی ہے،حالات ٹھیک نہ ہوں تو غیر ملکی ٹیمیں ڈرتی رہیں گی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں