Voice of Asia News

تیسری مخلوق “ کا مذہب اور سائنس میں کوئی تصور نہیں ”:محمد قیصر چوہان

قرآن مجید انسانوں کی توجہ اس دُنیا میں موجود چار سو پھیلی فطرت کی نشانیوں کی طرف دلا کر یہ واضح کرتا ہے کہ غور کرو اس دُنیا کی ہر چیز جوڑے جوڑے کے اصول پر پیدا کی گئی ہے۔ یہاں ہر چیز تنہا تنہا اپنا وجود رکھتی ہے ، مگر اپنا مقصد تخلیق وہ اُسی وقت پورا کرتی ہے جب اسے اس کے جوڑے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔اس بات کو سمجھنے کیلئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں خود انسان کا اپنا وجود اس جوڑا بندی کا سب سے بڑ ا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مرد اورعورت کی شکل میں پیدا کیا ہے۔ اس دُنیا میں اگر صرف مرد ہوں یا صرف عورتیں تو نسل انسانی ایک صدی کے اندر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ مگر اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں نئی زندگی کی بنا پڑتی ہے۔ کم و بیش تمام حیوانات کا یہی معاملہ ہے جو نر اور مادہ کے جوڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نر و مادہ ملتے ہیں اور نئی زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔یہ معاملہ انسان و حیوان تک محدود نہیں۔ یہی عالم نباتات میں ہوتا ہے۔ یہی عالم جمادات میں ہوتا ہے۔ اسی اصول پر عالم اکبر (Macro World) قائم ہے اور اسی پر عالم اصغر(Micro World) چلتا ہے۔ ہر چیز اسی اصول پر زندہ ہے اوراپنے مقصد حیات کی تکمیل کرتی ہے۔ چند مثالوں سے اس بات کو سمجھتے ہیں۔ پودوں کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں نر و مادہ کا فرق نہیں ہوتا۔ لیکن علم نباتات پر گہری نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ پودوں میں نر و مادہ کا تصور پوری طرح موجود ہے۔ بعض اوقات یہ نراور مادہ عناصر ایک ہی درخت پر پائے جاتے ہیں اور بعض اوقات نر و مادہ پھول الگ الگ درختوں پر ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو Monoecious اور دوسری کو Dioecious کہتے ہیں۔ یہ بات ایک عام مثال سے بھی یوں سمجھتی جا سکتی ہے کہ پپیتے کا بیج اگر آپ اپنے گھرمیں لگائیں تو چھ مہینے بعد ہی وہ پھل دینے لگتا ہے۔ مگر بعض اوقات اس پر پھل نہیں آتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ جس پر پھل آئیں وہ مادہ درخت ہوتا ہے اور جس پر نہیں آتے وہ نر درخت ہوتا ہے۔قرآن مجید اس عالم سے دن اور رات، زمین و آسمان ، چاند اور سورج ، پہاڑ اور دریا کے جوڑوں کو اسی اصول پر پیش کر کے یہ بتاتا ہے کہ یہی خدا کا طریقہ تخلیق ہے۔ اگر دُنیا میں صرف دن کی روشنی ہو اور رات کا اندھیرا نہ ہو، زمین کی زرخیزی ہو اوربارش برساتا آسمان نہ ہو، حرارت دینے والا سورج ہو اور راتوں کو نور دینے والا چاند نہ ہو، پہاڑ کی بلندی اور ان پر جمی برف ہو مگر انہیں پانی کی شکل میں لے کر بہنے والے دریا نہ ہوں تو یہ دُنیا باقی نہیں رہ سکے گی۔ ان میں سے ہر جوڑے کے دو اراکین مل کر اپنا مقصد تخلیق پورا کرتے ہیں۔ جوڑوں کی شکل کی یہی تخلیق اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ دنیا اگر ہے اور زبان حال سے پکار پکار کر اپنے ناتمام ہونے کا اعلان کر رہی ہے تو لازماً اس کا ایک جوڑا بھی ہونا چاہیے۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کا جوڑا آخرت ہے۔ یہ دنیا عارضی اورآخرت ابدی ہے۔ یہ دنیا امتحان کا اور آخرت سزاوجزا کامقام ہے۔ یہ دنیا کام کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کام کا نتیجہ دیکھنے کی جگہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے کہ”اور آسمان کو ہم نے بنایا قدرت کے ساتھ اور ہم بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں اور زمین کو ہم نے بچھایا، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں ! اور ہر چیز سے ہم نے پیدا کیے جوڑے تا کہ تم یاد دہانی حاصل کرو “ (سورةذاریات 51: 49-47)۔قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے کہ”پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس(یعنی نوعِ انسانی) میں سے یا ان اشیاءمیں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “ (سورةیسین36:36)۔
درج ذیل آیات کی روشنی اور جدیدتحقیق کے مطابق”تیسری مخلوق “کاکسی بھی مذہب اور سائنس میں کوئی تصور نہیں ہے،لڑکی یا لڑکا پیدا ہوتا ہے البتہ پیدائش کے وقت مرداور عورتوں والے اعضاءنمایاں نہ ہونے کے سبب لوگ انہیں ”تیسری مخلوق ،ہیجڑا ، کھسرا ،خواجہ سرا “کے ناموں سے منسوب کر دیتی ہے حالانکہ ایک اچھے اینڈ وکرائنالوجسٹ ڈاکٹرکے علاج کے بعد ایک ماہر سرجن سے آپریشن کے ذریعے ان کی جنس واضح کر دیتا ہے ، عوام الناس کیلئے یہ سمجھنا بہت ہی ضروری ہے کہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کو میڈیکل کی زبان میں انٹرا سیکس کہتے ہیں آپریشن کے ذریعے جنس تبدیل نہیں بلکہ واضح ہوتی ہے کیونکہ پیدائش کے وقت بعض بچوں کی جنس واضح نہیں ہوتی جبکہ بعض میںلڑکا اور لڑکی دونوں کے ہی اعضاءہوتے ہیں اس صورت میں ایک ماہر سرجن آپریشن کے ذریعے کارآمد عضو کو رکھ کر دوسرے اعضاءکو نکال دیتا ہے مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ کوئی بھی سرجن ڈاکٹر کسی انسان کی جنس تبدیل نہیں کرتا بلکہ آپریشن کے ذریعے جنس واضح کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدائش کے وقت بچے کو دی ہوتی ہے ۔خدمت خلق کی راہ پر گامزن ادارہ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان کی قیادت میں پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچوں اور خوجہ سرا کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرریا ہے۔برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئر مین عنصر جاوید خان کے مطابق پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچے اور خواجہ سرا دونوں بالکل مختلف ہیں ،حکومت نے خواجہ سرا کے حوالے سے تو قانون سازی کی ہے جس میں بہت سی میڈیکلی ،تکنیکی اور قانونی خامیاں موجود ہیں البتہ پیدائشی طور پر جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کے حوالے سے حکومت نے ابھی تک کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے ،یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کیلئے بھی قانون سازی کرے۔برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن سرجری کے ذریعے 146 بچوں کی جنس درست کر چکی ہے، برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن پاکستان کی واحد آرگنائزیشن ہے جو جنس واضح نہ ہونے والے بچوں اور ٹرانسجینڈر(خواجہ سرا) کا علاج بالکل مفت کرتی ہے ۔ عنصر جاوید خان کے مطابق ٹرانسجینڈر (خواجہ سرا ) سرجری کے ذریعے جنس تبدیل نہیں کرواسکتے ہیں کیونکہ خواجہ سرا پیدائش کے وقت سو فیصد نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں لیکن پھر چار سال کے بعد ان کے دماغ میں پیدا ہونے والے مادہ انہیں جنس مخالف کا رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر ایک نارمل لڑکا خود کو لڑکی سمجھنے لگتا ہے جبکہ نارمل لڑکی خود کو لڑکا سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں ،یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے ایسے لوگوں کو سرجری کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی ان کا علاج ایک ماہر نفسیات چھے مہینے کے اندر کر سکتا ہے، بارہ سال کی عمر سے قبل اس بیماری کا علاج آسانی کیساتھ ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد مریض کے تعاون کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کوسب سے بڑا مسئلہ نادرا میں اپنی جنس کی درست شناخت کے اندراج کا درپیش آتاہے،کیونکہ والدین پیدائش کے بعد جنس کے تعین کو خود سے ہی اپنے اندازے کے مطابق منسوب کر دیتے ہیںاور (ب )فارم پر کسی ماہر ڈاکٹر کی تصدیق کے بغیر ہی بچے کے نام کا اندراج کروا دیتے ہیںاور جب سرجری کے بعد درست جنس سامنے آتی ہے تو نادرا کے ریکارڈ میں ان بچوں کی درست جنس کے حوالے سے والدین کوبے پناہ مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے، لہٰذاوفاقی حکومت جنس واضح نہ ہونے والے بچوںکے حوالے سے قانون سازی کرے اورنادرا قوانین میں بھی تبدیلی کرے تاکہ ایسے بچے بھی باعزت شہریوں کی طرح نادرا ریکارڈ میںاپنی درست جنس کا اندراج کروا سکیں۔ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن نے لاہور ،کراچی ، کوئٹہ، پشاور ، گلگت سمیت ملک کے 20 شہروں میں ای ہیلتھ سنٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ لاہور میں پہلے ای ہیلتھ سنٹر کی ابتدا ونگ کمانڈر جاوید چوہدری کی اہلیہ طاہرہ جاوید کے اسپانسر کے ذریعے کردی گئی ہے۔ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کا علاج ومعالجہ کی مفت سہولت فراہم کرتی ہے لیکن ان بچوں کے والدین کو ملک کے مختلف شہروں سے لاہور آکر علاج کرانا پڑتا ہے سرجری سے قبل 6 ماہ سے لیکر 2 سال تک ایک ماہر اینڈو کرالوجسٹ ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے ہیڈ آفس لاہور آنا پڑتا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے کئی لوگوں کیلئے اپنے بچوں کو لاہور لانا ممکن نہیں ،ایسے مریضوں کی سہولت کیلئے ہی برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن نے ملک کے 20 شہروں میں ای ہیلتھ سنٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای ہیلتھ سنٹر کو ایک گیجٹ ،لیب ٹاپ کے ساتھ منسلک کر کے اس کی مدد سے جنس واضح نہ ہونے والا مریض ملک کے کسی بھی شہر میں موجود ہو برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے ای ہیلتھ سنٹر جائے گا جو ان گیجٹ کی مدد سے ڈاکٹر لاہور میں بیٹھ کر معائنہ کر سکتے ہیں ،اس طرح مریض کو ہر بار برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے ہیڈ آفس لاہور آکر چیک اپ نہیںکرانا پڑے گا، جب مریض سرجری کیلئے تیار ہو جائے گا تب اس کو لاہور سنٹر بلا کر جنس درست اور واضح کر دی جائے گی،برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن جنس تبدیل نہیں بلکہ واضح کرتی ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدائش کے وقت دی ہوتی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے