Voice of Asia News

وزیراعظم نے اشتراوصاف کو اٹارنی جنرل مقرر کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیا)اشتر اوصاف کو اٹارنی جنرل مقرر کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اشتراوصاف کو اٹارنی جنرل مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ اشتر اوصاف نوازشریف دور میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔اس سے قبل اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی اٹارنی جنرل بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جاوید خان نی10 اپریل کو اپنا استعفیٰ ایک خط کے ذریعے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوایا۔اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ میں نے فروری 2020 سے پاکستان کے اٹارنی جنرل کی انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی صلاحیت اور ضمیر کے مطابق اپنے ملک سے بہتر خدمت کرنے کی کوشش کی، اب میں اپنا استعفیٰ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔حیثیت سے خدمات انجام دیں، یاد رہے کہ خالد جاوید خان نے انور منصور خان کی جگہ لی تھی جنہوں نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے بینچ کے چند اراکین کے خلاف الزامات لگانے کے بعد اس عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ رواں سال کے شروع میں نامہ نگاروں کے ایک گروپ کو بتایا تھا کہ انہوں نے فروری میں بعدازاں 4 اپریل کو جسٹس مقبول باقر کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی فل کورٹ ریفرنس میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ زندگی ہمیشہ ہمارے منصوبوں کو روکتی ہے اور اپنے وقت کا انتخاب کرتی ہے۔یہ تقریر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بغیر اجلاس ملتوی کرنے کے ایک دن بعد کی گئی اس پیشرفت نے ان افواہوں کو جنم دیا تھا کہ اٹارنی جنرل پاکستان جلد استعفیٰ دے سکتے ہیں تاہم خود اٹارنی جنرل نے فل کورٹ ریفرنس میں اپنے خطاب میں یہ کہہ کر معاملے کو حل کر دیا کہ انہوں نے صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے فوراً بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اعزاز کیلئے میں وزیراعظم عمران خان کا شکر گزار ہوں۔تھے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں