Breaking News
Voice of Asia News

فتنہ دجال دنیا کا عظیم ترین فتنہ ہے: حافظ محمد صالح

 
’’دجال‘‘ عربی زبان میں جعل ساز، ملمع ساز اور فریب کار کو بھی کہتے ہیں۔ ’’دجل‘‘ کسی نقلی چیز پر سونے کا پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔ دجال کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جھوٹ اور فریب اس کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ہوگا۔ اس کے ہر فعل پر دھوکا دہی اور غلط بیانی کا سایہ ہوگا۔ کوئی چیز، کوئی عمل، کوئی قول، اس شیطانی عادت کے اثرات سے خالی نہ ہوگا۔دجال لفظ کا اصل مادہ ،د، ج، ل۔ دجل کا معنی ہے ڈھانپ لینا ،لپیٹ لینا۔ دجال اس لیے کہا گیا کیونکہ اس نے حق کو باطل سے ڈھانپ دیا ہے یا اس لیے کہ اس نے اپنے جھوٹ، ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی فوجوں سے زمین کوڈھانپ لے گا اس لیے اسے دجا ل کہا گیا ہے اس لقب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (دجال اکبر بہت بڑے فتنوں والا ہے) وہ ان فتنوں کے ذریعے اپنے کفر کو ملمع سازی کیساتھ پیش کریگا اور اﷲ کے بندوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیگا نیز یہ کہ اس کا فتنہ عالمی فتنہ ہوگا۔ دجال مسلمانوں کے نزدیک اس شخص کا لقب ہے جو قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک اور قرب قیامت یعنی آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔دجال قوم یہود سے ہوگا۔ ہر نبی نے اس کے فتنہ سے اپنی اپنی (قوموں) امتوں کو ڈرایا ہے مگر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہِ وسلم نے اس کے فتنہ کو انتہائی وضاحت سے بیان فرمانے کے ساتھ ساتھ بہت سی نشانیاں اور اس سے بچاؤ کے طریقے اپنی امت کو سمجھا دیے ہیں۔ احادیث نبویہ میں’’دجال‘‘کا کوئی اصلی نام نہیں آیا، اسلامی اصطلاح میں اس کا لقب’’دجال‘‘ہے اور یہ لفظ اس کی پہچان اور علامت بن گیا ہے۔ اس کا فتنہ بہت سخت ہوگا چنانچہ رسول پاک ؐنے فرمایا! آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت قائم ہونے تک کوئی بھی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔فتنہ دجال دنیا کا عظیم ترین فتنہ ہے۔ اتنا بڑا فتنہ کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہر نبی اور رسول نے اپنی امت اپنے لوگوں کو اس فتنے کا بتایا، اس کے شر کا بتا کر سمجھایا اور ڈرایا، آگاہ فرمایا۔ لیکن بدقسمتی سے آج کے زیادہ مسلمان اس فتنے اور اس سے ملحقہ فتنوں کا کچھ علم نہیں رکھتے اور اگر کسی کو کچھ پتہ ہے وہ بھی اتنا غلط یا اتنا الٹا کہ اﷲ معافی۔ کوئی اسے ایک تہذیب کہتا ہے تو کوئی ملک۔ کوئی ڈالر کو دجال بنا دیتا ہے تو کچھ نادان اس کے سرے سے ہی منکر ہیں۔خیر صحیح اسلامی عقیدہ تو یہی ہے دجال ایک بندہ ہوگا اور ایک آنکھ سے کانا بھی ہوگا جبکہ اسکی دوسری آنکھ بھی عیب دار اور انگور کے دانے کی مانند لٹکی ہوئی یا موٹی ہوگی۔ اتنا بدصورت ہوگا کہ اب کیا بتاؤں۔دجال کی اسی بدصورتی اور مکروہ چہرے کا چونکہ یہودیوں نے اپنی کتابوں میں پڑھ رکھا ہے اور مسلمانوں کی کتابوں میں بھی لہٰذا وہ اب ہالی وڈ کے مختلف کارٹونز اور موویز میں ایسی ہی شکلوں والے کردار دکھا دکھا کر لوگوں کو اور بالخصوص بچوں کو مانوس کر رہے ہیں تاکہ جب اصل دجال دنیا کے سامنے آئے تو لوگ تھو تھو نہ کریں بلکہ اسے ایک مسیحا اور ہیرو سمجھ کر قبول کریں اور یہودی اپنی ذہانت سے بہت کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ المیہ مسلمانوں کا ہی ہے کہ انھیں سونے سے فرصت نہیں اور جاگنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کارٹونز اور موویز کے علاوہ بھی مختلف سنگرز اور لوگ ایسے لینز کا استعمال کر کے اور اپنا سٹائل عجیب اور ڈراؤنا بنا کر دجالی شکل کو پروموٹ کرتے ہیں۔
سورہ کہف قرآن کی ایک عظیم سورت ہے ، جمعہ کے دن اس کی تلاوت مستحب ہے۔ جو آدمی روز جمعہ سورہ کہف کی تلاوت کرے گا اﷲ تعالی اس کیلئے نور فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک کی آیت کا تر جمعہ ہے ’’جس نے جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کی وہ آٹھ دن تک ہر فتنے سے بچا رہے گا ، اگر دجال کا بھی خروج ہوجائے تو اس سے بھی بچ جائے گا‘‘ ۔اصحاب الکہف کا قصہ بلاشبہ قرآن کریم کے چند اہم ترین موضوعات میں تصور کیا جاتا ہے۔ اس سورۃکی شان نزول ہی اس کی اہمیت اور افادیت کی شاہد ہے۔ جس کی بدولت ایک طرف نبی کریم ؐ کی شان نبوت کفار مکہ اور یہود مدینہ کے سامنے مزید نکھر کر سامنے آئی اور دوسری طرف ان کے سوالات کا عظیم الشان جواب اﷲ کریم نے سورہ الکہف کی صورت میں نازل فرمایا۔ اس واقعہ کی حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ایک امر کا ادراک ضروری ہے کہ سورۃ الکہف کی آیات 9 سے 26 تک اﷲ تعالی نے یہ واقعہ براہ راست بیان فرمایا ہے۔ سورۃکہف کی ابتدائی دس آیات اگر ہمیں یاد نہ ہوں تو انہیں ازبرکرلیں اور اس کی تلاوت کرتے رہا کریں کیونکہ مسلم شریف کی روایت میں حفظ کرنے کا ذکر ہے بلکہ سب سے اچھا ہے کہ سورۃکہف مکمل حفظ کرلیا جائے تاکہ ہر جمعہ کو بغیر قرآن دیکھے اس کی تلاوت کرنے کی سہولت میسر ہوجائے۔ کبھی کبھی آدمی سستی میں یا نماز جمعہ میں تاخیر سے آنے کی وجہ سے سورہ کہف کی تلاوت نہیں کرپاتا یا مصحف کی عدم موجود گی بھی اس کی قرات میں رکاوٹ بنتی ہے ان سب کا آسان حل اس سورت کا یاد کرلینا ہے ، حفظ ہونے کے سبب مختصر وقت میں بآسانی اس کی تلاوت کرسکیں گینیز دجال کے فتنے سے حفاظت کیلئے جب بھی چاہیں گے ابتدائی آیات زبانی پڑھتے رہیں گے۔
عصر حاضر میں امت مسلمہ کا بحران شدید ترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ بحران تفک، تدبیر اور عمل تینوں سطح پر یکساں طور پر شدید نظرآتا ہے۔ ناکامی کے احساس نے کم فہمی، بے صبری اور بے اعتدالی پیدا کر دی ہے جس کا نتیجہ ’’دہشت گردی‘‘کی نام نہاد اصلاح کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ اسلام امن و صلح کا مذہب ہے اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن و سنت سے دوری کا نتیجہ ہے ، دجال اور فتنہ دجاک کا معرکہ شروع ہونے والا ہے موجودہ بحران اس کا پیش خیمہ ہے۔ نبی آخر الزماںؐ نے فرمایا ’’خدا کی قسم قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب ظاہر نہ ہوں اور سب سے آخری کذاب کا نادجال ہو گا۔‘‘دجال کے ظاہر ہونے کی علامات شروع ہو چکی ہیں۔ مثلاً یہ کہ جب دجال نکلے گا اس وقت اچھے لوگ کم ہوں گے۔ آپس میں کدورت اور دشمنیاں بہت ہوں گی۔ دین اسلام کمزور ہو چکا ہو گا۔ دجال کے اکثر ساتھی عورتیں ہونگیں یا یہودی۔ یہودیوں کی تعداد سترہزار ہو گی جن کے ہاتھوں میں تلواریں ہونگیں ان تلواروں پر نگ جڑے ہوں گے۔ ان لوگوں کے جسموں پر بہت قیمتی اور موٹا لباس ہو گا۔ اس لباس کا نام ’’ساج‘‘ ہو گا۔
دجال شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور اصفہان کے ایک مقام ’’یہودیہ‘‘ میں نوجوانی کی حالت میں نمودار اور اس کی دونوں آنکھوں میں عیب ہو گا۔ ایک آنکھ بے نور ہو گی اور دوسری انگور کی طرح باہر کو ابھی ہوئی ہو گی۔ بے نور آنکھ ایسی ہو گی جیسے کسی نے ہاتھ پھیر کر اسے بجھا دیا ہو اس کا رنگ گندمی اور بال پیچ دار ہوں گے۔ اس کی پیشانی پر لفظ ’’کافر‘‘ اس طرح لکھا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ سکے گا۔ خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو وہ ایک گدھے پر سواری کرے گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہو گا۔ دجال کی رفتار بادل اور ہوا کی طرح تیز ہو گی۔ وہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیل جائے گا جیسے زمین اس کے لیے لپیٹ دی گئی ہوا اور وہ ہر طرف فساد پھیلائے گا۔ مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس میں داخل نہ ہوسکے گا۔ اس زمانے میں مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے اس وقت مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر فرشتوں کا پہرہ ہو گا جو دجال کو اندر نہیں گھسنے دیں گے چنانچہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اس جگہ ٹھہرے گا جس کا نام ’’ظریب احمر‘‘ ہو گا۔ گویا مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے جو ہر منافق مرد اور عورت کو مدینہ سے نکال پھینکیں گے۔ یہ تمام منافق لو گ دجال سے جا ملیں گے۔ عورتیں سب سے پہلے دجال کے ساتھ شامل ہو جائیں گی۔ غرضیکہ مدینہ طیبہ منافقوں سے پاک ہو جائے گا اور اس لحاظ سے اس دن کو ’’یوم نجات‘‘ کہا جائے گا۔ فتنہ دجال اتنا سخت ہو گا کہ تاریخ انسانی میں اس سے بڑا فتنہ نہ کبھی ہوا نہ آئندہ ہو گا، پہلے دجال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا۔ اس کے ساتھ غذا کا بہت بڑا ذخیرہ ہو گا۔ زمین کے پوشیدہ خزانوں کو حکم دے گا تو وہ زمین سے باہر نکل پڑیں گے اور اس کے پیچھے ہو جائیں گے۔ پیدائشی اندھے اور برص کے داغوں والے شخص کو تندرست کر دے گا اور اعلان کرے گا ’’میں تمہارا رب ہوں‘‘ بس جو شخص اس بات کو تسلیم کر لے گا وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا اور جو شخص اﷲ کی ربوبیت کا اعلان کریں گے وہ عذاب سے محفوظ رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ اس کے ساتھ شیطانوں کو بھیجے گا جو لوگوں سے بات چیت کریں گے دجال کسی دیہاتی سے کہے گا اگر میں تیرے ماں ، باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے اپنا رب مان لے گا؟ دیہاتی حامی بھر لے گا تو اس کے سامنے وہ شیطان اس کے ماں باپ کی صورت میں آجائیں گے اور کہیں گے بیٹا تو اس کی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے چنانچہ وہ اسے اپنا مان لے گا اور فتنے میں مبتلا ہو جائے گا دجال کے ساتھ دو فرشتے دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے جو لوگوں کی آزمائش کے لیے دجال کو جھوٹا کہیں گے لیکن لوگ ان کی بات کا غلط مطلب سمجھیں گے۔
فتنہ دجال کے بارے میں بے شمار احادیث مبارکہ ہیں جس میں تفصیل سے دجال کے مکرو فریب کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ ’’حضرت حذیفہؓ نے فرمایا کہ رسول اکرمؐ نے دجال کے بارے میں فرمایا‘‘
’’بے شک دجال نکلے گا اور بے شک اس کے ساتھ پانی بھی ہو گا اور آگ بھی ہو گی۔‘‘(صحیح مسلم)
’’دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ ’’کافر‘‘ لکھا ہو گا جسے ہر پڑھا لکھا ، اَن پڑھ مومن پڑھ سکے گا۔‘‘(صحیح مسلم)
صاحب فتح الباری نے اپنی کتاب میں حاکم کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب منافقین مدینہ کی بڑی جماعت دجال کے ساتھ نکل کھڑی ہو گی اس وقت مدینہ سے ایک صاحب نکل کر دجال کے سامنے آئیں گے جو اس زمانے میں روئے زمین پر بسنے والوں میں سب سے بہتر ہونگے وہ دجال سے کہیں گے ’’ہم گواہی دیتے کہ بے شک تو وہی دجال ہے جس کی خبر ہمارے رسولؐ نے ہمیں دی تھی۔‘‘اس مومن بندے کی بات سن کر دجال حاضرین سے کہے گا اگر میں اس شخص کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دوں تو پھر تم مجھے اپنا رب مان لو گے۔’’لوگ جواب دیں گے‘‘ ہاں۔ دجال اس مومن بندے کو قتل کر کے زندہ کر دے گا وہ زندہ ہو کر کہے گا ’’خدا کی قسم مجھے تیرے بارے میں جنتا آج یقین ہوا ہے کہ تو جھوٹا ہے اس سے پہلے نہ تھا۔ اس کے بعد دجال اس مومن بندے کو کوشش کے بعد بھی قتل نہ کر سکے گا۔
حضور اکرمؐ نے فرمایا۔ یہ مومن رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑھ کر باعظمت شہادت والا ہو گا۔(صحیح مسلم)صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ’’کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں دجال نہ پہنچے سوائے مکہ اور مدینہ کے ’’ترمذی میں روایت ہے ’’دجال مشرق کی ایک سرزمین سے نکلے گا جسے خراسان کہتے ہیں۔ بہت سی قومیں اس کا اتباع کریں گی جن کے چہرے تہہ بہ تہہ بنائے ہوئی ڈھالوں کی طرح ہونگے۔ (یعنی ان کے چہرے چوڑے چپکے ہوں گے)۔حضرت حسان بن عطیہ تابعیؒ فرماتے تھے کہ بارہ ہزار مردوں اور سات ہزار عو رتوں کے علاوہ سب انسان دجال کے تابع ہو جائیں گے اور اس کی خدائی کا اقرار کر لیں گے۔حضرت نواس بن سمعانؓ فرماتے ہیں ’’ایک مرتبہ رسول اکرمؐ نے دجال کا ذکر فرمایا کہ اگر میری موجودگی میں نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اور اگر اس وقت میں تمہارے اندر موجود نہ ہوں گا تو ہر شخص اپنی طرف سے دجال سے مقابلہ کرنے والا ہونا چاہیے اور میرے پیچھے اﷲ ہر مسلمان کا نگراں ہے۔ (دجال کی پہچان یہ ہو گی)کہ وہ یقینا جوان ہو گا گھونگھریالے بالوں والا ہو گا اس کی آنکھ اٹھی ہوئی ہو گی اس کی صورت میرے اندازہ کے مطابق عبدالعزی بن قطن جیسی ہے تم میں سے جو شخص اسے دیکھے اسے چاہیے کہ اس پر سورہ کہف کی شرو ع کی آیتیں پڑھ دے کیونکہ ان کا پڑھنا اس کے فتنے سے امن و امان میں رکھے گا۔ بے شک وہ شام و عراق کے ایک راستے سے نکل گا پھر نکل کر دائیں بائیں بہت فساد مچائے گا۔ اے اﷲ کے بندو! اس وقت ثابت قدم رہنا ’’حضرت نواسؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اﷲؐ وہ کتنے دن زمین پر زندہ رہے گا۔‘‘ آپؐ نے ارشاد فرمایا: چالیس دن اس کے زمین پر رہنے کی مدت ہو گی جن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا اور ایک دن ایک ماہ ایک برابر اور ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن ایسے ہی ہونگے جیسے تمہارے دن ہوتے ہیں۔‘‘آپؐ سے پھر سوال کیا گیا ’’یار سول اﷲؐ جو دن ایک سال کا ہو گا اس میں ہمیں ایک ہی دن کی نماز پڑھ لینی کافی ہو گی‘‘ آپؐ نے فرمایا‘‘ نہیں بلکہ حساب لگا لینا (اور اپنے دنوں کے اندازے سے روزانہ کی طرح پانچ نمازیں پڑھنا) راوی کہتے ہیں: ہم نے پھر سوال کیا ’’دجال کس تیزی سے زمین پر سفر کرے گا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’جیسے بادلوں کو ہوا تیزی سے اڑا لے جاتی ہے اس طرح تیزی سے زمین پر پھرے گا (اور تھوڑے ہی عرصے میں ساری زمین پر پھر پھر کر لوگوں کو اپنے فتنہ میں مبتلا کر دے گا) ۔(صحیح مسلم)
دجال کے فتنے کی مزید تشریح کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا: ایک قوم کے پاس دجال پہنچ کر اپنی خدائی کی طرف بلائے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے لہٰذا وہ (اپنی خدائی کا ثبوت ان کے دلوں میں بٹھانے کے لیے ) آسمان کو برسنے کا حکم دے گا تو بارش ہونے لگے گی اور زمین کو کھیت اُگانے کا حکم دے گا تو کھیت اُگ آئیں گے اور اس بارش اور کھیتی کے سبب ان کے مویشی اس حالت میں ان کے سامنے پھرنے چلنے لگیں گے کہ ان کی کمریں خوب اونچی ہو جائیں گی اور تھن خوب بھرے ہوئے ہوں گے اور کوکھ خوب پھولی ہوئیں ہونگیں، پھر دجال ایک دوسری قوم کے پاس آئے گا اور انہیں بھی اپنی خدائی کی طرف بلائے گا وہ اس کی بات کو رد کردیں گے تو انہیں چھوڑ کر چل دے گا (مگر وہ امتحان میں آجائیں گے) اور ان کی کھیتی باڑی سب ختم ہو جائے گی اور بارش بھی بند ہو جائے گی اور ان کے ہاتھ میں ان کے مال میں سے کچھ نہ رہے گا۔ دجال کھنڈر اور ویران زمین سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ اپنے اندر سے خزانے نکال دے تو اس کے خزانے اس طرح دجال کے پیچھے لگ جائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے پیچھے لگ جاتی ہیں۔ اس کے بعد دجال ایک ایسے آدمی کو بلائے گا جس کابدن جوانی کی وجہ سے بھرا ہوا ہو گا اسے تلوار سے کاٹ کردو ٹکڑے کر دے گا اور دونوں ٹکڑوں کو دور پھینک دے گا جو آپس میں اتنی دور ہوں گے جتنی دور کمان سے تیر جاتا ہے، پھر اس شخص کو آواز دے کر بلائے گا تو وہ ہنستا کھیلتا اس کی طرف آجائے گا۔ دجال اسی حال میں ہو گا کہ اچانک اﷲ تعالیٰ مسیح ابن مریمؑ کو (آسمان سے) بھیج دے گا چنانچہ وہ شہر دمشق کی مشرق کی جانب ایک سفید مینارے کے قریب دو زرد کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب سر جھکائیں گے تو (ان کا پسینہ) ٹپکے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو اسے موتیوں کی طرح پسینہ کے نورانی دانے گریں گے جیسے کہ چاندی کے بنے ہوئے دانے ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیؑ کے سانس میں یہ تاثیر ہو گی کہ جس کافر تک پہنچے گا وہ کافر مر جائے گا اور آپؑ کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک آپؑ کی نظر پہنچتی ہو گی۔ آپؑ آسمان سے اتر کر دجال کو تلاش کریں گے حتیٰ کہ اسے باب لد کے قریب پالیں گے اور قتل کر دیں گے پھر ان لوگوں کے پاس تشریف لے جائیں گے جنہیں اﷲ نے دجال کے فتنے سے بچا دیا ہو گا اور ان کے چہروں پر (بطور تبرک) ہاتھ پھیریں گے اور ان کو جنت کے درجوں سے باخبر فرمائیں گے۔‘‘ (صحیح مسلم)
حضور اکرمؐ نے فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک مسلمانوں کی یہود سے جنگ نہ ہو۔ جنگ ہو گی اور یہود کو مسلمان قتل کریں گے۔ حتیٰ کہ یہودی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو درخت اور پتھر کہہ دے گا کہ اے مسلمان آ! میرے پیچھے یہودی ہے اسے قتل کر دے۔ سوائے غرقد کے درخت کے (کہ وہ نہ بتائے گا کیونکہ غرقد یہودیوں کا درخت ہے) ۔(صحیح مسلم)
فتنہ دجال ایک عظیم فتنہ ہو گا، جو دجال کی تصدیق کرے گا۔ وہ گمراہ ہو جائے گا اس کے پچھے تمام نیک اعمال باطل اور بے کار ہو جائیں گے اور جو اسے جھوٹا قرار دے گا اس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اس فتنہ کے سبب دجال کے ماننے والے بظاہر خوشحال ہونگے اور نہ ماننے والے سخت تکلیف میں ہونگے۔ دجال کے ساتھ ایک جنگ اور دوزخ بھی ہو گی جنت میں نہریں اور وادیاں بھی ہونگیں اور دوزخ میں آگ، لیکن حقیقت میں دجال کی دوزخ جنت اور اس کی جنت دوزخ ہو گی، جو شخص اس کی دوزخ میں گرے گا اس کا اجرو ثواب یقینی ہو گا اور گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اس فتنہ سے بچنے کے لیے حضور اکرمؐ نے سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ دجال کا ایک بڑا فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک مومن پر قدرت حاصل کر کے اس کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دے گا اور دونوں ٹکڑوں کو اپنے جھوٹے خدائی دعویٰ کے ساتھ جوڑ کر پھر زندہ کر دے گا۔ خبیث دجال اس کو زندہ کر کے پوچھے گا ’’بتا تیرا رب کون ہے‘‘ وہ کہے گا میرا رب اﷲ ہے اور تو اﷲ کا دشمن ہے تو دجال ہے۔ خدا کی قسم تیرے دجال ہونے کا یقین جتنا آج ہے اس سے پہلے اتنا نہ تھا۔ دجال کو اس شخص کے علاوہ کسی اور شخص کوزندہ کرنے یا مارنے پر قدرت نہیں دی جائے گی۔ اس کا ایک اور بڑا فتنہ بادلوں پر اختیار ہو گا کہ وہ بادلوں کو بارش کا حکم دے گا تو وہ بارش برسائیں گے اور زمین کو اناج اُگانے کا حکم دے گا تو وہ اناج اُگائے گی، اس کے فتنے کی مدت چالیس روز ہو گی، جن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، دوسرا ایک ماہ کے برابر، تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن ایک ایک دن کے برابر ہونگے۔ مسلمان اس وقت ایک گھاٹی کی طرف سمٹ جائیں گے اس زمانے میں مسلمانوں کے تین شہر ایسے ہونگے ان میں سے ایک تو دو سمندروں کے سنگم پر ہو گا۔ دوسرا حیرہ یعنی عراق کے مقام پر اور تیسرا شام پر ہو گا۔ دجال مشرق کے لوگوں کو شکست دے گا اور اس شہر میں سب سے پہلے آئے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر ہوگا۔ اس شہر کے لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ وہیں رہ جائے گا اور دجال کی پیروی کرے گا ایک دیہات میں چلا جائے گا اور ایک گروہ اپنے نزدیک والے شہر میں آئے گا۔ پھر دجال اس قریب والے شہر میں آئے گا، اس میں بھی لوگ اسی طرح تین گروہوں میں ہو جائیں گے، تمام مسلمان اردن اور بیت المقدس میں جمع ہو جائیں گے اور دجال شام میں فلسطین کے ایک شہر تک پہنچ جائے گااور یہ شہر ’’باب لد‘‘ پر واقع ہو گا، تمام مسلمان بیت المقدس کے ایک پہاڑ پر گھِر جائیں گے اس پہاڑ کا نام ’’جبل الد خان‘‘ ہے، دجال اس پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈال کر مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کر لے گا۔ یہ محاصرہ بہت سخت ہو گا اور مسلمانوں کو مصیبت میں ڈال دے گا اور فاقوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ نوبت یہاں پہنچے گی کہ لوگ اپنے کمان کی تانت جلا کر کھائیں گے۔ دجال آخری بار اردن کے علاقے میں ایک گھاٹی پر تہائی مسلمانوں کو قتل کرے گا۔ باقی مسلمان محصور ہونگے جب محاصرہ طول پکڑے گا تو مسلمانوں کا امیر ان پر زور دار حملہ کر کے شہادت یا فتح کا انتخاب کرنے کا حکم دے گا۔ وہ رات سخت تاریک ہو گی، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے گا، لوگ صبح کی تاریکی میں جنگ کی تیاری کر رہے ہونگے کہ اچانک کسی کی آواز آئے گی۔ ’’تمہارا فریاد رس آپہنچا‘‘ لوگ یہ الفاظ سن کر کہیں گے یہ تو کسی پیٹ بھرنے کی آواز ہے۔ غرض نماز فجر کے وقت حضرت عیسیؑ آسمان سے نازل ہونگے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’جب حضرت عیسیؑ آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہونگے، ان کی شکل حضرت عروہؓ بن مسعود سے ملتی جلتی ہو گی قدو قامت درمیانہ، رنگ سرخ و سفید بال کندھوں تک پھیلے ہوئے ہونگے جو سیدھے، صاف اور چمکدار ہونگے۔جیسے غسل کے بعد ہوتے ہیں، وہ سر جھکائیں گے تو بالوں سے موتیوں کی مانند قطرے ٹپکتے ہوئے معلوم ہونگے، جسم پر ایک زرہ اور ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے ہونگے۔ حضرت عیسیؑ کا نزول دمشق کی مشرقی سمت میں سفید منارے کے پاس یا بیت المقدس میں امام مہدیؓ کے پاس ہو گا۔ اس وقت امام مہدیؓ فجر کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکے ہونگے۔ نماز کی تکبیر ہو چکی ہو گی۔ امام مہدیؓ حضرت عیسیؑ کو دیکھ کر رکھ جائیں گے اور انہیں امامت کے لیے بلائیں گے مگر وہ انکار کر دیں گے اور امام مہدیؓ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ نماز فجر سے فارغ ہو کر حضرت عیسیؑ دروازے کھلوائیں گے۔ اس دروازے کے پیچھے دجال ہو گا اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہونگے ان میں سے ہر ایک کے پاس زیور سے آراستہ تلوار ہو گی۔ حضرت عیسیؑ ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمائیں گے ’’میرے اور دشمن خدا (دجال) کے درمیان سے ہٹ جاؤ، تاکہ وہ مجھے دیکھ لے‘‘ دجال کی نظر جونہی حضرت عیسیؑ پر پڑے گی و اس طرح گھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک۔ اس وقت جس کافر پر حضرت عیسیؑ کے سانی کی گرمی پہنچے گی مر جائے گا جہاں تک آپؑ کی نظر جائے گی وہیں تک آپؑ کا سانس بھی جائے گا۔ مسلمان پہاڑ سے اتر کر دجال پر ٹوٹ پڑیں گے اور یہودیوں پر ایسا رعب چھا جائے گا کہ بڑے ڈیل ڈول والا یہودی بھی تلوار نہ اٹھا سکے گا۔ جنگ ہو گی اور دجال بھاگ نکلے گا۔ حضرت عیسیؑ اس کا تعاقب کریں گے اور فرمائیں گے میری ایک ضرب تیرے لیے مقرر ہوو چکی ہے تو اس ضرب سے بچ نہیں سکے گا۔ دجال بھاگتا ہوا ’’باب لد‘‘ پر پہنچ جائے گاور یہیں حضرت عیسیؑ دجال کو قتل کر دیں گے۔ حضرت عیسیؑ کے پاس دو نرم تلواریں اور ایک حربہ ہو گا۔ حربہ اس کے سینے کے بیچوں بیچ لگے گا اور حضرت عیسیؑ دجال کا خون جو حربے پر لگا ہوا ہو گا مسلمانوں کو دکھائیں گے۔ آخر کار دجال کے ساتھ یہودیوں کو بھی شکست ہو جائے گی اور مسلمان ان کو چن چن کر قتل کریں گے۔ کوئی یہودی کہیں پناہ نہیں لے سکے گا۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت یا پتھر کے پیچھے بھی چھپا ہو گا تو درخت اور پتھر بول اٹھیں گے ’’یہ ہمارے پیچھے چھپا ہے۔‘‘اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے دجال اور اس کے لشکر پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا۔ چنانچہ وہ ان سب کو قتل کر دیں گے۔ حتیٰ کہ شجرو حجر بھی پکاریں گے کہ اے اﷲ کے بندے! اے رحمٰن کے بندے! اے مسلمان! یہ یہودی ہے۔ اسے قتل کر دے۔ غرض اﷲ تعالیٰ ان سب کو فنا کر دے گا اور مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ پس مسلمان صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ بند کر دیں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے