Voice of Asia News

نریندر مودی اب مسلمانوں کے قتل عام کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، اشوتوش ورشنی

واشنگٹن ڈی سی(وائس آ ف ایشیا)امریکہ میں مقیم ہندو اسکالر نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اب مسلمانوں کے قتل عام کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اشوتوش ورشنی جو امریکا کی براؤن یونیورسٹی میں سماجی علوم اور سیاسیات پڑھاتے ہیں نے معروف بھارتی صحافی سدھارتھ بھاٹیا کے ساتھ ایک بحث کے دوران کہا کہ بھارت اب مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) حکومت تشدد میں غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔اشوتوش ورشنی نے یہ بیان اس وقت دیا جب ان سے اس پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا کہ ہندوستان کے مختلف حصوں سے مسلم مخالف تشدد کے کئی واقعات کیوں رپورٹ ہو رہے ہیں۔رواں برس 10 اپریل کو رام نوی تہوارپر بھارت میں مسلم مخالف تشدد کا ایک سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ 16 اپریل کے روز ہنومان جینتی کے جلوسوں کے دوران بھی ایسا ہی دیکھا گیا۔ ورشنی نے کہامیں نے 1990 کی دہائی سے فرقہ وارانہ فسادات کا مطالعہ کیا ہے لیکن بھارت میں مسلمانوں کے خلاف موجودہ تشدد بہت مختلف ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہاں اب یہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کی طرف بڑھ رہا ہو۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اس پر خاموش ہیں کیونکہ وہ قتل عام کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں جب کہ بھارت مغربی ممالک کی تنقید سے بھی پریشان نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں