Voice of Asia News

شیخ رشید نے خونی لانگ مارچ کا بیان واپس نہ لیا تو گھر سے نکلنے نہیں دوں گا، وزیر داخلہ

لاہور (وائس آ ف ایشیا)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ شیخ رشید نے خونی لانگ مارچ کا بیان واپس نہ لیا تو اسے گھر سے نکلنے نہیں دوں گا۔رانا ثنا اللہ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان فرخ گوگی کے وکیل بنے ہوئے ہیں، عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم بھی فرح گوگی کے لیے رکھی تھی، گوگی پر الزامات کی انکوائری ہو رہی ہے اس کے بعد کارروائی کی جائے گی، اسے بیرون ملک سے ریڈ وارنٹ کے ذریعے بھی واپس لانا پڑا تو لائیں گے، عثمان بزدار تو صرف نام کا وزیراعلی تھا، اصل میں تو فرح گوگی تھی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان لوگوں اور کارکنوں کو گمراہ کررہے ہیں، انہیں بدتمیزی سکھا رہے ہیں، میں عمران خان کو آخری دفعہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم اس طرح کی حرکات سے باز نہ آئے تو جو تم کرو گے اس کا سامنا تم لوگوں کو بھی کرنا پڑے گا، اگر کہیں کسی کے ساتھ بد تمیزی ہوئی تو دوسرے کارکن بھی یہی کریں گے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ تمہارے کارکنوں نے دوسرے سیاست دانوں کو برا بھلا کہا تو ہمارے کارکن تمہارے برگر یوتھیوں کی درگت بنادیں گے۔شیخ رشید کے خونی لانگ مارچ سے متعلق بیان پر وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ لوگ اسی طرح انارکی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، پنڈی کا شیطان ایک طرف تو کہتا ہے کہ جیل میرا سسرال اور ہتھکڑی زیور ہے، دوسری طرف ضمانتیں کرواتا پھرتا ہے، اس نے ہائی کورٹ سے ضمانت کیوں کروائی، تم کہتے ہو لانگ مارچ خونی ہوگا، اگر تم نے اپنا بیان واپس نہیں لیا، اس پر معذرت نہ کی اور اسے پرامن لانگ مارچ نہ کہا تو میں تمہیں گھر سے نکلنے نہیں دوں گا، حکومت کو یقین دہانی کراؤ کہ لانگ مارچ پر امن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ شیخ رشید لوگوں کو آگ لگانے پر اکسا رہے ہیں، اگر آگ لگانی ہے توتم اپنے آپ کولگاؤ، انارکی اور افراتفری کی منصوبہ بندی کروگے تو ایک قدم گھر سے باہر نکلنے نہیں دوں گا۔علاوہ ازیں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت لاہور میں منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی تو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ پیش ہوئے۔اے این ایف کی پراسکیوشن ٹیم نے رانا ثناءاللہ کے شریک ملزمان کی بریت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے منشیات برآمد ہوئی جو قانونی طور جرم ہے، ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے، سہولت کار بھی جرم کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، ملزمان کیخلاف 15 عینی شاہدین ہیں۔رانا ثناءاللہ نے کیس میں مستقل حاضری معافی کی درخواست دائر کرتے ہوئے اپنی جگہ نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے مستقل حاضری معافی کی درخواست پر اے این ایف کو نوٹسز جاری کردیے۔شریک ملزموں کے وکیل نے دلائل کے لیے مہلت مانگ لی، جس کے بعد عدالت نے 21 مئی تک سماعت ملتوی کردی۔رانا ثناءاللہ سمیت پانچ ملزمان پر پندرہ کلو منشیات کا مقدمہ اے این ایف نے درج کیا تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناءاللہ کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری منظور کررکھی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں