Voice of Asia News

پیپلز پارٹی پنجاب کے گورنر سمیت دیگر آئینی عہدوں سے دست بردار

لاہور(وائس آ ف ایشیا) پیپلز پارٹی نے گورنر پنجاب کا عہدہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے عوض پنجاب میں تین وزارتیں، دو معاون خصوصی، قائمہ کمیٹی کی چئیرمین شپ اور دو پارلیمانی سیکریٹری، اہم اداروں اور کارپوریشنز میں کلیدی عہدوں پر تقرریاں مانگ لیں۔  وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر سردار اویس لغاری، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، عطا اللہ تارڑ، عمران گورایہ بھی موجود تھے۔وفد میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، قمر الزمان کائرہ، رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر گیلانی اور حسن مرتضیٰ وفد شامل تھے۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ بھی مل جل کر چلنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ اتحادی ہمارے دوست اور بھائیوں کی مانند ہیں، عہدے عارضی ہوتے ہیں، انسانیت سے محبت ترجیح ہونی چاہیے، آئینی اور جمہوری اقدار کو مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ترقی کا سفر وہیں شروع ہوچکا ہے جہاں سے چار سال پہلے منقطع ہوا تھا، وقت کم ہے اور دن رات کام کرنا ہوگا، دوستوں کے مشوروں کا خیر مقدم کریں گے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پنجاب کی اسپیکر شپ کی ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں، ہم وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو مبارکباد دینے آئے تھے اسپیکر شپ کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات میں تمام معاملات طے ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف انتخابی اصلاحات سمیت کسی معاملے پر بات نہیں کرتی تھی، کوشش کریں گے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کو آن بورڈ لیں، بلاول نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ انتخابی اصلاحات کے فوری بعد الیکشن کرائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان پہلے دعا کرتے تھے تحریک عدم اعتماد آئے اب تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو کیوں رو رہے ہیں؟ ان کو تو آخری بال تک کھیلنا تھا اب وکٹ لے کر ہی بھاگ گئے۔دریں اثنا اس ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان پاور شئیرنگ کے معاملے پر بات چیت ہوئی جس میں پیپلز پارٹی پنجاب کے آئینی عہدوں سے دست بردار ہوگئی ہے اور اب پیپلز پارٹی نے گورنر پنجاب کا عہدہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے پنجاب میں تین وزارتیں، دو سے زائد معاون خصوصی، قائمہ کمیٹی کی چئیرمین شپ اور دو پارلیمانی سیکریٹری مانگ لیے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اہم اداروں اور کارپوریشنز میں اہم عہدوں پر تقرریوں کا بھی مطالبہ کردیا۔ملاقات کے دوران حمزہ شہباز کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی اور دونوں جماعتوں نے پنجاب کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔پیپلز پارٹی کے پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی کو سینئر وزیر بنائے جانے کاامکان ہے۔ ممکنہ وزراء میں سید حیدر علی گیلانی، مخدوم سید عثمان محمود، ممتاز علی چانگ بھی شامل ہیں۔پیپلزپارٹی کی شازیہ عابد، غضنفر عباس لنگا، رئیس نبیل کو پارلیمانی سیکریٹری اور چئیرمین پارلیمانی پارٹی، پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ کو معاون خصوصی بنائے جانے کا امکان ہے۔ملاقات میں پنجاب کے اہم اداروں اور کار پوزیشن میں اہم رہنمائوں کو عہدے دئیے جانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے پاور شئیرنگ فارمولے پر ن لیگ کی اعلی قیادت سے مشاورت کی جائے گی۔ حتمی مشاورت کے بعد پیپلز پارٹی کو پاور شئیرنگ فارمولے کے تحت عہدے دئیے جائیں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں