Voice of Asia News

وہ میرے دوست لگتے ہیں نیوز روم/امجد عثمانی

 

میرے ایک جاننے والے انتہائی شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں….ان کا ایک ادارے سے متعلق جائز کام تھا

میں نے ایک”رپورٹر دوست” سے سفارش کا کہا……..ایک دو مرتبہ فون کرکے یاد دہانی کرائی اور کہا بھائی خبر ہو یا کوئی کام "فالو اپ "کی بڑی اہمیت ہوتی ہے

میرے "فالو اپ” پر ایک دن بولے سر….! وہ لوگ آپ کے کیا لگتے ہیں؟؟؟میں نے برجستہ کہا کہ سر…..! وہ میرے دوست لگتے ہیں……!!!وہ ٹھٹھکے اور کہا میں سمجھا کہ آپ اتنی دلچسپی لے رہے ہیں شاید آپ کے رشتے دار ہیں………

نئی نسل سے تعلق رکھنے والے "رپورٹر بھائی” کا بھی کیا قصور کہ زمانے کا چلن بدل گیا ہے ورنہ کبھی دوستی بھی ایک رشتہ تھا اور دوست بھی رشتےدار ہی لگتے تھے

برا ہو ابن الوقتی،خود غرضی اور مفاد پرستی کا کہ دوستی ایسے مخلص رشتے کا تقدس پامال کردیا……..بدقسمتی کہ معدے سے سوچنے والے بے دماغ لوگ اس "منافقت” کو اپنی” ذہانت "سمجھتے ہیں…….بلکہ دور جدید میں اسے "پالیٹکس” اور "ڈپلومیسی "کہتے ہیں…….

جناب واصف علی واصف نے کہا تھا کہ دوستی یہ نہیں کہ تمہارے دوست کو تمہاری مدد کی ضرورت ہو اور تم قرآن سنانا شروع کر دو…….لگتا ہے اب نام نہاد دوستی کا یہی رائج الوقت فلسفہ ہے…….

عجب لوگ ہیں اسی مکروہ فلسفے کے اندھیرے میں روشنی تلاش کرتے ہیں…..اسی بدبودار فلسفے میں خوشبو کی جستجو کرتے ہیں…..مطلب بغص بھرے دل کے لیے اطیمنان قلب ڈھونڈتے ہیں!!!!!

image_pdfimage_print
شیئرکریں