Voice of Asia News

حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ حلف برداری کے خلاف اپیل کے لیے فل بینچ تشکیل

لاہور (وائس آ ف ایشیا) لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف برداری کے خلاف اپیل کے لیے فل بینچ تشکیل دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کی جانب سے 5 رکنی فل بینچ تشکیل دیا گیا ہے ، جسٹس صداقت علی خان 5 رکنی فل بینچ کے سربراہ ہوں گے جب کہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس شاہد جمیل خان ، جسٹس شہرام سرور چوہدری ، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔بتاتے چلیں کہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر لارجر بینچ بنانے کی سفارش کی تھی ، یہ سفارش اس وقت سامنے آئی جب 30اپریل کو لاہورہائی کورٹ میں حمزہ شہباز حلف کا حکم نامہ رکوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی ، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی ، تحریک انصاف کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ ہماری کوشش تھی کہ حلف سے پہلے درخواست پر سماعت ہو جاتی اب حلف ہو چکا ہے لیکن ہمارے 3 اعتراضات ہیں۔اس پر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ اگر حلف ہو گیا ہے تو آپ نے تو حکم چیلنج کیا ، اب تو اس پر لارجر بینچ بننا چاہیے جب کہ جسٹس طارق سلیم نے کہا کہ یہ بتائیں کہ عمل نہ ہونے پر صورت حال تبدیل نہیں ہوئی؟ عدالت ریلیف کو مولڈ بھی تو کر سکتی ہے۔ اس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ 3 فیصلے ہوئے ، کابینہ بحال ہوچکی ، استعفیٰ مسترد ہو گیا ہے لیکن یہاں حلف لے لیا گیا ہے۔اس دوران جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کورٹ آڈر پر عمل نہ کرے تو پھر عدالت کیا کرے؟ کیا آپ متاثرہ فریق ہیں؟ ہم اس پر نوٹس کر دیتے ہیں کیوں کہ ہم تو ایمرجنسی میں آئے ہیں اس لیے ہم لارجر بینچ بنانے کی ہدایت کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے چیف جسٹس سے معاملے ہر لارجر بینچ بنانے کی سفارش کردی ، اس کے علاوہ لاہورہائیکورٹ نے پیرا 9 حذف کرنے کی استدعا منظور کر لی ، صدر اور گورنر سے متعلق ریمارکس حذف کرنے کی استدعا منطور کر لی۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اپنایا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کو پارلیمانی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ‘ ہائی کورٹ کا 29 اپریل کا حکم آئین کے مطابق نہیں‘ سنگل بینچ کے فیصلے میں صدر اور گورنر کے خلاف ریمارکس دیے گئے جب کہ آئین کے تحت صدر اور گورنر کسی عدالت کو جوابدہ نہیں ، اس لیے لارجر بینچ سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں