Voice of Asia News

فلسطین اور اسرائیل ایک نئے تصادم کے دہانے پرپہنچ گئے

غزہ (وائس آ ف ایشیا) غزہ میں حماس کے رہنما کو قتل کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں پر تنظیم کے عسکری ونگ اور دیگر فلسطینی دھڑوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق اسرائیل میں فلسطینی حملوں کے جواب میں غزہ میں حماس کے رہنما کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ذرائع ابلاغ نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ یحییٰ سنوار کو رمضان کے دوران کی گئی تقریر اور اسرائیل کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔فلسطینیوں کے حملوں کے جواب میں غزہ میں فوجی آپریشن کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔فلسطینیوں کے حملوں کا آغاز رمضان کے دوران ہوا جن میں سے آخری آپریشن میں تل ابیب کے مشرق میں واقع ایلاد میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔اسرائیلی وزیر مواصلات یوز ہینڈل نے کہا ہے کہ ’گیلاد شالت معاہدے کے دوران سنوار کی جیل سے رہائی ایک غلطی تھی۔اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے اقدامات کو دیکھ رہے ہیں اور ہم اپنے فیصلے کریں گے، اور ہم یہ صرف بند کمروں میں کریں گے۔القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے سنیچر کو سنوار کو قتل کرنے کے ارادے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ابو عبیدہ نے کہا کہ ’بزدل اسرائیلی قبضے کی طرف سے یحییٰ سنوار یا مزاحمتی لیڈروں میں سے کسی کے ممکنہ قتل کی دھمکیاں خطے میں بھونچال اور ایک بے مثال ردعمل کا اشارہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم صیہونی حکومت کی تاریخ میں ایک نیا تباہ کن باب رقم کریں گے۔القسام کے بیان کے بعد اسرائیلی سیکورٹی حکام نے بتایا کہ ان کی فوج نے ملک کی سیاسی قیادت کو اس وقت حماس کے رہنما کو قتل نہ کرنے کی سفارش کی ہے۔فلسطینی اخبار القدس نے بھی نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اسرائیل نے ثالثوں کے ذریعے فلسطینی دھڑوں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ کوئی قاتلانہ کارروائی نہیں کرے گا اور غزہ میں کشیدگی میں اضافے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں