Voice of Asia News

آئی ایم ایف نے مذاکرات کیلئے ایک بار پھر تیل مہنگا کرنے کی شرط رکھ دی

اسلام آباد (وائس آ ف ایشیا) عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف نے ) حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بار پھر تیل مہنگا کرنے کی شرط رکھ دی ۔ رپورٹ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پاکستان کو 15 مئی سے تیل پر دی جانے والی سبسڈی واپس لینے کا کہا گیا ہے جس کے بعد حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات 18 مئی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوسکتے ہیں ۔ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے حکومت کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ اس کا وفد 18مئی کو دوحہ پہنچے گا تاہم مذاکرات شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف کو اپنی کابینہ کو اعتماد میں لینا ہوگا اورپروگرام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دورکرنا ہوں گی ۔اس ضمن میں ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے وزارت خزانہ کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک بار پھر آئی ایم ایف سے درخواست کریں کہ وہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی شرط میں جزوی طورپر نرمی کرے ۔دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہےکہ صرف رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں حکومت کو 118 ارب کا نقصان ہورہا ہے ، عمران خان کا پروگرام تھا کہ عدم اعتماد نہ ہوئی تو پیٹرول کی قیمتیں بڑھائیں گے ، اس کے علاوہ عمران کان حکومت نے رئیل اسٹیٹ کو ڈھائی سال تک ایمنسٹی دی، ایسا کہاں ہوتا ہے۔ چند روز قبل وزارت خزانہ نے کہا تھا کہ بجلی ،تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا تو آئی ایم ایف پروگرام متاثر ہوسکتا ہے، بجلی ، پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے سے 700ارب کا اضافی بوجھ بڑھ جائے گا،یہ اضافہ بوجھ جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر بنتا ہے ، اضافی بوجھ بجلی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے سے ہورہا ہے، یہ اضافہ بوجھ جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر بنتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوا تو آئی ایم ایف پروگرام متاثر ہوسکتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے سے 360 ارب روپے کا نقصان ہوگا ، پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس وصول نہ ہونے سے 250 ارب روپے محصولات ہوں گے، بجلی کی قیمت میں 5 روپے کمی سے 150 ارب روپے کی اضافی سبسڈی دینا پڑے گی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں