Voice of Asia News

آئینی طور پر نیا انتخاب حلقہ بندیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا، قمر زمان کائرہ

منڈی بہاالدین(وائس آ ف ایشیا) وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کا کہنا یے کہ آئینی طور پر نیا انتخاب حلقہ بندیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے منڈی بہاالدین میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پچھلی حکومت نے انتخابی قوانین میں جو ہیرا پھیری کی اسے ختم کریں گے۔جمہوریت میں مخالف دشمن سمجھنے کا رویہ نہیں چل سکتا۔پچھلی حکومت کی پالیسیوں کی ریورس کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور مزید بڑھنے کا بھی امکان ہے، عید کی چھٹیوں کی وجہ سے سپلائی مارکیٹ میں عدم استحکام رہا۔دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں معیشت کا برا حال رہا،لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے اور مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں پیٹرول کی قیمت 245 جبکہ ڈیزل کی قیمت 290 تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر رواں ماہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ایک سو دو ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے ملک کے سب سے زیادہ قرضے لئے اس کے باوجود گردشی قرضوں میں اضافے سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور ساڑھے سات ہزار میگاواٹ کے منصوبے بند کردیئے گئے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے رئیل اسٹیٹ اور انڈسٹری میں ایمنسٹی دی۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کا خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور حکومت میں معیشت ترقی کررہی تھی لیکن عمران خان معیشت میں بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں اشیاء ضروریہ کو ہم نے غریب عوام کے لئے سستا کیا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں