Voice of Asia News

پنجاب کی صوبائی کابینہ کی تشکیل مزید التواء کا شکار

لاہور (وائس آ ف ایشیا) پنجاب کی صوبائی کابینہ کی تشکیل مزید التواء کا شکار ہوگئی ہے کیوں کہ صوبائی حکومت میں پاور شیئرنگ کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی ملاقات ناگزیر وجوہات پر منسوخ کر دی گئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کی صوبائی حکومت میں اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے وفد کے درمیان لاہور میں یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر آج ملاقات ہونا تھی جو کہ ناگزیر وجوہات پر منسوخ کردی گئی ہے ۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی ملاقات ناگزیر وجوہات پر منسوخ کر دی گئی ہے ، اس حوالے بات چیت جلد ہو گی ۔دوسری طرف پنجاب کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے لاہور میں ن لیگ کے سینئر رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا ، جس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی اور صوبائی کابینہ کے ممکنہ وزراء کے ناموں پر غور کیا گیا ، مشاورتی اجلاس میں طے پایا کہ لندن میں موجود پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کابینہ کے معاملے پر مشاورت کی جائے گی اور وہاں سے گرین سگنل کے بعد ہی کابینہ کو حتمی شکل دی جائے گی اور صوبے کی نئی کابینہ میں ن لیگ کے علاوہ پیپلز پارٹی ، علیم خان گروپ ، ترین گروپ اور اسد کھوکھر گروپ کو بھی شامل کیا جائے گا ۔بتاتے چلیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز نے 30 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا یا تھا ، گورنر ہاؤس پنجاب کے سبزہ زار میں ہونے والے حلف برداری کی تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حمزہ شہباز سے عہدے کا حلف لیا ، اس دوران مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ، ن لیگی رہنماء کیپٹن ر صفدر ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سمیت وفاقی وزراء ، ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری اور مہمانوں سمیت مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد گورنر ہاؤس میں موجود تھی ، ن لیگی کارکنوں کی جانب سے اس موقع پر نعرہ بازی بھی کی گئی۔حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھانے پر فواد چوہدری کی جانب سے طنزیہ بیان سامنے آیاجس میں انہوں نے کہا کہ پولیس کی مدد سے مہمان گیلری سے خود ساختہ انتخاب کے ذریعے بننے والے عبوری ضمانت پر ایک مطلوب شخص نے گورنر ہاوس کے گراونڈ پر قبضہ کرکے ایک نجی تقریب میں حلف اٹھا کر وزیر اعلی کہلوانا شروع کر دیا ، اس عمل کو کون مانے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں