Breaking News
Voice of Asia News

 جب قوم کے محافظ ہی قاتل بن جائیں۔محمد قیصر چوہان

جب قوم کے محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام انصاف اور تحفظ کیلئے کس کے پاس جائیں؟ آئے دن سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی وڈیوز منظر عام پر آتی رہتی ہیں،جکبہ بعض اخبارات میں پولیس کی جانب سے شہریوں کے ساتھ کئے جانے ناروا سلوک کی خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں ۔پولیس کے بعض اہلکار اتنے سفاک ہیں کہ ان کے دل و دماغ پر قتل و غارت گری اور تشدد کا بھوت سوار رہتا ہے۔پولیس گردی کا تازہ ترین واقعہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اسلام آباد میں پیش آیا جہا ںتھانہ رمنا کے علاقے سیکٹر جی ٹین میں رات گئے محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی ) اہلکاروں نے ذاتی رنجش پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 کے رہائشی 22سالہ نوجوان طالبعلم اسامہ ندیم ستی کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو چھپانے کی کوشش کی تاہم نوجوان مقتول شہری اسامہ کے والدندیم یونس ستی نے پولیس کی دہشت گردی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی مشکوک لگی،نہ رُکنے پر گاڑی پر فائرنگ کی جبکہ مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کے بیٹے کی ایک روز قبل اسلام آباد پولیس کے پانچ پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر اُنہوں نے اسامہ کو مزا چکھانے کی دھمکی دی تھی،جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات2 بجے اسامہ اپنے دوست کو ایچ الیون چھوڑ کر اپنی گاڑی پر واپس آرہا تھا کہ مذکورہ پولیس اہلکاروں نے اس کی گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا اور گاڑی کو روک کر چاروں اطراف سے گاڑی پر گولیاں برسائیں جس سے اسامہ کی موت واقع ہو گئی۔
 آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان نے سی ٹی ڈی کے افسران پر ہی مشتمل ٹیم کو انکوائری سونپ دی ۔ واقعے کے خلاف لواحقین نے نعش سری نگر ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا اور دھرنا دیا ،جس میں تاجر برادری اور عام شہریوں سمیت سیکڑوں لوگ شریک ہوئے۔مقتول اسامہ کے والد نے شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا جس پر پولیس نے 5 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ، مقتول شہری کے والد کی درخواست پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہناتھاکہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دلائیں گے، پولیس میں ایسے درندوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد واقعے کا مقدمہ درج ہوگیا، جس میں ایسی دفعات لگائی گئیں ہیں کہ قاتل بچ نہیں پائیں گے، متاثرہ خاندان کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا،۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے، اہلکاروں پر سزائے موت کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔مقدمے میں مدثر اقبال ، شکیل احمد ، محمد مصطفیٰ ، سعید احمد اور افتخار احمد نامی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا۔وقوع میں ملوث تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مقتول اسامہ ندیم ستی کا پمز اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم سینئر ایم ایل او ڈاکٹر فرخ کمال نے کیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، اُس کی موت گولیاں لگنے کے5سے30منٹ بعد ہوئی، سینے پر لگنے والی گولی کی وجہ سے خون بہت زیادہ ضائع ہوا جو اُس کی وجہ موت بنا، اس گولی نے دائیں پھیپھڑے کو شدید متاثر کیا، جس کی وجہ سے پھیپھڑے میں دو لیٹر خون جمع ہوگیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ کے جسم پر زخموں کے گیارہ نشانات پائے گئے جبکہ اُس کو جسم کے 6 مختلف حصوں پر گولیاں لگیں جن میں سے پانچ آر پار ہوئیں جبکہ پوسٹ مارٹم کے دوران جسم میں سے صرف ایک گولی برآمد ہوئی، میڈیکل رپورٹ کے مطابق اسامہ ندیم کو سر، چھاتی، بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں جبکہ بائیں بازو ، دائیں کلائی اور کاندھا بھی زخمی تھا۔
پولیس گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیںہے اِس سے قبل بھی اِس طرح کے واقعات میں اور دورانِ تفتیش کئی بےگناہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ گزشتہ سال جنوری میں ہونے والا سانحہ ساہیوال اب بھی خون کے آنسو رلاتا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس ہی وہ محکمہ ہے جو دہشت گردی کیخلاف عوام کی پہلی ڈھال اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے اور عوام پولیس کے جوانوں کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں دی جانے والی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پولیس غنڈہ گردی کرتی پھرے۔ پولیس کا یہ رویہ تبدیل ہونا چاہئے، اِس ضمن میں پولیس اصلاحات وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں جبکہ عوام کو بھی پولیس اہلکاروں کیساتھ تعاون کرنا چاہئے۔
پاکستانی عوام پاکستانی سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں ہزاروں لوگوں کے لاپتا ہونے سے پریشان ہیں۔ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلوں سے کون واقف نہیں راﺅ انوار چار سنچریاں کرکے فاتحانہ انداز میں ریٹائر ہو گئے۔ رینجرز نے بھی نوجوان کو سر عام قتل کر دیا تھا لیکن ایسا کبھی کیوں نہیں ہوا کہ سیکورٹی اہلکاروں اور ایسے واقعات کے ذمے داروں کو بھی یہی سزا ملے اور اسی طرح ملے جس طرح انہوں نے بے قصور لوگوں کو قتل کیا تھا۔ لیکن مسئلہ قصور وار یا بے قسور کا نہیں ہے بلکہ قانون کی بالادستی کا ہے۔ قانون کے محافظوں کے ہاتھوں قانون کی پامالی کا ہے۔ جو لوگ جرائم پیشہ ہیں اور جرم کرنے پر پکڑے جاتے ہیں ان کے مقدمات تو برسہا برس چلتے رہتے ہیں۔ سی ٹی ڈی کے ہاتھوں ساہیوال میں بچوں کے سامنے ماں باپ کو قتل کرنے والے اہلکار طویل مقدمے کے بعد صاف بچ گئے۔ کیونکہ طویل تفتیش، مقدمے، پیشیوں اور گواہوں کے بیانات اور پیچیدہ عدالتی نظام کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ ساہیوال کا واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھا۔ پتا نہیں لوگ بھی مرے تھے یا نہیں۔ صرف کراچی میں رینجرز اہلکاروں کو سزا سنائی گئی تھی اس کے بعد کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم۔ کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے والے فوجی افسر کا کیا بنا۔ ہزاروں افراد کو کس نے لا پتا کیا ہوا ہے۔ یہ سب قانون کے محافظوں کے ہاتھوں قانون کی پامالی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سارے عمل کا ذمے دار براہ راست ملک کا وزیر داخلہ ہوتا ہے۔ شیخ رشید کی قسمت ہے یا ان کا نصیب کہ حوادث ان کا تعاقب کر رہے ہیں لیکن ان کا کمال ہے کہ ریلوے کا بڑے سے بڑا حادثہ ہو جائے یا اب وزارت داخلہ کی ماتحت پولیس کے ہاتھوں بے قصور نوجوان کا قتل وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ورنہ ہر ایک کا استعفیٰ مانگا جاتا رہا ہے۔ اگر مذکورہ گاڑی حقیقتاً ڈاکوﺅں کی ہوتی تو کیا اس کے سواروں کو بھی کسی مقدمے کے بغیر اسی طرح مار دیا جاتا۔ اصل خرابی یہ ہے کہ ہماری پولیس اور سیکورٹی ادارے وہاں فائر نہیں کھولتے جہاں کھولنا چاہیے۔ سیاہ شیشوں والی پجیرو کو دور سے سیلوٹ کرتے ہیں خواہ اس میں کوئی بھی سوار ہو۔ ان اداروں کے اہلکاروں کے سامنے ڈکیتی و قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں لیکن ان کا جواب ہوتا ہے کہ ”آڈر“ نہیں ہے۔ یہ حکم انہیں ساہیوال میں کس نے دیا تھا۔ راﺅ انوار کو کون احکامات دیتا تھا کہ ہتھکڑی بندھے ہوئے فرد کو بھی مقابلے میں مار ڈالا گیا۔ کراچی میں تو ہزاروں واقعات تیس سال سے زیادہ ہوتے رہے۔ پولیس کی موجودگی بلکہ سرکردگی میں لوگوں کو لوٹا اور قتل کیا گیا۔ قاتل حکومت میں ہوتے تھے پولیس ان کی غلام بنی ہوئی تھی۔ حکمران پولیس کا سیاسی استعمال کرتے ہیں جب پولیس کا سیاسی استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ آئی جی اور ڈی آئی جی کہاں چلے جاتے ہیں۔ جب سیاسی طور پر کسی حکم کو چیلنج کرنا ہو تو کلیم امام بھی نظر آتے ہیں اور ڈی آئی جی لاہور بھی۔ اور آئی جی سندھ بھی لیکن جب انہیں ہی سیاسی طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ کیوں استعمال ہو جاتے ہیں انہیں یعنی پولیس کے اعلیٰ افسران کو اس کے خلاف بھی اسی طرح کھڑا ہو جانا چاہیے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے افسران پیسے یا سیاست کے بل پر اعلیٰ عہدے پر پہنچتے ہیں۔ پھر اس عہدے پر برقرار رہنے کیلئے سیاسی استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ معاملہ صرف حلف کی پاسداری کا ہے۔ فوج کے جرنیل سے لے کر پولیس کے سربراہ تک رکن اسمبلی، سینیٹ اور چیئرمین وغیرہ سے لے کر وزیراعظم اور صدر مملکت تک سب اپنے حلف کی پاسداری نہیں کر رہے۔ جب اتنی اعلیٰ سطح پر حلف کی پاسداری نہیں ہے تو عام سپاہی کیونکر اپنی وردی کی لاج رکھے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پولیس کی یہ خرابی محض چند پولیس والوں کی نہیں ہے بلکہ یہ حکمرانوں کی بدنیتی کا نتیجہ ہے۔ یہ لوگ پولیس کے معاملے میں بھی وہی کرتے ہیں۔ اس پولیس کو اتنا پروفیشنل نہیں بننے دیتے کہ کل اس کا عام سپاہی انہیں بھی غیر قانونی کام پر گرفت میں لے سکے۔ ترکی میں تو فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد پولیس والے باغی فوجی افسران کو پکڑ کر لے جاتے نظر آئے تھے۔ یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ پھر ایسی پولیس کو کون برداشت کرے گا۔ یہ سارا نظام اوپر سے خراب کیا جا رہا ہے اور اوپر والے ہی کسی درجے میں بھی قانون کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب یہ رویہ ہوگا تو ایسے ہی واقعات ہوں گے۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ بظاہر دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کر دیا گیا ہے لیکن حکمرانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا یہ پھر بھی اپنی مرضی کے قانون بناتے رہیں گے اور عوام اسی جہالت کا شکار رہیں گے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ چند ماہ بعد نوجوان کے قاتل پولیس والے رہا نہیں ہو جائیں گے یا پھر اہلخانہ کو دباﺅ ڈال کر کچھ رقم لینے پر مجبور کرکے مقدمہ داخل دفتر کر دیا جائے گا۔ یہ سارے کھیل پاکستان میں دن رات ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی روک تھام کی ضرورت ہے۔پولیس کی اہلیت کا یہ حال ہے کہ اس کے سپاہی پڑھے لکھے نہیں ہیں ان کے پاس سند ہوگی لیکن سڑکوں پر بازاروں میں جو سپاہی اور اے ایس آئی تک کے ذمے دار افسر ہیں ان کی علمی استعداد بھی بہت کم ہے۔ انگریزی تو بڑی بات ہے اردو بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس میں بھرتے کیلئے معیار مقرر کیا گیا ہے لیکن جس قسم کی وارداتیں ہو رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے تو یقین نہیں آتا۔ پھر جعلی اسناد ہی کے ذریعے بھرتی ہوگی اور پیسہ چلتا ہوگا۔ اغوا برائے تاوان میں پولیس، ڈکیتیوں میں پولیس، ماورائے عدالت قتل میں پولیس ملوث پھر بھی انہیں محافظ کہا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے