Voice of Asia News

استعفوں کی تصدیق کا معاملہ ، پی ٹی آئی کا اسپیکر کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ ۔ ذرائع

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیا)پاکستان تحریک انصاف نے استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا ۔  خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا ۔اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کو خدشہ ہے کہ 2 درجن سے زائد ارکان اسپیکر کے سامنے تصدیق سے انکار کرسکتے ہیں ۔ خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو استعفوں کے معاملے پر بلانے کا فیصلہ کیا ہے ، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق رولنگ دے چکا ہوں ، استعفوں کی منظوری کا عمل جلد شروع ہو گا اور بہت جلد پی ٹی آئی کے اراکین کو بلا کر قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا جس کے لیے استعفیٰ دینے والے ارکین کو اپنے چیمبر میں بلا کر ون آن ون ملاقات کروں گا۔بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے حکم پر تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ، اس دوران تحریک انصاف کے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا معاملے پر اراکین کے استعفوں پران کے دستخطوں کی تصدیق کی جائے گی، ہر رکن کو اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفے کی تصدیق کرنا ہو گی، پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کے اراکین کے استعفوں پر ان کے دستخطوں کی تصدیق کی جا ئے گی کچھ اراکین کے استعفوں پر دستخط اور رول آف سائن پر دستخط مختلف ہیں ، ایسے اراکین کو بلا کر دستخطوں کی تصدیق کی جائے گی جب کہ دوسرے مرحلے میں ہر رکن کو اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفی کی تصدیق کرنا ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی طلبی کا نوٹس جاری ہو گا،عمران خان کو وسط مئی میں سپیکر اپنے پاس بلائیں گے،جو رکن اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر رضاکارانہ طور پر استعفی کی تصدیق نہیں کرے گا اس کا استعفی قبول نہیں ہو گا۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ قاسم سوری نے بطور قائم مقام اسپیکر پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کر لئے تھے ، قاسم سوری نے کہا تھا کہ 123 اراکین اسمبلی کے استعفے ضابطے اور رولز کے تحت منظور کیے گئے ، جس کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے استعفے منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں