Voice of Asia News

الیکشن کمیشن کو عدلیہ کے متوازی اختیارات استعمال کرنے پر نوٹس

اسلام آباد (وائس آ ف ایشیا) الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عدلیہ کے متوازی اختیارات استعمال کرنے پر نوٹس جاری کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن کے عدلیہ کے متوازی اختیارات کے خلاف درخواست کی سماعت کی ، درخواست گزار دانیال کھوکھر کی طرف سے بابر اعوان بطور وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ ملک میں 5 آئینی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ موجود ہے ، کوئی اور ریاستی ادارہ آئینی عدالتوں کی برابر ی نہیں کر سکتا ، درخواست پر فیصلے تک الیکشن کمیشن کو عدالتی اختیارات کے استعمال سے روکا جائے ، الیکشن کمیشن کا توہین پر سزا دینے اور حکم جاری کرنے کا اختیار کالعدم قرار دیا جائے ، الیکشن ایکٹ2017ء کی سیکشن 4 ، 9 اور 10 کالعدم قرار دی جائیں ۔درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا اور معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا ۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کیلئے مہلت مانگ لی ، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں جواب داخل کرا دیا ، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو منحرف ارکان کے معاملے کا جائزہ لینے اور فیصلے کیلئے 30 دن کی مہلت دی جائے تاہم لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان کی عدم دستیابی کی وجہ درخواست پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور اب درخواست پر 6 مئی کو کارروائی ہوگی۔بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سبطین خان کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگا تھا درخواست میں نشاندہی کی گئی تھی کہ تحریک انصاف نے اپنے منحرف ارکان کیخلاف کارروائی کیلئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا ہے لیکن اس پر کارروائی نہیں ہو رہی ، اس لیے عدالت الیکشن کمیشن کو منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف کارروائی کا حکم دے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں