Breaking News
Voice of Asia News

بھارت میں 50 سالہ خاتون گینگ ریپ کے بعد قتل

نئی دہلی (وائس آف ایشیا)بھارت کی ریاست اترپردیش میں 50 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر3 ملزمان نے گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا تاہم دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مغربی اترپردیش کے ضلع بدایوں میں مبینہ طور پر ایک جادوگر اور ان کے دو ساتھیوں نے 50 سالہ خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا اور قتل کیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور دو ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ میڈیا کو موصول تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون کی لاش کے گرد ان کے رشتہ دار اور گاؤں کے افراد جمع ہیں اور خون بھی نظر آرہا ہے۔خاتون کے بیٹے نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘ان کی والدہ کو وہ لوگ خود اپنی گاڑی میں لے کر آئے تھے اور جب یہاں لائے تھے تو وہ مردہ حالت میں تھیں، جادو گر اور ان کے ساتھی ان کی لاش گھر کے دروازے پر چھوڑ کر فرار ہوگئی’۔انہوں نے کہا کہ خاتون عبادت کے لیے وہاں جایا کرتی تھیں اور اس دن بھی شام 5 بجے گھر سے نکلی تھیں اور ان کی لاش رات کو ساڑھے 11 بجے لائی گئی۔بدایوں کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر یش پال سنگھ کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خاتون کے اعضا پر زخموں کے نشان ہیں اور ان کے پاؤں فریکچر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق خاتون کی موت خون زیادہ بہنے کی وجہ سے ہوئی۔بدایوں پولیس نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ گینگ ریپ اور قتل کا کیس درج کرلیا گیا ہے اور دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس سربراہ سینکالپ شرما نے بھی دو ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی اور کہا کہ مقامی پولیس اہلکاروں کے خلاف غفلت کے الزام پر کارروائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقامی تھانے کے انچارج نے کیس کے حوالے سے غفلت کی ہے اس لیے ان کی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔بھارت کی نیشنل کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کی سربراہ ریکھا شرما نے کہا کہ ایک ٹیم کو متعلقہ علاقے کی طرف روانہ کردیا گیا ہے، ہم نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور ایک رکن تحقیقات کے لیے جائے وقوع جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندان سے بات کرکے مصدقہ معلومات حاصل کی جائیں۔خیال رہے کہ اترپردیش میں گزشتہ برس کے اواخر میں دلت خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات سامنے آئے تھے اور شدید احتجاج کیا گیا تھا۔بھارت کی 20 کروڑ دلت ا?بادی کو طویل عرصے سے امتیازی سلوک اور بدسلوکی کا سامنا رہا ہے اور مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سال اوسطاً روزانہ 87 کیسز رپورٹ ہوئے تاہم بڑی تعداد میں ایسے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔بیورو نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 2019 میں خواتین کے خلاف جرائم کی تعداد میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا تھا۔بھارت میں 9 ستمبر کو 86 سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے پورے بھارت میں غم و غصہ پھیل گیا تھا اور دنیا بھر میں افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نئی دہلی کی پولیس نے 86 سالہ عمر رسیدہ خاتون کو تشدد اور ریپ کا نشانہ بنانے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔دہلی کمیشن فار ویمن کی سربراہ سواتی مالیوال کا کہنا تھا کہ ‘بزرگ خاتون پیر کی شام کو دودھ والے کا اپنے گھر کے باہر انتظار کر رہی تھیں جب ان پر حملہ کیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حملہ آور نے انہیں بتایا کہ ان کا گوالا آج نہیں آئے گا اور انہیں دودھ کے لیے دوسرے مقام پر لے جانے کی کوشش کی، خاتون نے اس شخص کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا جو انہیں قریبی کھیت میں لے گیا اور وہاں ریپ کا نشانہ بنایا’۔واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں میں ریپ کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے