Voice of Asia News

یوکرین پر روسی حملے سے پیدا ہونے والے عالمی بحران پر جی سیون وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع

برلن (وائس آ ف ایشیا) دنیا کے سات امیر ترین ممالک کے وزرائے خارجہ کا3روزہ اجلاس جرمنی میں بالٹک سمندر کے سیاحتی قصبے وائزن ہاؤس میں شروع ہو گیا، جس میں یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت، یوکرین پر روسی حملے سے پیدا ہونے والے خوراک اور توانائی کے عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے اجلاس کے لیے کینیڈا، فرانس، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ مالدووا اور یوکرین کے مہمانوں کا بھی خیر مقدم کیا۔جرمن وزیر خارجہ بیئربوک نے کہا کہ یوکرین میں جاری جنگ پہلے ہی ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 25 ملین ٹن اناج اس وقت یوکرین کی بندرگاہوںبالخصوص اوڈیسا میں بند پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین کی اناج کی برآمدات دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے لیے خوراک مہیا کرتی ہیں اور اس وقت تو افریقی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں اس کی خاص طور پر فوری ضرورت ہےاسی لیے ہم اس امر پر بات کر رہے ہیں کہ روس کی جانب سے اناج کی بندش کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے اور ہم اناج کو دنیا تک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل نے بھی خوراک کے عدم تحفظ کو مزید بڑھا دیا ہے اور بات چیت کے ایجنڈے میں یہ اہم مسئلہ بھی شامل ہے۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا بھی جی سیون اجلاس میں شریک ہیں۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت سے قبل جرمنی کی جانب سے یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کے چانسلر اولاف شولس کے فیصلے کی تعریف کی۔انہوں نے جرمن قانون سازوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ہم مثبت اور متحرک نظر آ رہے ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ اس مثبت تحریک کو برقرار رکھا جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین میں یوکرین کی شمولیت سے متعلق جو درخواست دی گئی ہے اسے جلد منظور کر لیا جائے گا تاکہ اس پر جلدعمل درآمد کیا جا سکے۔ عام طور پر اس عمل کو مکمل ہونے میں برسوں یا پھر کئی بار دہائیاں لگ جاتی ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں