Voice of Asia News

لمپی سکن اور عید قربان

  عید قربان کی آمد آمد ہے بھارت سے آنے والی جانوروں کی بیماری لمپی سکن سندھ سے ہوتی ہوئی پنجاب کے 21اضلاع میں پہنچ چکی ہے عید قربان پر کسی بھی منڈی میں بغیر سرٹیفکیٹ مویشیوں کا داخلہ نہیں ہوسکے گا اور خریدار اس بیماری سے متاثر جانور ہر گز نہ خریدیں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں اس بیماری سے اب تک 00 7 جانور متاثر ہوئے جن میں سے 550ٹھیک ہو چکے ہیں بلاشبہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں ڈیری اینڈ کیٹل فارمر ایسوسی ایشن کے چیئرمین شاکر عمر گجر کا جتنا کردار ہے شائد ہی کسی ادارے، محکمے یا فرد کا ہوشاکر عمر گجر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں جب لمپی اسکن بیماری اپنے عروج پر تھی اور سرکاری محکموں بلخصوص لائیو سٹاک والے بھی ستو پی کر سو رہے تھے اس وقت شاکر گجر ہی وہ شخص تھا جو جانوروں کی اس بیماری کے لیے بھاگ دوڑ کررہا تھا کبھی لاہور میں سوئے ہوئے افسران کو جھنجوڑ رہا تھا تو کبھی اسلام آباد کے ایوانوں میں اس بیماری کا ڈھول بجا رہا تھا سندھ کے تو گلی محلوں میں اسکا اتنا شور تھا کہ وہاں کی حکومت بھی اٹھ گئی اور افسران بھی جاگ گئے اسی طرح پنجاب میں بھی اس بیماری پر تحقیق شروع کردی گئی جسکی وجہ سے یہ بیماری کافی حد تک رک گئی شروع شروع میں اس بیماری کو محکمہ کے کام چور افسران چھپاتے رہے اگر وہ بروقت اس بیماری پر تحقیقات شروع کردیتے تو نہ صرف پنجاب کے جانور اس بیماری سے محفوظ رہتے بلکہ دوسرے صوبوں والے بھی چوکنے ہو جاتے باقی صوبوں میں بھی لائیو سٹاک کا پورا نیٹ ورک ہے مگر جس طرح کی کارکردگی پنجاب والوں کی ہے شائد ہی باقی صوبوں والے اس طرح کام کرتے ہوں اصل میں اس ادارے میں بھی باقی اداروں کی طرح مفت خور زیادہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری نوکری مل گئی ہے اب کام کرنے کی ضرورت نہیں سرکار کی گاڑی،سرکار کا پیٹرول،سرکار کا ڈرائیور سرکار کا ٹی اے ڈی اے اور سرکار کا ٹھنڈا دفتر تو جہیز میں مل ہی گیا ہے اس پر جتنی عیش کرلی جائے کم ہے ملک میں اگر یہ شعبہ ہی پوری طرح فعال ہوجائے تو ہمیں کوئی چیز ترقی سے نہیں روک سکتی ہمارے لوگوں کی غربت دور ہو سکتی ہے اور خالص دودھ ہم اپنے بچوں کو پلا سکتے ہیں مگر یہاں پر ایسے افراد موجود ہیں جنکی پانی والی ٹینکیاں بھی نوٹوں سے بھری ہوئی ہیں جنہیں گننے کے لیے مشینیں بھی جواب دیجاتی ہیں یہ صرف ایک محکمے کا ہی حال نہیں بلکہ یہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے لائیو سٹاک والوں سے ہمارے کسانوں کو بہت سی امیدیں ہیں مویشی اور اس کی مصنوعات چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی معیشت سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں یہ فعال خوراک کا ایک بڑا ذریعہ ہے دیہی اور شہری صارفین کی صحت، غذائیت اور بہبود میں نمایاں اضافہ کرتا ہے ملک بھر بلخصوص پنجاب اور سندھ میں لائیو سٹاک شعبے کی اہم اہمیت کے باوجود مجموعی ترقیاتی منصوبوں میں اس کی کامیابیوں، مسائل اور مستقبل کے امکانات پر زور نہیں دیا گیا ہے اس وقت پاکستان جیسے ملک میں مویشیوں سے متعلق ڈیٹا آسانی سے دستیاب نہیں ہے اور زیادہ تر بکھرا ہوا ہے۔ زراعت کا شعبہ پاکستان کے جی ڈی پی میں 19.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے جس میں 38.5 فیصد براہ راست افرادی قوت استعمال ہوتی ہے جو کہ آبادی کے 65-70 فیصد سے آتا ہے گزشتہ برسوں میں لائیوسٹاک زراعت میں سب سے بڑے ذیلی شعبے کے طور پر ابھرا ہے اس شعبے نے مالی سال 2021 کے دوران زرعی ویلیو ایڈیشن میں 60.1 فیصد اور جی ڈی پی میں 11.5 فیصد کا حصہ ڈالا 80 لاکھ سے زیادہ دیہی خاندان مویشیوں کی پیداوار میں مصروف ہیں اور اپنی آمدنی کا 35-40 فیصد سے زیادہ اس ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں لائیو سٹاک کی مجموعی ویلیو ایڈیشن 1,461 بلین روپے (2019-20) سے بڑھ کر 1,505 بلین روپے (2021-22) ہو گی ہے جو کہ 3.0 فیصد اضافہ ہے ہمارے دیہاتی علاقوں کی اکثریت اسی شعبہ سے وابستہ ہے جبکہ مویشی، مال مویشی یا ڈھور ڈنگر ایک یا زیادہ گھریلو جانوروں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے زرعی زبان میں مویشی وہ جز ہے جو خوراک، لحمیات یا مال برداری جیسی پیداور کے لیے مشہور ہو گو اس مقالے میں مویشی کے زمرے میں مرغبانی اور ماہی گیری کو شامل نہیں کیا گیا لیکن عام طور پر یہ دونوں جز بھی زرعی اصطلاح“مویشی“ کے زمرے میں شامل کیے جاتے ہیں مویشی پالنے کا تصور عمومی طور پر منافع کمانے سے تعلق رکھتا ہے جانوروں کی دیکھ بھال جدید زراعت کا انتہائی اہم جز تصور ہوتا ہے مویشی پالنے کی روایت تاریخ انسانی میں ہر تہذیب میں ملتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ رفتہ رفتہ جب انسان نے شکار کے ذریعے گزر بسر چھوڑی تو مویشی سدھارنے اور پالنے کی روایت نے جنم لیا ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مویشیوں کی آبادی تقریباً 65 ارب ہے جس میں مرغیاں اور مچھلیاں شامل نہیں ہیں مویشی پالنے کی روایت انتہائی قدیم تہذیبوں میں بھی ملتی ہے کسی بھی قسم کے جانور کا رہن سہن، نسل کشی اور زندگی گزارنے کا طریقہ انسانوں کے زیر دست ہو ایسے جانوروں کو مویشی یا گھریلو جانور کہا جاتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے کے طریقہ کار، گھریلو جانوروں کے رویے، نسل کشی اور جسمانی خصوصیات میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کئی جانور جو اب زرعی فارموں پر دستیاب ہیں ایک وقت میں جنگلی جانور تھے اور اب ان کا جنگل میں زندہ رہنا ناممکن ہے کتے کو تقریباً 15000 سال پہلے پالتو جانور کے طور پر اپنایا گیا تھا اسی طرح بھیڑ اور بکریوں کو ایشیا میں 8000 قبل مسیح میں گھریلو جانور کا درجہ ملا جبکہ گھوڑے کو پالتو بنانے کی روایت تقریباً 4000 قبل مسیح میں ملتی ہے تاریخ انسانی جو انگریزی لکھاریوں نے بیان کی ہے خاص طور پر بادشاہ جیمز کے زمانے میں رائج بائبل کے مطابق مویشی کی اصطلاح کھر والے جانوروں کے لیے استعمال ہوئی ہے یہ لفظ جسے انگریزی میں Cattle کہا جاتا ہے قدیم انگریزی کی اصطلاح مانی جاتی ہے جس کا مطلب ”حرکت کرنے والی زندہ جائیداد جو انسان کی ملکیت ہوں ” کے ہیں۔آخر میں حکومت سے ایک گزارش ہے کہ پارٹی بازی سے ہٹ کر ملک و قوم کی ترقی کی خاطر ایسے افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں جو کسی خاص شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ہمارا ہر شعبہ پھل اور پھول سکے لائیو سٹاک میں شاکر عمر گجر جیسے افراد کو آگے لایا جائے اور انہیں لمپی سکن جیسی موذی بیماری کے پھیلاؤ میں روک تھام پر صدارتی ایوارڈ یا تمغہ امتیاز سے نوازا جائے۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

image_pdfimage_print
شیئرکریں