Voice of Asia News

پوری نام نہاد حکومت لندن میں بیٹھی ہے:فواد چوہدری

اسلام آباد (وائس آ ف ایشیا) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پوری نام نہاد حکومت لندن میں بیٹھی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہاں روپیہ کی قیمت میں کمی ہورہی ہے اور روپیہ 193 روپے فی ڈالر پر چلا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں اور پنجاب میں پانی میسر نہیں خریف کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔انہون نے کہا ہے کہ یہ مذاق بند کریں، عبوری حکومت بنائیں اور انتخابات کرائیں۔خیال رہے کہ کاروباری ہفتہ کے پانچویں روز بھی پاکستان میں ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک روپیہ 50 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 194 روپے پر فروخت ہونے لگا جبکہ انٹر بینک میں کاروبار کے دوران ڈالر مزید ایک روپے 23 پیسے مہنگا ہو کر قیمت 193 روپے کا ہو گیا۔گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ڈالر 98 پیسے مہنگا ہوااور انٹربینک میں ڈالر 191 روپے میں فروخت ہوا، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پاکستانی 192 روپے تھی ۔کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ڈالر 98 پیسے مہنگا ہوا اور انٹربینک مارکیٹ میں 191 کے ریٹ پر فروخت ہوا۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں 412 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، 100 انڈیکس 42 ہزار 412 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔واضح رہے کہ چند روز سے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، گذشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 190 روپے 2 پیسے کے ریٹ پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر اڑھائی روپے مہنگا ہوا جس کے بعد 192 روپے پر ٹریڈ ہوا۔ گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے تیسرے دن ڈالر 190 روپے کے ریٹ پر فروخت ہوا،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 191 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔ 16 اپریل سے اب تک ڈالر 8روپے سے زائد مہنگا ہو چکا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کاروباری ہفتے کے تیسرے روز ڈالر 190 روپے کے ریٹ پر فروخت ہوا تھا۔ منگل کے روز انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 13 پیسے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کے بعد ڈالر کی قیمت 187 رپے 53 پیسے سے بڑھ کر 188 روپے 66 پیسے ہو گئی تھی۔ یادرہے کہ 16 اپریل سے اب تک ڈالر 7 روپے سے زائد مہنگا ہو چکا ہے، 16اپریل کو ڈالر181روپے 55 پیسے پرتھا، ڈالر کی قدر بڑھنے سے قرضوں کے بوجھ میں 930ارب سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔واضع رہے کہ ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ جاری، شہباز حکومت آنے کے بعد صرف ایک ماہ میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ میں تقریباً 1 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔پاکستانی روپیہ نے منگل کے روز بھی کرنسی مارکیٹ میں اپنی قدر میں بدترین گراوٹ دیکھی۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں