Voice of Asia News

بحیرہ اسود میں واقع اسنیک آئی لینڈسے دھواں اٹھنے کی سیٹلائٹ تصاویرجاری

واشنگٹن (وائس آ ف ایشیا)بحیرہ اسود میں تزویراتی نوعیت کے جزیرے اسنیک آئی لینڈمیں گذشتہ چند روز کے دوران میں روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان پھر سے لڑائی شروع ہو گئی۔ توقع ہے کہ یہ معرکہ آرائی بحیرہ اسود کے مغربی ساحل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس جزیرے کی اب نئی تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یوکرین نے گذشتہ روزاعلان میں بتایا کہ اس نے اس اہم چھوٹے جزیرے کے نزدیک روسی بحریہ کے ایک لوجسٹک جہاز کو نقصان پہنچایا۔ علاقے میں یوکرین کی عسکری انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق کارروائی میں روسی بیڑے کے ایک جدید ترین بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔امریکی سیٹلائٹ کمپنی میکسار کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دیے جانے والے دھوئیں کے کالے بادل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مذکورہ روسی جہاز پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد کی ہیں۔تصاویر میں اس جزیرے پر بعض عمارتوں کو ہونے والے نقصان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ یہ چھوٹا سا اسنیک آئی لینڈبحیرہ اسود میں ایک تزویراتی علاقہ شمار کیا جاتا ہے۔ چند ایکڑ رقبے پر مشتمل یہ جزیرہ اپنے اطراف تمام جگہاں پر حملہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں سے یوکرین کی پوری ساحلی پٹی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔یہ جزیرہ اوڈیسا شہر سے تقریبا 100 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔علاوہ ازیں یہ رومانیہ کی مرکزی بندرگاہ کونسٹانٹا سے 200 کلو میٹر اور جزیرہ نما قرم میں روس کے مرکزی فوجی اڈے سے 300 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔یہ جزیرہ جس پر ابھی تک یوکرین کی فوج کا کنٹرول ہے ، امن کے اوقات میں وسیع بحری دائرہ کار فراہم کرتا ہے اور اسے قدرتی دولت بالخصوص تیل کا مواد حاصل ہوتا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد پہلے روز سے ہی سنیک آئی لینڈیوکرین کی مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گیا۔ اس وقت سے روس اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں