Breaking News
Voice of Asia News

سائنس و ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ کی تعلیم کو فروغ دیا جائے:محمد قیصر چوہان

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور عطا کر کے اس قابل بنا دیا کہ وہ ہر چیز کو تحقیق کی نگاہ سے دیکھے اور موازنہ کرے کہ کون سی چیز کس حد تک مفید اور کارآمد ہے ۔ یا کس چیز کو کس چیز پر برتری حاصل ہے۔قلم دیکھنے میں ایک کم قیمت، جسامت اور ضخافت کے اعتبار سے کم تر نظر آرہا ہے لیکن صاحب قلم صاحب علم ہوتا ہے۔ ایک جنگجو کا ہتھیار اگر تلوار ہے تو عالم فاضل اور صاحب امر کا ہتھیار قلم ہوتا ہے۔ تاریخ میں ہمیں جن حکماء، فضلا، دانشور مصور، سائنسدان، ادیب، مصنف،شاعر، فلاسفر، ڈاکٹر اور انجینئر اور اُستاد کے نام ملتے ہیں۔ سب قلم ہی کی بدولت نامور ہوئے۔ صاحب قلم لوگ مرنے کے بعد اپنے علم کی بدولت زندہ رہتے ہیں۔ مثلاً فلاسفر اپنے اصول و خیالات چھوڑ جاتے ہیں۔ حکماء اپنے قول اور اصول و علاج و طریقہ علاج چھوڑ جاتے ہیں۔ سائنسدان اپنی ایجادات اور تحقیق چھوڑ جاتے ہیں۔ جیسے البیرونی نے روشنی پر تحقیق کی، بقراط نے علم طب چھوڑا ہے، ارسطو نے منطق سے متعلق چھ مقالات چھوڑے، جابرین حیان نے علم کیمیاء پر بائیس کتابیں چھوڑیں۔ شعراء گرامی میں میر، سودا، مومن، غالب، بہادر شاہ ظفر اور جگر کے نام قلم سے نکلے ہوئے اشعار کی بدولت زندہ ہیں۔ منصف اپنی تصانیف کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر اور انجینئر اپنی زندگی کے تجربات چھوڑ جاتے ہیں جن کی بدولت ان کی شہرت اور ان کی یاد زندہ رہتی ہے۔ اگر یہ تمام لوگ قلم کا سہارا نہ لیتے تو ان کے نام ان کے ساتھ دفن ہو جاتے اس طرح یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ سب اہل قلم تھے۔ اسی لیے ان کے نام زندہ ہیں یعنی علم کادوسرا نام قلم ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے افراد نے علم حاصل کیا۔ تحقیق و تجسس میں سرگرداں رہے۔ سائنس میں ترقی کی، تجارت، صنعت، زراعت میں ترقی کی، انجن، بجلی، جہاز، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور دیگر ایجادات میں نام پیدا کیا۔ سمندر ، زمین، آسمان، چاند، سورج کو تسخیر اور آج انسان چاند سے بھی آگے نکلتا چاہتا ہے۔ آج دریافت کر لیا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ مصنوعی انسان بنا لیا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ تو اس کا ایک جواب ہے علم اور قلم کا دوسرا نام ہے۔ دوسری طرف تلوار ہے۔ تلوار کی اہمیت بھی کم نہیں اس لیے کہ تلوار طاقت کا دوسرا نام ہے۔طاقت کی ہی بدولت ایک حکومت کرنے والے کو حکمران کہا جاتا ہے۔ طاقت سے ہی دشمن کا سرجسم سے جدا کیا جاتا ہے۔ یہی طاقت ہے۔ جس کے سہارے سکندر بادشاہ یونان سے ہندوستان تک چلاگیا اور فتح و کامرانی حاصل کی۔ تلوار کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اسے ہی طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ ایٹم بم تیار کس طرح ہوئے ان کو تلوار نے بنایا علم نے اگر انہیں علم نے بنایا ہے تو یہ سہرا پھر قلم کے سرجاتا ہے۔ قلم کے اثرات دیرپا ہیں۔ اس کے نقوش صدیوں سے محفوظ ہیں اور محفوظ رہیں گے یا یہ کہیے کہ جب تک دنیا ہے یہ اہل قلم کا ذکر ہوتا رہے گا۔ اور لوگ استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔ قلم جس کا دوسرا نام علم ہے قوموں کو مہذب بناتا ہے۔ ظلم نہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ موازنہ کے طور پر تلوارسر بھی قلم کردیتی ہے تلوار ظلم کو مار دیتی ہے۔ چنگیز خان نے تلوار سے کیاکیا؟ غرض قلم اور تلوار کا مختلف طریقوں سے جائزہ لینے کے بعد جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو قلم کو آگے پاتے ہیں۔
جب کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی خوشحالی کا جائزہ لیں تو اس کے بنیادی محرک میں تعلیم اور وہاں کا تعلیمی نظام ہی دکھائی دے گا۔ ملک کے معاشی و اقتصادی استحکام میں سائنس و ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ کے شعبوں کی اہمیت مسلمہ ہے 21 ویں صدی نے سائنس و ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ کے شعبوں کی اہمیت و افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ لہٰذا جدید سائنسی و تجارتی علوم کے حصول کے بغیر پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ جدید تعلیم و تحقیق، تخلیق اور انتظامی سرگرمیوں میں مزید وسعت لانے میں ہی مضمر ہے۔حکومت پاکستان ملک کو نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی،ٹیلی کمیونی کیشن، انجینئرنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، سول انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، الیکٹرانکس انجینئرنگ، اربن انفراسٹرکچر انجینئرنگ، انوائرمنٹل سائنسز، ریجنل پلاننگ، جغرافیہ، آرکیٹکچر، کیمسٹری، جینٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، بائیو انفارمیٹکس، میتھ میٹکس، سٹیٹیکس، فزکس، زوالوجی، کنزرویشن، سٹڈیز، ٹورازم اینڈ ہاسپٹیسلٹی، آرٹ اینڈ ڈیزائن، جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن، سائیکوجیکل، سٹڈیز، اسلامک اینڈ ریلجس سٹڈیز، پاکستان سٹڈیز، انٹرنیشنل ریلشنز، اکنامکس، اُردو، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی، بی ایڈ ایلمینٹری، ایجوکیشن، ایم ایڈ، ایم فل، پی ایچ ڈی، ایم ایڈ سائنس ایجوکیشن، ایم ایس ایجوکیشن، ایم فل فزیکل ایجوکیشن، کی تعلیم سے آراستہ کرے۔ 21 ویں صدی کے مارکیٹ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آٹو ٹیو، ایروسپیس، میڈیکل، مینوفیکچرنگ، دفاعی سسٹم اور میٹریل پراسیسنگ کے شعبہ جات میں آئی ٹی پر مبنی نئے پیداواری طریقوں کی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کے نتیجے میں میکا ٹرونکس مستقبل کی کارگر ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ میکا ٹرونکس کی اصطلاع 1969 میں سب سے پہلے جاپان میں استعمال ہوئی تھی۔ اس سے مراد مکینکس اور الیکٹرانکس کا ارغام ہے میکا ٹرونکس ایک مربوط طریقہ کار کے تحت Actuators Sensors الیکٹرانکس، کمپیوٹرز، فزیکل سسٹمز کا ایسا ملاپ ہے جس سے پیچیدہ مسائل کا ایک مربوط اور آسان حل ملتا ہے اس پورے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل مذکورہ سسٹم کا ایک مربوط انداز میں ارغام ہے جس کی وجہ سے انجینئرنگ ڈائزین کی پیچیدگی مکینکل کے شعبے میں ہٹ کر الیکٹرانکس اور کمپیوٹر کے شعبے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ آج کل میکاٹرونکس کے شعبے کو صنعتی شعبوں اور جامعات کے متنہ ماہرین مکینکل انجینئرنگ، الیکٹرانکس اور انٹیلی جنس کمپیوٹر کنٹرول کا مینو فیکچرنگ پروسیسز میں باہمی نافع ملاپ قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کے نوجوانوں میں مکینکل انجینئرنگ، الیکٹریکل انجیئنرنگ، کنٹرول سسٹم اور کمپیوٹر انجینئرنگ کی بین الشعبہ جاتی آگاہی پیدا کر کے ان تمام شعبوں کے موثر ملاپ کے قابل بتایا جائے۔ تاکہ وہ پیچیدہ اور مختلف النوع مسائل کا آسان حل نکال سکیں اور وہ اس قابل بن سکیں کہ وہ مکینکل، الیکٹریکل، کمپیوٹر اور سافٹ ویئر انجینئرنگ، ٹیکنالوجیز کے جامع استعمال سے نئی تحقیق ڈیزائن اور انٹیلی جنٹ انجینئر پروڈکٹس کا قیام عمل میں لا سکیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے